اردوقومی

موبائل فون اور تعلیم

Share your Love

تحریر:- حفیظ اللہ قریشی

آج کل میٹرک خاص طور پر 9th کے نتائج زیر بحث ہیں ۔
عمومی طور پر جہاں پر ضلع بھر میں 9th کلاس کے نتائج میں صرف 37٪ بچے پاس ہوئے ہیں وہاں پر تقریباً تمام اداروں میں 90٪ فیصد اور خاص طور پر 95٪ سے زائد نمبر لینے والے طلباء کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ سالوں میں صرف 90 ٪ سے زائد نمبر والے بچوں کی ادارے تشہیر کرتے تھے لیکن آس سال 80٪ فیصد والے بچوں کی بھی ادارے تشہیر کرنے پر مجبور ہیں۔
ہمارے ہاں میڈیکل کالجز ، انجنیرنگ یونیورسٹی ، دیگر یونیورسٹیوں اور سرکاری جابز کے حصول کے لیے کیونکہ نمبرز ہی اکثر میرٹ کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں لہٰذا والدین ، اساتذہ اور معاشرہ بجا طور پر پریشان ہیں
اس کی کئ وجوہات ہیں جو کہ زیر بحث لائئ جا سکتی ہیں لیکن گزشتہ تین سالوں میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز اور ایجوکیشن کے نام پر گورنمنٹ کی پالیسی کے تحت بچوں کو انفرادی طور پر Zoom meeting /classes, WhatsApp, YouTube وغیرہ سے لیکچررز اور assignment کے لیے سمارٹ موبائل فون دیے گئے ۔۔
اس سے بچوں نے تعلیم حاصل کی یا نہیں لیکن وہ موبائل فوبیہ کا ضرور شکار ہو گئے ۔ کئ کئ گھنٹے آن لائن رہنا نظر اور صحت کی بربادی ، چڑچڑا پن ، ڈپریشن ، نیند ناپوری ہونے کے مسائل کے ساتھ ساتھ ساری ساری رات آن لائن گیمز ، پورنو گرافی ، TikTok اور دیگر ایپس پر بیٹے ،بیٹیاں ، بہن بھائی ناچنے گانے ، وڈیو آور تصاویر لگانے میں مصروف ہیں ۔ اس حد تک معاشرہ گر گیا ہے کہ اٹلی کی روٹی (پیزہ) کھاتے ہوئے سیلفی لینا اور اسے سوشل میڈیا پر لگانا ہمارے معاشرے میں فرض کی حیثیت حاصل کر چکا ہے ۔
پہلے معاشرے میں 99٪ کمانے والے اور ایک فیصد شادی بیاہ پر ناچ، گانےاور ایکٹنگ کر کے تفنن پیش کرنے والے ہوتے تھے جن کو مراثی ، بھنڈ ، کنجڑ ، نٹ، بہروپیے ، اداکار اور دلے جیسے القابات سے پکار کر حوصلہ شکنی کی جاتی تھی تاکہ وہ بھی محنت مزدوری کر کے معاشرے کے لیے مفید شہری بن سکیں اور مزید نوجوان نسل اس طرف راغب نہ ہو پائے ۔۔۔
مگر اب TikTokers وغیرہ کے نام پر جو مرضی کرکے فالورز کو بڑھانا ہے ۔والدین اور اساتذہ کی طرف سے معاشرہ مادر پدر آزاد ہے۔۔۔
اکثر والدین کو سوشل میڈیا کے نقصانات کا اندازہ نہیں اور اگر ہے بھی تو اکثر شوہروں کی انکی بیویوں نے آنکھیں ، کان اور دماغ آس معاملےمیں بند کر رکھی ہیں اور آگر کوئی استاد غلطی سے احساس زمے داری کے تحت کچھ کہہ بیٹھے تو مار نہیں پیار کے نعرے کا استعمال بےدریغ شروع ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ ، بچوں کو بےجا پریشان کرنے جیسی اصطلاحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
اس رویے سے استاد معاشرے کے ان معاملات سے تقریباً لاتعلقی اختیار کر چکا ہے ۔
اٹھارہ سال سے کم عمر بچے اپنے نام پر سم کنیکشن بغیر بائیو میٹرک تصدیق کے نہیں جاری کرا سکتے اور کسی اور کا موبائل فون اور کنیکشن دونوں کا استعمال قانونی طور پر جرم ہیں۔ لہذا 18سال کے کم عمر کے بچوں کو ذاتی فون اور انٹرنیٹ کنیکشن دینا قانونی جرم ہے
کرونا کے دوران آن لائن ایجوکیشن سے جہاں پہلے ہی پریکٹیکلز کے بغیر سکول کالجز میں پڑھایا جارہا تھا وہاں میڈیکل کالجز ، انجنیرنگ یونیورسٹی اور دیگر شعبوں میں بھی بغیر پریکٹیکل اور سکلز کے ایک کھیپ نکلی ہے آس کے اثرات بہت دور رس ہونگے …
وہیں گریس مارکس ، سلیکٹڈ کورس ، محدود مضامین کے پیپر لیکر 1100/1100 نمبر بانٹے گئے ۔۔
اب اس موبائل فون فوبیہ کے شکار طلباء کو اس بیماری سے نکالنا انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہو چکا ہے ۔
میری یہ تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ ، انتظامیہ اور حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا بچوں کو آن لائن لیکچرز ، assignment, tasks, activities,کے نام پر موبائل فون کے استعمال سے بچائیں ۔
ہمارے بچے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے غلط اور بےدریغ استعمال سے تباہ ہو رہے ہیں ۔۔۔
آس معاشرے کو مزید تباہ ہونے سے بچائیں ۔۔۔
والدین آپنے بچوں کے اساتذہ سے مسلسل رابطے میں رہیں ۔.
اساتذہ کو عزت دیں ۔۔
اساتذہ اور والدین اخلاقی زمہ داری کا احساس کریں ۔۔۔
خدارا بچوں کو انکے انفرادی موبائل فون نہ لے کے دیں انتہائی مجبوری کی صورت میں طلباء چند لمحوں کے لیے اپنے والدین کا فون استعمال کریں ۔والدین بچوں کے فون کے استعمال کے بارے میں ہر قسم کی آگاہی رکھیں ۔۔۔
یہ ایک چیلنج ہے آور آس کو ہمیں مل کر achieve کرنا ہے ۔۔۔
انشاء اللہ آس سے ضرور بہتری ممکن ہو پائے گی۔۔۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *