Pakistan

بھارتی سیاستدان جرنیلوں کے پیچھے

تحریر:ڈاکٹر طارق احمد مرزا

صاحبو،تازہ ترین خلاصہ تحقیق یہ ہے کہ بھارتی سیاستدان اپنے جرنیلوں کے پیچھے دُم ہلاتے کبھی نہیں جاتے۔ وہ دُم کیوں نہیں ہلاتے؟۔اس لیئے نہیں ہلاتے کہ وہ دُم والی مخلوق ہیں ہی نہیں۔ جبکہ بدقسمتی سے اپنے وطن عزیز کا سب سےبڑا مسئلہ یہی چلا آ رہا ہے۔

شاید نوجوان نسل میں سے کچھ کو میری یہ بات سمجھنے میں دشواری محسوس ہو رہی ہو،لہٰذہ ان کے علم میں اضافہ کرنے اور بھولے ہوؤں کو یاددلانے کے لئے یہ تاریخی حقیقت بیان کرتا چلوں کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے ایک خودساختہ داعی اور سابق آرمی ڈکٹیٹرجنرل ضیاء الحق نے اپنے مارشل لاء کے ابتدائی ایام میں مبینہ طور پر یہ بات کہی تھی کہ “میں اشارہ کروں تو یہ سب جغادری سیاستدان دم ہلاتے میرے پیچھے پیچھے آئیں گے !”۔

یہاں یہ یاد دلانا بھی نامناسب نہ ہوگا کہ “نظام مصطفیٰ ” کے یہ مذعومہ داعی،”اسلامی نظام اور اسلامی سوشلزم” (یعنی ‘اسلامک ٹچ’ والے سوشلزم)  کے ایک اور داعی یعنی ذوالفقارعلی بھٹوکا تختہ الٹ کرملک خداداد کے سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے تھے۔

واضح رہے کہ یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے فخریہ طورپر اپنے ہی دیئے ہوئےآئین پاکستان کوآلہ تکفیرمیں بدلنے کا “اعزاز” حاصل کیا تھا۔ کوئی تین چار ہفتہ قبل مجھے بیرسٹرچوہدری اعتزازاحسن صاحب کی یادداشت کھو جانے پربڑا افسوس ہوا تھا جب انہوں نے فرمایا کہ وہ پیپلز پارٹی کو اس لیئے نہیں چھوڑ سکتے کہ یہ ملک کی تین بڑی پارٹیوں میں سے واحد جماعت ہے جو سیاست میں مذہب کا کارڈ کبھی استعمال نہیں کرتی!۔دعا ہے کہ چوہدری صاحب کی یادداشت جلدازجلد بحال ہو جائے۔آمین۔

بات کہیں سے کہیں نکلتی جارہی ہے،آمدم برسرمطلب ،جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی زبان زدخاص وعام الوداعی تقریر کی ریکارڈنگ سننے کا موقع ملا،جو موصوف نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی ۔

اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ “میں کافی سالوں سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہندوستانی فوج کرتی ہے لیکن ان کی عوام کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، اس کے برعکس ہماری فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے گاہے  بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے، اس لیے پچھلے سال فروری میں فوج نے بڑی سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی”۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے تاہم اس آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بناکر بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا، فوج پر تنقید عوام اور سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے”۔

محترم باجوہ صاحب آپ نے اپنی تقریر میں بہت عاجزی اور انکساری سے کام لیا،سیاست میں مداخلت کا سارا ملبہ فوج پہ ڈال دیا۔آپ نے ہندوستان کو بطور ماڈل منتخب کرنا ہی تھا تو وہاں کے سیاستدانوں کا نمونہ بھی تو دیکھنا اور بتانا تھا کہ انہوں نے کبھی بیک ڈوربارگیننگ اور جوڑتوڑ کا راستہ اختیار کرکے محض اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہندوستانی فوج کو مارشل لاء لگانے کی دعوت نہیں دی۔ وہاں ایسا کوئی تانگے کی سواریوں جتنی پارٹی کا چہیتا سربراہ یا اسمبلی میں ایک سیٹ کا حامل “لیڈر”موجود نہیں جو ہر ڈھائی تین سال بعداپنی تقریروں میں “فروری میں مارچ اور مارچ میں ڈبل مارچ”ہوتا دیکھنے کے شرشریاں چھوڑتا ہو۔نہ ہی کوئی خود کو فخریہ کسی “گیٹ نمبر چار کا منشی” قراردیتا ہو۔

نہ ہی ہندوستان میں کوئی ایسا “بزرگ ” سیاستدان آج تک پیدا ہوا جو فوج کو متنازعہ اور ذومعنی قسم کا خط لکھ کر پوری قوم کو ایک اضطراب میں مبتلا کرگیا ہو۔

وہاں کسی جرنیل کے اشارے پہ دمیں ہلانے والے سیاستدان ہیں ہی نہیں کہ کوئی جرنیل انہیں اشارہ کرنے کے گناہِ بے لذت کا سوچ بھی سکے۔

جی ہاں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے نزدیک ماضی میں کچھ جرنیلوں کی زبانوں کو جمہوریت کےخون کی چاٹ لگوانے میں پاکستانی سیاستدانوں کا ہی بڑا ہاتھ ہے۔

اب تو دم ہلانے والوں کو اس کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ کچھ عرصہ سے”اشارہ” نہ ہونے پر کچھ توباؤلے ہوتے گلی گلی چوک چوک غراتے دندناتےپھررہے ہیں اور کچھ چارنمبر گیٹ کے باہر اس امید میں آنکھیں موندے لمبے لمبے لیٹے ہوئے ہیں کہ ایک دن پرانے مالکوں کو خود ہی ان پر ترس آجائے گا۔

حیف صدحیف،افسوس صدافسوس،ماتم صد ماتم ،آج قیام پاکستان کے پچھتر سال بعد ہمیں ہمارے “دشمن “ملک ہندوستان کو  بطور رول ماڈل دیکھنا اور دکھانا پڑ رہا ہے جوآج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طورپر جانی جاتی ہے۔

بہرحال خیرکی بات کہیں سے بھی مل جائے تو بلا تاخیر اوربغیر شرمائے اسے اپنا لینا اچھا ہی ہوتا ہے۔

اس کے لئےہمارے پرانے اور نئے، سبھی سیاستدانوں اوران کے مشیروں اور گماشتوں کو اپنے قول اور فعل سے فوجی آمرضیاء الحق کی ان کے بارہ میں کہی گئی بات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *