آج کے حادثے پر کپتان کی نذر
سرفراز بزمی
کہیں صفوں میں منافق نواز لوگ بھی ہیں
یہی سبق ہے جو اسں حادثے سے ملتا ہے
نہ جانے کون سی طاقت ہے اس قلندر میں
جو موت سے بھی بڑے حوصلے سے ملتا ہے
کہاں نصیب کسی ہوش کے گداگر کو
وہ حوصلہ جو ترے حوصلے سے ملتا ہے
فرات دیکھ مری تشنگی کا بام عروج
مجھے سکون بھی کوثر کدے سے ملتا ہے
تمہارے شہر میں اب بھی کوئی وبا ہے کیا
ہر ایک شخص بہت فاصلے سے ملتا ہے
