Pakistan

صحافت آسان کام نہیں

Share your Love

تحریر:سلمان احمد قریشی

 صحافی معاشرے کا کلیدی کردار ہے۔آج کے دور میں صحافت کے وجود اور فعالیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن عام آدمی شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کے مسائل سے مکمل آگاہ نہیں۔ ایک صحافی کن مشکلات کا شکار ہے اس کا ادراک نہیں۔ صحافی سے بس یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہے۔ صحافت کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔اس شعبہ سے منسلک افراد کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنی کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ باخبر رکھنے والے سے عام آدمی کتنے باخبر ہیں۔۔؟
ٹیلی وژن سکر ین اور اخبارات کے صفحات پر نظر آنے وال چند چہرے یا نام،صحافت کا مکمل تعارف نہیںہوسکتے۔سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں فیلڈ رپورٹرز ہمہ وقت معاشرہ میں جاری سرگرمیوں کو براہ راست عام آدمی تک پہنچانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ گمنام ہیرو جو حقائق کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہتے ہیں ملکی سطح پر شناخت نہیں رکھتے۔ ایسے میں ان کے مسائل کا حل تو ایک طرف تذکرہ بھی نہیں ہوتا۔ ان گمنام ہیروز کو مقامی صحافی کہا جاتا ہے مقامی صحافیوں کی  اکثریت فری لانسر ہے۔جو صحافتی تعلیم اورٹریننگ کے حوالہ سے مقررہ معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بس ایک جذبہ ہے جنون ہے، اپنے حقوق سے بے خبر عوام الناس کو باخبر رکھنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ میڈیا ہاوسز کے ہیڈ آفس یا بیورو آفس سے منسلک چند صحافی واجبی سی تنخواہ پر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ٹیلی وژن سکرین پر نظر آنے والے اینکرز لاکھوں میں تنخواہیں لے رہے ہیں جو فیلڈ رپورٹرز کی بھیجی جانے والی خبروں پر تبصرہ یا ٹاک شوز میں سیاسی ایشوز پر رائے زنی کرتے ہیں۔ یہ رائے ذہن سازی کے لیے پیش کی جاتی ہے یا حقائق کو بہتر انداز میں سامنے لانے کے لیے، اس پر دو آراء ہیں۔ میڈیا پر دیگر اعتراضات کے ساتھ آپ پر میک اینڈ بریک کا کردار ادا کرنے کا الزام بھی عائد ہوتا ہے۔ فیلڈ رپورٹر تو میک اور بریک کی پوزیشن میں نہیں وہ خطرات کی زد میں ہوتا ہے۔جو چہرے سکرین پر چہکتے ہیں انکے الفاظ دہکتے ہیں وہ ایسا کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کردار نوازے بھی جاتے ہیں اور انکو مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے راستہ یہ بھی کٹھن ہے۔
قارئین کرام!ارشد شریف ایک بہترین تحقیقی صحافی تھا خبر کو بہتر اور موثر انداز میں سامنے لاتا تھا گفتگو کرنے کا سیلقہ جانتا تھا۔ صحافت کی ایک توانا آواز خاموش ہوگئی، اسکے محرکات کیا تھے، ارشد شریف کو موت کی وادی تک کس نے پہنچایا، وہ بہترین خدمات انجام دینے کے باوجود بے روزگار کیوں ہوا۔۔۔؟ اسکے ساتھ کیا ہوا یہ سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے لیکن ارشد شریف کی آواز اب سنائی نہیں دے گی۔ صدف نعیم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ صحافی کن مشکلات کا شکار ہیں سب کے سامنے آچکا ہے۔ ہمدردی کے کلمات اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا لیکن صحافی کے لیے کام کے آزاد ماحول کا میسر آنا ابھی خواہش ہی ہے۔ صحافت کی بنیادی شرط اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ ستم ظریفی وطنِ عزیز میں مخالف رائے کا احترام تو ایک طرف اسے برداشت کرنے کا کلچر بھی نہیں۔حکومتیں ہمیشہ میڈیا سے خائف رہتیں ہیں۔آج  سیاست جو ڈائیلاک کا نام ہے اس میدان میں بھی صرف بیانیے چلتے ہیں۔ مخالف بیانیے اور اسکا پرچار یا اس سے اتفاق کرنے والے سوشل میڈیا پر تذلیل و تحقیر کا شکار رہتے ہیں۔ علاقائی صحافی تو ریاستی مشینری کے ساتھ سماجی اور معاشی دباو کا بھی شکار ہیں۔ مقامی صحافت ڈی سی اور ڈی پی او کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔ علاقائی با اثر سیاسی شخصیات مقامی صحافیوں کو اداروں سے فارغ کروانے اور انہیں منسلک کروانے کی طاقت بھی رکھتی ہیں۔فیلڈ رپورٹر کلمہ حق بلند کرنے کی جرأت کرتا ہے تو ناظم جوکھیو والا انجام بھی ہوتا ہے۔ شدت پسند تنظیمیں صحافیوں کو کھلے عام دھمکیاں دیتی آئی ہیں۔ خبر دینے والے خود خبر بن جاتے ہیں مذمتی بیانات ایک آدھ تقریب پھر معاملہ اور حالات نارمل ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کے مارچ کے آغاز سے قبل ارشد شریف اور پھر صدف نعیم دو ایسے نام جن کا خون اس سیاست اور وطن کی بنیادوں میں آبکاری کر گیا۔اس کے ساتھ ہی عمران خان پر حملہ ہوتا ہے اب اس تکلیف دہ واقعہ پر کوئی تحقیق کر کے کیا خبر دے یا رائے کا اظہار کرے آج کے ماحول میں کوئی پی ٹی آئی کے موقف کے خلاف نہیں جا سکتا۔ اس لیے ہم نے اس پر رائے دینے سے اجتناب ہی کیا۔ اس حملہ کا ایک اور پہلو جو ہمارے ضمیروں کو جگانے کے لیے کافی ہے وہ معظم گوندل کی ہلاکت ہے۔گولیاں چلیں لوگ جان بچا کر بھاگے۔ عمران خان زخمی ہوئے اور ملک میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا لیکن بچوں کے باپ 35 سالہ معظم نواز گوندل کو گولی لگی وہ جاں بحق ہو گیا اس کے معصوم بچے باپ کو پکارتے وہیں اسکی لاش کے پاس کھڑے روتے رہے۔میڈیا عمران خان کو کوریج دیتا رہا۔ پی ٹی آئی کے رہنماوں کے بیانات چلتے رہے۔ حکومتی وزرا بھی اپنی بات کرتے رہے۔لاش کے پاس کھڑے بچے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ذمہ داری تھے یتیم ہو گئے بے سہارا ہو گئے انکی طرف ہماری توجہ ہی نہیں گئی۔ عمران خان نہیں بھٹو شہید اور بی بی شہید کے ساتھ کتنے پاکستانیوں نے قربانیاں دیں آج کِتنوں کے نام ہمیں یاد ہیں۔ لیڈر بِلاشبہ قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں لیکن معصوم شہری بھی تو سرمایہ ہیں۔ ہمیں کسی سے گلہ نہیں ہم صرف ان تلخ حقائق کو بیان کرنا اس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ صحافی سے توقعات وابستہ کرتے وقت زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھیں۔ کسی بھی سیاسی تحریک کی قیمت عام پاکستانی صحافی اور فورسسز سے وابستہ افراد بھی ادا کرتے ہیں۔لیکن ہم لیڈروں کے نعرے ہی مارتے رہتے ہیں۔ عہدے بھی ملتے ہیں لیکن میڈیا پرسنز کے لیے کوئی مراعات نہیں کوئی وظیفہ نہیں پنشن نہیں شہید کا رتبہ نہیں جبکہ مخالفت اور خطرات سب سے زیادہ انہیں کو ہوتا ہے، ایسا کب تک چلے گا اور ایسا کیسے چلتا رہے گا۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ گمنام ہیروز بھی ہماری توجہ کے حقدار ہیں۔میڈیا تنقید کرتا ہے تو خود تنقید تحضیک کا نشانہ بنتا ہے۔آج تو ادارے بھی نشانہ پر ہیں۔ جس کا خود من کرتا ہے کہتا جارہا ہے۔ہم اجتماعی طور پر تقسیم کا شکار ہیں۔اصول اور ضابطہ کو خاطر میں نہیں لاتے۔طاقتور سب کچھ کرگزرنے کی خواہش پر کاربند ہیں۔
اصلاح احوال تبھی ممکن ہے جب قانون کی بالادستی ہوگی۔ کسی بھی واقعہ پر تحقیق اورتفتیش کے بعد عدالت کے فیصلوں کا احترام کیا جائے گا۔ صحافی کو بطور صحافی ہی دیکھا جائے۔ ایک صحافی سپر مین نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ترجمان بن کر اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ صحافی اور عام شہریوں کی عزت جان و مال کو اتنی ہی اہمیت ملنی چاہئیے جتنی وی آئی پی شخصیات اپنا حق سمجھتی ہیں ۔لوگوں کو حق بات بھی وہ پسند ہے جوانکے حق میںہو۔معاشرہ کی بقا قانون کی بالادستی سے ہی منسلک ہے

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *