اردوقومی

ہمارے معاشرتی رویے

تحریر: محمود بھٹی

 بچپن میں سبق ملا علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے لیکن مجال ہے ہم چین کی طرف مائل ہوئے ہوں،سفید رنگ کے اس قدر عاشق ہیں کہ کالے گڑ سے سفید چینی بنا کر اسے معشوق بنالیا، کھیر، سویاں، کیک اور مٹھائی میں اتنی چینی استعمال کی کہ پیر ٹانگیں کٹوا کر مرنے والے ہوگئے لیکن چینی کھانا اور پینا نہیں چھوڑی، سفید چینی کی طرح سفید چمڑی والوں کی انگریزی سے مائل ہوکر انکی سوال کرنیکی قابلیت کی نقل کر ڈالی، لیکن اس میں بھی ملاوٹ کرنے سے باز نہیں آئے،سوال کرنے کی جرأت تو سیکھ لی لیکن سوال کی نوعیت اور گنجائش کے لوازمات پورے کرنے میں ڈنڈی نہیں ڈنڈا مارکر سوال کی ایسی تیسی کردی، جتنی آسانی سے ہم نے سوال کرنے میں شرم کا نقاب اتارا ہے اور وہ سوال بھی پوچھے جارہے ہیں جو ہمارا مسئلہ ہی نہیں ہیں، حیران ہوں کہ جو سوال اللہ تعالیٰ نے روز قیامت پوچھنے ہیں ہم ان کے بارے بھی دوسروں سے سوال پوچھنے سے باز نہیں آتے ہیں جیسے کہ روزی کیسے کمائی؟

 روزی کہاں خرچ کی؟ اہل خانہ سے انصاف کیا؟ عبادات کیں؟ حقوق العباد پورے کئے؟ گناہوں سے بچے رہے؟ وغیرہ وغیرہ،اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے یہ سوچ کر ہم اپنے عملی اقدام کرتے ہیں، ہم بھی کیا انوکھے لوگ ہیں صرف یہ سوال پوچھنے تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ سوالوں کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ جگہ کم پڑ جائے، مثلاً کونسی مسجد میں نماز پڑھتے ہو؟ ہاتھ باندھ کر کیوں پڑھتے ہو ہاتھ چھوڑ کر کیوں نہیں پڑھتے ہو ؟ سنی ہو یا شیعہ ہو؟ زکوۃکتنی دی؟ میلاد کرواتے ہو؟ ما

تم کیوں کرتے ہو؟ ہم تو ان سوالوں کے تیر بھی قریبی لوگوں پر چلانے سے باز نہیں آتے، جیسے تم کالی ہو اسلئے بدصورت ہو تم سے شادی کون کریگا؟ کوشش کرو گوری ہو جائو،تم موٹی ہو؟ پتلی کیوں نہیں ہو جاتی؟تم اتنا کماتے ہو کس نے تمہاری شکل دیکھنی ہے؟ شادی کرلی؟ نہیں کی تو کیوں نہیں کی؟ بچے زیادہ ہوں تو پوچھا جاتا ہے اور کوئی کام نہیں؟ تھوڑے ہوں تو کہتے ہیں اتنے کم کیوں؟ کوئی بیماری ہے؟

دوسری شادی کرنیوالا تو کردار کا کچا ہوتا ہے؟ عورت خود طلاق مانگے تو کہتے ہیں وہ کسی کا گھر نہیں بسا سکتی ہے؟ معاشرے میں اتنا بگاڑ ایک دن میں پیدا نہیں ہوا اس میں بنیادی کردار تعلیمی اداروں اور نصاب کا ہے، جنھوں نے معاشرتی حدود و قیود کا تعین کرکے برداشت رواداری اور امن کے پیغام کی ترویج کرنا تھی وہ اپنی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہیں، باقی رہا مذہب تو اس معاملے میں تو ہمیں ورغلانا انتہائی آسان ہے۔

ستر سال ہوگئے ہیں کسی نہ کسی معاملے پر عوام کی ذہن سازی کرکے مخصوص مقاصد حاصل کئے جارہے ہیں، ان میں سے سب سے بڑا مقصد تو ایک ہی ہے اور وہ ہے معاشرے میں انتشار پیدا کرکے تفریق کی لائن کھینچنا، لوگوں کو علیحدہ فرقوں میں بانٹ کر نفرت کی سرحد پر پہنچا دینا جہاں قتل و غارت ہی باقی رہ جاتی ہے،جب سے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ منظور ہوا ہے ہر کوئی من پسند تشریح لا رہا ہے، کوئی دوزخ اور قیامت کا منظر دکھا رہا ہے اور کوئی خارج از اسلام کے فتوے جاری کررہا ہے،اس بارے تو بہت باتیں کی جاچکی ہیں لیکن ایک بات یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے مخصوص سافٹ ویئر کے تحت انسانوں کی تخلیق کا عمل مقرر کر رکھا ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔

کروموسومز کی مقررہ تعداد ہونے اور انکی کامل صحت کے مطابق انسان جنم لیتے ہیں، کوئی مرد کہلاتا ہے کوئی عورت اور کوئی تیسری جنس۔مجھے اپنے معاشرے کا وہ دور بھی یاد ہے جب کوڑھ کے مرض میں مبتلا مریضوں کو گھروں سے نکال کر مرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا تھا،پھر اللہ نے جرمنی سے ایک غیر مسلم نیک لڑکی نے برصغیر میں آکر ساری زندگی ایسے مریضوں کیلئے وقف کرکے نیک عمل کئے، سوچیں خدائے بزرگ و برتر کو کونسی مخلوق پسند ہوگی جو اسکی مخلوق سے پیار کرے اس کا علاج کرے اسے جینے کا حق دے یا وہ جو اس کو مرنے کیلئے گھر سے ہی نکال دے؟

ہیجڑوں کی ہی مثال لے لیں، آج بھی ہمارے مسلمان والدین ایسے نامکمل بچے کو وراثت میں حصہ دینا تو دور اسے گھر سے ہی نکال دیتے ہیں، وہ مظلوم پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے دوسروں کے جسموں کی بھوک مٹاتا پھرتا ہے اور بالآخر مختلف جنسی امراض میں مبتلا ہوکر لاوارث ہی مر جاتا ہے، ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ٹرانس افراد کو شناخت دینے اور انھیں حقوق دینے کی بات کی گئی ہے تو شریعت کے تقاضے کیمطابق انکے حقوق تسلیم کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *