اردوشاعری

آج کے حادثے پر کپتان کی نذر

Share your Love

سرفراز بزمی

کہیں صفوں میں منافق نواز لوگ بھی ہیں
یہی سبق ہے جو اسں حادثے سے ملتا ہے

نہ جانے کون سی طاقت ہے اس قلندر میں
جو موت سے بھی بڑے حوصلے سے ملتا ہے

کہاں نصیب کسی ہوش کے گداگر کو
وہ حوصلہ جو ترے حوصلے سے ملتا ہے

فرات دیکھ مری تشنگی کا بام عروج
مجھے سکون بھی کوثر کدے سے ملتا ہے

تمہارے شہر میں اب بھی کوئی وبا ہے کیا
ہر ایک شخص بہت فاصلے سے ملتا ہے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *