غزل
محمد علی عمران کو جہانِ سخن میں علی شیران کے نام سے پہچان ملی۔ اس نوجوان شاعر کا تعلق پاکستان کے ضلع جھنگ کی تحصیل شور کوٹ سے ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی میں اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کرنے والے علی شیران نے نظمیں بھی کہی ہیں، لیکن ان کی وجہِ شہرت غزل ہے۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن اور سرگودھا یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔ اے کیا اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کی چند غزلیں باذوق قارئین کی نذر ہیں۔
غزل
مرے سپرد کیا ہے نہ خود لیا ہے مجھے
کسی نے حیرتِ امکاں میں رکھ دیا ہے مجھے
بچا نہیں میں ذرا بھی بدن کے برتن میں
ترے خیال نے بے ساختہ پیا ہے مجھے
تو ایک شخص ہے لیکن تری محبّت میں
دل و دماغ نے تقسیم کر دیا ہے مجھے
جدائی، رنج، اداسی، اندھیرا، خوف، گھٹن
ہر ایک یار نے دل کھول کر جیا ہے مجھے
تمہارے بعد نہیں اب کسی کی گنجائش
کہ تم نے اتنا محبت سے بھر دیا ہے مجھے
