Pakistan

کیا جنرل مشرف نے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنوائی تھیں؟

Share your Love

تحریر:قسمت خان

آج سے 15برس قبل برطانوی اخبار ”دی ٹائمز“ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیاگیاتھا کہ جنرل مشرف کی فوجی حکومت نے اپنے حق میں فیصلے کرانے کیلئے سپریم کورٹ کے ججوں اورانکے بچوں کی قابلِ اعتراض حالت میں خفیہ ویڈیوزبنا کر انہیں بلیک میل کیاتھا۔دی ٹائمز کے دعویٰ کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں اوران کے بچوں کی قابلِ اعتراض حالت میں ان ویڈیوز کو پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس نے ریکارڈ کیاتھا اوریہ سب گندی چالوں والی مہم کا حصہ تھیں۔

جنرل مشرف حکومت بارے یہ دعویٰ دی ٹائمز 2007  میں کیاتھا۔ برطانوی اخبار کی اس رپورٹ کو ماضی میں کئی بار پاکستانی میڈیا کی جانب سے بھی شائع کیاجاچکا ہے۔ اس کے علاوہ کئی خبروں میں برطانوی اخبار کی اس رپورٹ کے حوالے بھی دئے جا چکے ہیں۔

Newslinemagzine’ report of 2019 referred to The Times Report of 2007

دی ٹائمز کی رپورٹ میں ہونیوالے انکشافات
برطانوی اخبار’دی ٹائمز‘ نے پاکستانی سپریم کورٹ کے ججوں کو بلیک میل کرنے کے دعویٰ سے متعلق خبر کو جنرل مشرف حکومت کی تین نومبر2007ء کی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد شائع کیاتھا۔

UK’ Newspaper The Times report which describes how Gen. Musharraf blackmailed SC Judges through their secretly filmed videos

برطانوی اخبار کے دعویٰ کے مطابق پاکستان کی فوجی حکومت اور انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کو نازیبا ویڈیوزدکھا کر انہیں اس وقت بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی جب سپریم کورٹ کے11جج صاحبان اس بات کا فیصلہ کرنے میں مصروف تھے کہ کیا مشرف فوجی وردی میں ہوتے ہوئے صدارتی الیکشن لڑنے کے اہل تھے یا نہیں۔

برطانوی اخبار کی جانب سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ انٹیلی جنس حکام نے مشرف کیس سننے والے ججوں میں سے تین ججوں کوانکی نازیبا ریکارڈ شدہ ویڈیوز بھیجی تھیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’بطورآرمی چیف مشرف کے صدارتی الیکشن لڑنے کی اہلیت بارے فیصلہ کرنے والے گیارہ میں سے تین ججوں کو ستمبر2007ء میں ویڈیوزبھیجی گئیں۔ ایک ویڈیو میں ایک جج اپنی نوجوان مِسٹریس کے ساتھ تھے جبکہ ایک اورویڈیو ایک جج کی بیٹی کی تھی۔

برطانوی اخبار کے مطابق ایک برطانوی بیرسٹر،جنہیں اپنے ہم عصر کی جانب سے ان ویڈیوز سے متعلق بتایا گیا تھا کہ جانب سے کہاگیا کہ ’ججوں کیلئے واضح پیغام تھا کہ اگر آپ غلط فیصلہ دوگے تو ان ویڈیوز کو پبلک کر دیاجائے گا اور آپ کی فیملی تباہ ہوجائے گی۔‘

اخبار کی رپورٹ میں حکومتی اورسپریم کورٹ ذرائع کے حوالے سے مزید کہاگیاتھا کہ’ایمرجنسی کے نفاذ سے چند ہفتے قبل ججوں کیخلاف ’کمپرومائزنگ شواہد‘ اکٹھاکرنے کیلئے خفیہ کیمروں کا استعمال ہورہا تھا۔‘

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ’ایک خاتون،جس کا سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ افیئر تھا،کی فیملی نے کہاکہ وہ یہ جان کرالمیے میں تھے کہ انکی خاتون کے تعلقات ریکارڈ کرلئے گئے تھے۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں عدالتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ’کئی جج حضرات ایسے نجی کلائنٹس،جنہیں وہ قانونی مشاورت سے نوازچکے تھے،کی جانب سے طوائفوں کی آمد کو ادائیگی کی وصولی کی شکل میں لے رہے تھے۔

برطانوی اخبار کے مطابق ایک عدالتی سورس کی جانب سے کہاگیا کہ’آئی ایس آئی لڑکیاں بھیج رہی تھی جبکہ جج حضرات یہ جانے بغیر مزے لے رہے تھے کہ انہیں فلمایاجارہا ہے۔اب ان کے پاس کئی ججوں کی ویڈیوزہیں۔“

دی ٹائمز کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ’ان گندی چالوں کی مہم سے باخبر ایک فوجی سورس نے بتایا کہ یہ چالیں ناکام ہوچکی ہیں۔اس کی جانب سے کہاگیا کہ’انہوں نے ججوں کو بلیک میل کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی لیکن جب عدلیہ کو عوامی حمایت ملی تو یہ نئی آکسیجن کے حصول جیسی تھی۔‘

اخبارکی رپورٹ کے مطابق ایک مغربی سفارتکار کی جانب سے کہاگیا کہ جب جج مشرف کے کیس کو سن رہے تھے تو انٹیلی جنس حکام نے ان سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ججوں پر دباؤ ڈالا۔مغربی سفارتکار کے مطابق ’انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا کہ فیصلہ صدرمشرف کیخلاف آنیوالاتھا لیکن مجھے انکے انٹیلی جنس کام پر سنگین شبہات ہیں۔

ججوں کا مبہم فیصلہ
برطانوی اخبار کے مطابق اس کے بعد ججوں نے ایک مبہم فیصلہ دیا اورمشرف کو منتخب ہونے کی اجازت دے دی تاہم ساتھ یہ قراردے دیا کہ وہ اس کی اہلیت پر بعد میں فیصلہ کریں گے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس خوف کی بنیاد پر کہ فیصلہ اسکے خلاف آئے گا،مشرف نے تین نومبر2007ء کو ایمرجنسی لگا دی تھی۔رپورٹ میں مزیدکہاگیا تھا کہ ’اگرچہ مشرف نے دعویٰ کیاتھا کہ اس نے شدت پسندوں کے ملک پر قبضے کو روکنے کیلئے یہ اقدام اٹھایاتھا تاہم اس کا بنیادی ہدف عدلیہ لگ رہی تھی۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشرف حکومت نے کوئی جہادی رہنما تو گرفتار نہیں کئے تاہم چیف جسٹس افتخارچوہدری کو برطرف کر دیا،سپریم کورٹ کے 11میں سے8ججوں کو برطرف کر دیا اور آئین کو بھی اڑا دیا۔

دی ٹائمز کیخلاف کارروائی کی گئی؟
سات جولائی2019ء کو دی نیوز اخبار کے صحافی انصار عباسی نے برطانوی اخبار کی اس رپورٹ کے مندرجات پر اسٹوری دی تھی۔ انصار عباسی کی اس خبرکا عنوان تھا:کیا2007ء میں سپریم کورٹ ججوں کو بلیک میل کیاگیاتھا؟

Contents of The Times’ 2007 Report were produced by The News report of Senior Journalist Ansar Abbasi in July, 2019.

اس کے علاوہ دیگر کئی اسٹوریز میں برطانوی اخبار کی اس رپورٹ کو شائع کیاگیا جاچکا ہے مگر آج تک پاکستانی اداروں کیخلاف سنگین الزامات عائد کرنیوالی اس رپورٹ پر طاقتور حلقوں کی جانب سے برطانوی اخبار’ڈی ٹائمز‘ کیخلاف کوئی کیس دائرنہیں کیاگیا۔

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *