نظم
تحریر انور محمود خان لاس اینجلس امریکہ
بدر گاہِ ذی شانِ خیر الانام شفیع الوریٰ مرجع خاص و عام
بصد عجز و منت بصد احترام یہ کرتا ہے عرض آپ کا اِک غلام
کہ اے شاہ کونین عالی مقام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
اندھیری حرا میں مسلسل عبادت وہ شوق ریاضت کہ جسکی حلاوت
کہ نشہ ور ثابت ہوئی بالبداہت کہ فرشتے بھی کہنے لگے ربّ العزت
یہ عاشق سراپا محمد جسکا نام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
فرشتہ جب اللہ کا پیغام لایا کہا اس نے ہوں میں اُمی خدایا
مگر اک معانقے سے اس نے بڑھایا سنایا سکھایا پڑھایا دھرایا
ہوا یوں بالآخر شرع کا قیام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
سناجب خدیجہ نے یہ پیارا کلام بنیں اس پر شاہد ناطق تمام
سنا یا ورقہ کو یہ دلش پیام کہا مثل بے یہ موسیٰ کا جام
مقدر یہ ضرور بالانصرام مہاجر بنائیں گے تجھ کو سارے تمام
خدا الیکن ناصر رہے گا مدام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
ہوئے اہل مکہ جب دشمن تمام کیا اس نے رُخ برائے طائف مقام
ہوئے سنگر بر ہم وہاں کے مکین سنگ باری سے اسکا کیا انتقام
نہ دینا سزا اور نہ دینا عذاب یہ دھائی تھی اسکی محمد اس کا نام
لیا ظلم کا عفو سے انتقام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
کیا پیش اس نے عورت کا اصلی مقام نہ ملتی ہے صدیوں میں اس کی مثال
دکھاؤ کوئی مرد دنیا کی تاریخ میں دیا جس نے عورت کو وہ عالی مقام
بنی ماں تو رکھی جنت اس کی دہلیز میں کھلا کر لقمہ بیوی کو پائی شوہر نے نجات
اگر قسمت سے ہوئی ایک بیٹی عطا یہ ضامن ہے جنت کی کر واہتمام
سکھایا محمد نے ہمیں احترام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
اعادہ کریں ان سارے اعمال کا رہا جن میں محمد کا اوّل مقام
وہ الکسوہ پر سواری کا دلچسپ منظر بتایا صفیہ کو نیا دستور العمل
سکھایا Lady’s First کا پہلا پیام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
مٹایارنگ و نسل کا یکسر امتیاز دیا بلال کو قومی علم بصد اعزاز
کیا قائم اس نے ایسے انصاف کو نہ ملتی مثل جس کی دیکھو تاریخ میں
اگر فاطمہ سرقہ کرتی تو پاتی سزا رہے گا یہ فقرہ زندہ سدا
نہ پاؤ گے ایسی تعلیم بجز اسلام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
سنایا یہ مردہ اس نے عباس کو ہے سوداب حرام میں کرتا ہوں معاف
اُدھر رندوں نے توڑ دیے سب جام سنا ہے کہ مے شرعیت نے کر دی حرام
غلامی کا اس نے کیا خاتمہ کیا زید کو اس نے غلامی سے آزاد
کیا اپنے اسوہ سے شرع کا قیام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
ہے سب مغربی طاقتوں کی تاسیس یاد ہوئی شامل آزادیٔ مذہب ان کے دستور میں
مگر یاد رکھو 630 کی وہ پہلی منادی کہ انسان سب سے بڑا کا اعلانِ عام
نہ اعلیٰ عرب ہے نہ ادنیٰ عجم نہ گورا ہے بر تر نہ کمتر سیاہ فام
بلند کی صد اچار دانگ عالم میں عام
عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام
