غزل
ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ)
انڈیا
رویا ہے دل کبھی تو کبھی چشم تر سے ہم
گزرے ہیں جب بھی یار تری رہگزر سے ہم۔
جس کے سبب تمام عمر بیمار سے رہے
لیتے رہے دوا بھی اسی چارہ گر سے ہم۔
ساقی ! ہٹا شراب یہ جام و سبو ہٹا
سیراب ہوں گے آج بھی تیری نظر سے ہم۔
حیرت زدہ تھے یار کسی کو یقیں نہ تھا
کیسے نکل کے آ گئے آخر بھنور سے ہم۔
اپنی خوشی سے کون نکلتا ہے یوں میاں
گھر کی خوشی کے واسطے نکلے ہیں گھر سے ہم۔
مشہور ہیں جو شہر میں حاطم سخی بہت
لوٹے ہیں نامراد سدا ان کے در سے ہم۔
ظالم کے ساتھ زندگی دشوار تھی مگر
آسان کر گئے اسے اپنے ہنر سے ہم۔
خود سر جو ہم رہے یہ خودی کا کمال ہے
مرعوب ہو سکے نہ کبھی مال و زر سے ہم۔
فیاض جانے کس کی ہمیں بد دعا لگی
پھرتے رہے تمام عمر در بدر سے ہم ۔
