غزل
ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
دل کے صحرا کو یوں گلزار بنائے رکھا
تیری یادوں سے سدا دل کو سجائے رکھا ۔
زندگی یوں بھی ترا ساتھ نبھایا ہم نے
روٹھ کر بھی تجھے محبوب بنائے رکھا۔
تیری تصویر ہے رکھی کہیں تحریر تری
اور دل میں نہیں کچھ اس کے سوائے رکھا۔
زندگی کے لئے دن رات کلیجہ پھونکا
زندگی بھر یوں ہی سگریٹ جلائے رکھا۔
میرے اپنے مجھے اپنا نہیں ہونے دیتے
سب نے مل کر مجھے کشمیر بنائے رکھا۔
تیری یادیں جو مچاتی رہیں دل میں ہلچل
شور دل نے بھی شب و روز مچائے رکھا۔
ایک دن یار وہی جان کا دشمن نکلا۔
عمر بھر جس کو دل و جان بنائے
رکھا۔
بعد مدت کے جو لوٹا تو مری ماں نے مجھے
دیر تک سامنے بس یوں ہی بٹھائے رکھا۔
سب نے فیاض اسے گھر سے نکالا اک دن
بوجھ کنبے کا سدا جس نے اٹھائے رکھا۔

