آسٹریلیا: نئی امریکی سفیرکی تقرری پر عوام خوش کیوں ؟
تحریر:ڈاکٹرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا
دنیا کے مختلف ممالک میں غیرملکی سفیروں کی تقرری ایک معمول کی بات ہے۔اکثر سفراء اپنی سرگرمیوں کو پیشہ ورانہ ڈپلومیٹک حدود کے اندر رکھتے ہیں،اکثر کے بارہ میں تو عوام کو معلومات بھی نہیں ہوتیں کہ کون آیا اور کون گیا اور نہ ہی انہیں اس بارہ میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے،لیکن رواں سال 2022 کے آغاز میں جب آسٹریلوی حکومت کی طرف سے نئی امریکی سفیر کے نام کا اعلان کیا گیا تو عوام نے بڑی خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور پورے ملک میں یہ خبر بڑی دلچسپی اور اہمیت کے ساتھ سنی گئی۔
اس کی وجہ یہ بنی کہ نئی امریکی سفیر اور کوئی نہیں بلکہ محترمہ کیرولائن کینیڈی ہیں جو آنجہانی سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی صاحبزادی اور اپنے والدین کی اس وقت واحد زندہ اولاد ہیں۔واضح رہے کہ آپ کی پہچان محض آپ کا یکے از “کینیڈی” ہونا ہی نہیں بلکہ آپ ایک لائق ڈپلومیٹ،اٹارنی،سوشل ورکر،اور مصنفہ ہیں۔
1963 میں جب آپ کے والد جان ایف کینیڈی کو گولی مار کر قتل کیا گیا اس وقت آپ کی عمرتقریباً 6 برس تھی۔
اس سانحہ کے بعد آپ اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ ریاست مین ہیٹن منتقل ہو گئیں اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔آپ نے ہاورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر کولمبیا لاء سکول سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
کیرولائن کو اپنی زندگی میں کئی خاندانی صدمات کا سامنا کرنا پڑا۔آپ کے والد دن دیہاڑے قتل ہوئے،آپ کے بھائی بھابی اور ان کی بہن طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔خود آپ جبکہ نیویارک کے میوزیم آف آرٹ میں بطور کنسلٹنٹ کام کررہی تھیں تو ایک نامعلوم شخص نے آپ کو دھمکی دی کہ اس نے میوزیم میں ایک بم نصب کردیا ہے اور وہ اس کا بٹن دبا کر انہیں جان سے مار دے گا۔ لیکن یہ محض دھمکی ہی ثابت ہوئی۔
1968 میں آپ کے چچا رابرٹ ایف کینیڈی کو بھی ان کی صدارتی مہم کے دوران گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ان کے ایک بیٹے 1984 میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے جس کی وجہ مبینہ طورپر بڑی مقدار میں کسی دوا کا استعمال تھا۔اسی طرح ان کے دوسرے بیٹے 1997 میں اسکیینگ کے ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
اس خاندان میں تیسری بلکہ چوتھی نسل میں بھی حادثاتی اموات رونما ہوئی ہیں اور عموماً کہا جاتا ہے کہ کینیڈی خاندان کو کسی کی بددعالگی ہوئی ہے۔ لیکن یہ محض توہمات ہیں۔
1986 میں محترمہ کیرولائن صاحبہ کی شادی اپنے ایک کولیگ ایڈون شلوسبرگ سے ہوئی لیکن آپ نے اپنے نام کے ساتھ اپنی ولدیت یعنی کینیڈی کو نہیں ہٹایا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے والد کے نام کو زندہ رکھنا چاہتی تھیں اور اپنی خاندانی شناخت اور روایات کو بھی۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے اپنے تینوں بچوں کے نام کے ساتھ ان کی ولدیت یعنی شلوسبرگ کے ساتھ ان کے نانا کانام بھی برقرار رکھوایا ہے۔ چنانچہ وہ روز کینیڈی شلوسبرگ،ٹاٹیانہ کینیڈی شلوسبرگ اور جان کینیڈی شلوسبرگ کے نام سے موسوم ہیں۔
غالباً انہی کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری،بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کے ناموں میں ناناکے خاندانی نام کا اضافہ کردیا گیا تھا۔بینظیر بھی شادی کے بعد زرداری نہیں بنیں بلکہ بھٹو ہی رہی تھیں۔
یہ امر دلچسپی کا حامل ہے کہ کیرولائن کینیڈی اور ان کے شوہر نے شادی کے بعد اپنے ہنی مون کے لئے آسٹریلیا کو منتخب کیا تھا جہاں وہ اب بطور امریکی سفیر تعینات ہیں۔
بارک اوباماکے دور حکومت میں آپ وائس پریزیڈنٹ کی ریسرچ کمیٹی کی اہم رکن رہیں۔بعد میں صدراوباما نے آپ کاتقرر جاپان میں بطورامریکی سفیرکیاجہاں آپ نے خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط استوار کرنے اور ان کی ترویج کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
آسٹریلیا آمد کے بعد آپ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ جہاں وہ بطورامریکی سفیر دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو جاری و ساری رکھیں گی وہاں اپنے “کینیڈی” ہونے کے حوالے سے اپنی خاندانی روایات اور خدمت انسانیت کے لئے اپنے خاندان کا نام بھی روشن رکھنے کی کاوش برقرار رکھیں گی۔انہیں بخوبی علم ہے کہ کینیڈی خاندان کے لئے دنیا بھر کےعوام اپنائیت کے جذبات رکھتے ہیں اور وہ عوام کی ان توقعات پر بھی پورااترنے کی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گی جن کی لوگ بطور ایک “کینیڈی” ہونے کےان سے توقع رکھتے ہیں اور یہ حقیقت ان کے لیئے ہمیشہ باعث فخر اور اعزاز کی بات رہی ہے۔
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

