قوّتِ اِرادی آخری سات دن
تحقیق و تحریر ۔ رانا محمودوائس آف ٹائم ، لندن
یہ اکتوبر ۱۹۵۸ء کی بات ہے ۔۔ ۔
ایک نوجوان آرمی آفیسر اپنے دو جونئیرز کے ہمراہ انتہائی اہم اور خفیہ دستاویزات لیکر جہلم سے لاہور جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی ۔ بظاہر تمام لوگ حادثے میں محفوظ رہے لیکن فرنٹ سیٹ پر بیٹھے آفیسر نے اپنی گردن میں تکلیف کی شکایت کی ۔ اُسکا جونئیر اُنہیں سہارا دیکر لاہور جانیوالی بس میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ جونہی بس روانہ ہونے لگتی ہے تو آفیسر آنکھ کے اشارے سے اُن دستاویزات کا پوچھتا ہے جو اُسکے سپرد کی گئیں تھیں ، جونئیر دوڑ کر وہ پیپرز لے آتا ہے اور آفیسر اپنے ہاتھوں میں اُنہیں محفوظ کر لیتا ہے ۔ لاہور پہنچ کر بس والا اپنی سواریاں اُتار کر جونئیر افسر کی درخواست پر اُنہیں سی ایم ایچ ہسپتال پہنچا دیتا ہے اور باوجود اسرار کے یہ کہہ کر معاوضہ / کرایہ لینے سے انکار کر دیتا ہے کہ یہ تو اُسکا فرض تھا ۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے ایک نظر دیکھنے کے بعد کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حادثے کی وجہ سے صدمہ کے اثرات ہیں اور قدرے آرام کے بعدصبح تک ٹھیک ہو جائیں گے ، لیکن جب ایکسرے کیا گیا تو ڈاکٹرز یہ جان کر حیران رہ گئے کہ آفیسر کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی ، گردن میں فریکچر تھا ، دایاں بازو اور دائیں ٹانگ مفلوج ہو چکے تھے اور وہ اپنی گردن کو قطعاً گھما نہیں سکتا تھا ۔ ڈاکٹرز حیران تھے کہ یہ نوجوان آفیسر موت کو کیونکر شکست دے سکا اور حادثے کے بعد سفر کی تکالیف کسطرح برداشت کر سکا اور معجزانہ طور پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیسے واپس آگیا، لیکن بقول نپولین “ بعض اوقات موت صرف قوّتِ برداشت کے فقدان کا دوسرا نام ہے“ ۔
یہ حادثہ ہمارے اُس عظیم قومی ہیرو کے ساتھ پیش آیا جسے ٹھیک سات سال بعد اپنے خون سے پاکستان کی تاریخ رقم کرنا تھی اور جان کا نذرانہ دیکر اپنی دھرتی ماں کو بچانا تھا ۔ ہمارے اس عظیم قومی ہیرو کا نام راجہ عزیز بھٹی تھا ۔میجر بھٹی ساڑھے تین ماہ بسترِ علالت پر رہے مگر کبھی منہ پر حرفِ شکایت نہ لائے اور محض اپنی قوّتِ اِرادی کے باعث جانبر ہوے ۔ وہ فوج کی ملازمت کو ملازمت سمجھ کر نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کرتے ۔ شہادت سے ایک سال قبل یعنی ۱۹۶۴ میں اپنی تنخواہ کے اضافے پر (جسکا اطلاق ۱۹۶۳ سے ہونا تھا) بالکل خوش نہ تھے کہ ہم غریب ملک کے باسی ہیں اور ہمارا ملک اس اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ یہ بات
میجر صاحب کے ایک کو لیگ اور دوست کرنل جہانزیب بنگش نے “عزیز بھٹی شہید” نامی کتاب (مطبوعہ ۱۹۶۶) کے مصنف اصغر علی گھُرال کو بتائی ۔ اُن کی یہ تصنیف شہید کی زندگی سے عبارت ہے اور کتاب میں درج واقعات شہید کی شہادت کے صرف ایک سال بعد اُن کے رُفقاء اور شہید کی بیوہ زرینہ اختربھٹی اور شہید کے والد ماسٹر عبداللّٰہ کے بیان کردہ ہیں ۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میجر بھٹی کو پانچ زبانوں بشمول انگریزی ، چینی ، جاپانی اور جرمن زبان پر عبور تھا اور وہ فوج میں جرمن زبان کے سرکاری ترجمان تھے ۔
جنگ کے واقعات کا ذکر کرتے ہوے شہید کے کمانڈنگ آفیسر کرنل ابراہیم قریشی نے کتاب کےمصنف کو بتایا کہ میجر بھٹی نے محاذِ جنگ پر مسلسل چھ دن اور چھ راتیں مطلق آرام نہ کیا تھا لہذا اُنہوں نے شہید کو ایک ضروری کانفرنس کے بہانے فیلڈ ہیڈ کوارٹرز بلوایا کیونکہ اس سے قبل بھی وہ آرام کرنے سے انکار کر چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میجر بھٹی کچھ آرام کر سکیں اور کسی تازہ دم آفیسر کو اُن کی جگہ بھیج سکیں ، تاہم میجر بھٹی نے فرمایا کہ اُنکے لئے آرام اور راحت محاذ پر ہے اور محاذ سے واپسی اُنکے لئے تکلیف دہ ہے ۔ مزید فرمایا “ سر میں دشمن کی چالوں سے خوب واقف ہو چکا ہوں ، نئے آفیسر کو سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا ۔ میری خواہش ہے کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے کہ میں واپس جانے کیلئے میدانِ جنگ میں نہیں آیا ہوں“ ۔ کرنل قریشی شہید کے دلائل کے آگے بے بس ہوگئے اور شہید کو واپس محاذ پر جانے کی اجازت دے دی ۔ فیلڈ ہیڈ کوارٹرز میں پہلی اور آخری دفعہ سرکاری سٹیشنری کو استعمال میں لاتے ہوے اور وہ بھی ایک صحفے کے پانچ حصے کر کے اپنے عزیز و اقارب کے نام مختصر پیغامات لکھ کر روانہ کئے ۔ کیپٹن دلشاد کو کراچی کا ایک ٹیلیفون نمبر ۵۴۹۷۰ نوٹ کرواتے ہوے فرمایا کہ شہادت کی صورت اس نمبر پر اطلاع دے دیں ۔
شاید علامہ اقبال نے ایسے ہی جانبازوں کے نام لکھا تھا
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کُشائی
جنگ ستمبر سے چند ماہ قبل ایک موقع پر میجر بھٹی کے ایک عزیز دوست اور فوجی افسر کی شہادت کی افواہ کے بار بار ذکر پر میجر بھٹی نے اپنی بیوہ سے کہا “ پگلی ! تُم کس وہم میں مبتلا ہو ، اوّل تو یہ خبر ابھی افواہ ہے اور اگر وہ شہید بھی ہو گیا ہے تو خدا کی قسم مجھے تو اس خبر پر فخر ہو گا کہ میرا دوست شہید ہوا ہے ، پھر فرمایا “ زرینہ ، یہ زندگی آخر ہے کیا ! اتنے عظیم مقصد میں کام آئے تو خدا سے مانگنے کیلئے اور کیا رہ جاتا ہے “ ۔
ستمبر ۶۵ کی جنگ کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوے شہید کے ساتھیوں نے بتایا کہ اُنکے کمانڈر نے محاذِ جنگ پہ چالیس گھنٹوں بعد خُشک روٹی کے صرف چند ٹکڑے کھائے ۔ اپنے حوالدار سے فرمایا کہ یہ خشک ٹکڑے بھی بسکٹوں سے کہیں زیادہ مزیدار ہیں ۔ روٹی نہ کھانے کی وجہ ایک تو وقت بچانا تھا اور دوسرے رات بھر جاگنے کیلئے خالی شکم کو ترجیح دیتے ۔ ایک روز کوارٹر ماسٹر اکرم سالن روٹی کی بجائے میٹھی پُوریاں لایا ، ابھی ایک ہی لقمہ کھایا تھا تو ہاتھ روک لیا اور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پُوریاں صرف اُنہی کیلئے آئیں تھیں ، فرمایا کسی جوان کو دے دو کل جب سب کیلئے لاؤ گے تو کھاؤں گا ۔
میجر بھٹی کی کمان میں لاہور (برکی ، ہڈیارہ) کے محاذ پر صرف ۱۴۸ جوان تھے جبکہ مقابلہ میں کئی گُنا بڑا لشکر ۔شہید کی قیادت کا یہ کمال تھا کہ سات روز میں (کہ جنہیں ۱۴ ایام بھی گِنا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ جنگ میں راتیں بھی دن ہی متصور ہونگی) صرف ۱۱ جوان شہید ہوے جبکہ دشمن کے سینکڑوں لوگ مارے گئے ۔
۱۲ ستمبر ۱۹۶۵ ۔ یومِ شہادت
آدھی رات گُزر چکی تھی کہ ایمبولینس کی آواز آئی ۔ گاڑی کے قریب گئے ، ڈرائیور سے گاڑی سٹارٹ رکھنے کا سبب پُوچھا تو انور نے بتایا کہ گاڑی کا سیلف خراب ہے، ایمرجینسی میں مشکل کا سامنا ہوگا اسلئے سٹارٹ کر رکھا ہے ۔ فرمایا بند کردو، اللّٰہ وارث ہے ، ضرورت پڑنے پر سٹارٹ ہو جائیگی ۔ انور نے گاڑی بند کر دی اور پوچھا کہ اجازت دیں تو صبح ورکشاپ لے جاؤں اور ٹھیک کروا لاؤں ۔ فرمایا لے جانا لیکن صبح دس بجے کے بعد ۔ انور سوچ میں پڑ گیا کہ یہ دس بجے کی کیا منطق ہے ایمرجینسی تو کسی وقت بھی ہو سکتی ہے ۔ شہید نے نہر کی پٹڑی پر چڑھ کر دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا لیکن کوئی حرکت نہ تھی ۔ واپس آئے ، انور سے کہا کہ ایمبولینس سے سٹریچر نکال لائیں میں لیٹ کر دیکھتا ہوں کہ آیا اس پر نیند آتی ہے یا نہیں ۔ سٹریچر پر لیٹ کے فرمایا کہ یہ تو بہت آرام دہ ہے ۔ کچھ دیر آرام کیا اور پھر اُٹھ بیٹھے ، واپس پٹڑی پر چکر لگایا تو دشمن کی ایک پلاٹون نہر کی جانب آتا دیکھ کر فائر کروایا ، کچھ مارے گئے اور کچھ بھاگ گئے ۔ فجر کا وقت ہوا چاہتا تھا پانی منگوایا وضو کیا ، اور کئی دنوں بعد بالوں میں کنگھی کی ۔ نماز کی ادائیگی کے بعد سپاہی امان خان سے اپنی وردی منگوائی ۔ وردی دیکھ کر فرمایا یہ وردی میری تو نہیں ہے ۔ سپاہی نے بتایا کہ فیلڈ ہیڈکواٹرز میں آپ کی وردی نہ ملنے پر کسی افسر نے اپنی وردی آپ کیلئے بھجوا دی تھی ۔ فرمایا ، رہنے دو ۔ وردی اور کفن اپنا ہی سجتا ہے ۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے میجر بھٹی شہادت کیلئے تیار ہو رہے تھے ۔
دوبارہ نہر کی پٹڑی پر آئے ، اپنی دوربین سے دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا ۔ حوالدار فیض پٹڑی کے نیچے تھا ، اُس نے کہا سر نیچے آ جائیں اوپر خطرہ ہے کیونکہ دشمن کی جانب سے فائر ہو رہے تھے ۔ جواباً فرمایا بلا شُبہ یہاں خطرہ ہے لیکن نیچے سے دشمن کی نقل و حرکت کو نہیں دیکھا جا سکتا ، زندگی موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اتنے میں برکی سے نہر کی جانب بڑھتے ہوے دشمن کے ٹینک نظر آئے ، جن کے پیچھے پیدل فوج تھی ۔ میجر صاحب نے بروقت فائر کروا کے دشمن کے دو ٹینک تباہ کر دئیے ۔ صبح کے ساڑھے نو بج چکے تھے ۔حسبِ معمول دوربین لیکر دشمن کا مشاہدہ کرنے ہی والے تھے کہ اسی لمحے دشمن کا ایک گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہو گیا اور وطنِ عزیر کا یہ عظیم سپوت منہ کے بل اپنی دھرتی ماں کی آغوش میں آ گرا ۔ جوانوں نے اپنی نم آنکھوں سے اپنے کمانڈر کے جسدِ خاکی کو اُس ایمبولینس میں رکھا جسکے متعلق ڈرائیور کو تشویش تھی کہ سیلف سٹارٹ نہ ہو سکے گی مگر وہ بغیر کسی رکاوٹ کے سٹارٹ ہو گئی ۔ شہید بھٹی کے شیروں نے اپنے محبوب کمانڈر کو آخری سلامی دی ۔۔ اور مادرِ وطن کی حفاظت کیلئے اپنے مورچوں کو لَوٹ گئے ۔
معروف پاکستانی مؤرخ
کے کے عزیز اپنی شہرہ آفاق تصنیف the Murder of history میں لکھتے ہیں کہ “ وہ قومیں جو اپنے ہیروز کی یاد بھلا دیتی ہیں، ایسی قومیں ایسے افراد پیدا کرنا بند کر دیتی ہیں “
آئیے ! آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ ہم بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب ، اپنے ہیروز کی یاد زندہ رکھیں گے تا آنے والی نسلیں اپنے اس قومی ورثہ کو نہ بھلا پائیں ۔

