غزل
سیماب اکبرآبادی
حرم اور دیر کے کتبے وہ دیکھے جس کو فرصت ہے
یہاں حد نظر تک صرف عنوان محبت ہے
پرستار محبت کی محبت ہی شریعت ہے
کسی کو یاد کر کے آہ کر لینا عبادت ہے
جہاں وہ ہیں وہاں دل ہے جہاں وہ ہیں وہاں سب کچھ
مگر پہلے مقام دل سمجھنے کی ضرورت ہے
بگڑنا آدمی کا اور بننا پھر بگڑ جانا
یہ کس کے ہاتھ میں نبض مزاج آدمیت ہے
مقام عشق کو ہر آدمی سیمابؔ کیا سمجھے
یہ ہے ایک مرتبہ جو ماورائے آدمیت ہے
