اردوقومی

پاکستانی صحافی عدم تحفظ کا شکار

پاکستانی صحافی عدم تحفظ کا شکار
ارشد شریف شہید سچ کی کڑوی گولی کی نذر
“ایس۔اے۔صہبائی “

پاکستان صحافیوں کےلیے خطرناک ملک بنتا جارہا ہے آزادیِ صحافت پر پابندیاں ،صحافیوں کا قتل،اغواء اور انہیں ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ امپیوٹی رپورٹ 2022 کے مطابق پاکستان میں 2021 سے 2022 کے درمیان 53 صحافیوں کو قتل کیا گیا اس لحاظ سے پاکستان دنیا کے ان چند خطرناک ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کے لیے ہر قدم پر خطرات موجود ہیں۔ اگرچہ صحافیوں پر پابندیوں اور انہیں قتل کرنے کی تاریخ پرانی ہے مگر گزشتہ کئی سالوں میں اس میں اضافہ ہوا ہے جو باعثِ تشویش ہے۔
گزشتہ دنوں کینیا میں پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کا قتل المناک سانحہ ہے معروف اینکر اور تحقیقاتی صحافت کے بے تاج بادشاہ ارشد شریف کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے علاقے Kajiado میں بقول کینین پولیس کے ناکے پر نہ رکنے پر گولیاں مار کر شہید کردیا گیااور اس افسوسناک واقعہ کو پولیس غلط فہمی قرار دے رہی ہے۔ کینین پولیس کے مطابق گاڑی چوری کی اطلاع پر ناکہ بندی کی گئی تھی جب ارشد شریف کی گاڑی ناکے پر پہنچی تو روکنے کے باوجود وہ نہیں رکے اور پولیس نے مشکوک سمجھ کر فائر کھول دیے ۔پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق وہ فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ یاد رہے ارشد شریف پاکستانی اداروں اور حکومت پر کڑی تنقید کرنے والے صحافیوں میں نمایاں تھے جس کی وجہ سے ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات درج تھے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں ۔ 52 سالہ صحافی اپنی جان بچانے کے لیے اگست میں پاکستان چھوڑ کر دبئی اور پھر وہاں سے ویزا کی مدت پوری ہونے پر کینیا چلے گئے تھے۔
کینیا کی پولیس واچ ڈاگ، انڈیپنڈنٹ پولیس اور سائٹ اتھارٹی کے مطابق اتوار کی شام نیروبی کے قریب Kajiado میں جائے وقوعہ پر تحقیقاتی ٹیم بھیج دی گئی ہے ۔ آئی پی او اے کی چیئرپرسن این ماکوری نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹیم ایک پاکستان صحافی کے مبینہ قتل کی تحقیقات کرکے رپورٹ مرتب کرے گی ۔جبکہ کینیا پولیس کے بیانات میں تضادات کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔پولیس کا ابتدائی بیان ایک گاڑی چوری سے متعلق تھا مگر کچھ دیر بعد بچے کا اغواء کا بیان سامنے آیا جس وجہ سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں۔ کینیا کے میں اسٹریم میڈیا اور نامور صحافیوں نے پولیس کے بیانات مسترد کرکے سوالات اٹھائے ہیں۔
پاکستانی صحافی برادری میں بھی ارشد شریف کے بہیمانہ قتل پر شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔
سینئر صحافی و اینکر ارشد شریف قتل کیس کے حوالے سے کینیا میں وقار اور خرم کا تحقیقاتی ٹیم کو دیا بیان سامنے آگیا، دونوں بھائیوں نے پاکستانی تحقیقاتی افسران کو بتایا کہ ارشد شریف نیروبی منتقل ہونے کا سوچ رہے تھے اور اس کے لیے انہوں نے ویزے کی مدت بھی بڑھوائی۔ جیو نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستانی افسران نے کراچی کے شہریوں وقار احمد اور خرم احمد سے کینیا میں پوچھ گچھ کی، اس دوران دونوں بھائیوں سے واقعے سے متعلق متعدد سوالات پوچھے گئے، جن کے جواب میں وقار احمد نے بتایا نیروبی سے قبل ارشد شریف سے صرف ایک بار کھانے پر ملاقات ہوئی تھی، کسی دوست نے ارشد شریف کی میزبانی کا کہا، ارشد شریف میرے گیسٹ ہاؤس پر 2 ماہ تک قیام پذیر رہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وقار احمد نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ نیروبی سے باہر اپنے لاج پر ارشد شریف کو کھانے پر مدعو کیا، واقعے کے روز ارشد شریف نے لاج پر ساتھ کھانا کھایا، کھانے کے بعد ارشد شریف میرے بھائی خرم کے ساتھ گاڑی میں نکلے اور آدھے گھنٹے بعد گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع آئی، خرم فائرنگ کے واقعے کے دوران معجزانہ طور پر محفوظ رہے، ارشد شریف کے زیر استعمال آئی پیڈ اور موبائل فون کینیا کے حکام کے حوالے کر دیا۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا کہ خرم احمد نے بتایا کہ لاج سے نکلنے کے بعد 18 کلومیٹر کا کچا راستہ ہے اور پھر سڑک شروع ہوتی ہے، سڑک شروع ہونے سے تھوڑا پہلے کچھ پتھر رکھے تھے، پتھروں کو کراس کرتے ہی فائرنگ ہو گئی، فائرنگ سے خوفزدہ ہوکر گاڑی بھگالی۔ خیال رہے کہ چند روز قبل سینئر صحافی ارشد شریف کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران پر مشتمل 2 رکنی ٹیم تحقیقات کے لیے کینیا میں ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے ٹویٹ کیا کہ “” انہیں صحافی ارشد شریف کی المناک موت کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔انہوں نے کینیا کے صدر ولیم روٹو سے بات کرکے منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی درخواست کی ہے صدر ولیم نے ارشد شریف کی میت کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کا ہرممکن وعدہ کیا ہے۔
ٹوئٹر پر ایک مختصر بیان میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیقی نے کہا کہ انہوں نے ایک دوست،شوہر اور پسندیدہ صحافی کھودیا اور انہوں نے اعلیٰ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔
صدر عارف علوی نے ارشد شریف کی وفات کو صحافت اور پاکستان کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ارشاد شریف کو سچ بولنے کی سزا دی گئی ہے ۔
وزراتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ممتاز صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی بے وقت موت پر گہرا رنج ہے ہم سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہیں جبکہ فارن پریس ایسوسی ایشن نے بھی ارشد شریف کے قتل پر شدید غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ارشد شریف کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر عوام نے حکومت اور ادراوں پر شدید تنقید کی جس کے بعد آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل افتخار بابر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ،جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہمیں ارشد شریف کے قتل پر بہت دکھ ہوا ہے اور حکومت پاکستان کو تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے لیے خط لکھ دیا ہے اور انہوں نے وزیراعظم کو پریس کانفرنس کی حساسیت بارے خصوصی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
دریں اثنا ارشد شریف کی نمازِ جنازہ فیصل مسجد کے احاطہ میں ادا کی گئی جس میں ڈان کی رپورٹ کے مطابق 20000 او ر اے ایف پی نے وہاں تعینات پولیس اہلکاورں کی رپورٹ کے مطابق 40000 لوگ جمع ہوئے تھے۔

یہ تحریر بلاگر/ مضمون نگار کے خیالات اور رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متّفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *