عدلیہ اور آئین گھر کی لونڈی
تحریر: محی الدین عباسی لندن
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورةالنساء آیت136 میں فرماتا ہے!
ترجمہ: اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔ پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا (خدا نہ کرے) عدل سے گریز کرو۔ اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلوتہی کرگئے تو یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔ یہ آیت قرآن کریم کی عدل کی تعلیم کا اطلاق گواہی دینے کے موقع پر بھی کرتی ہے یعنی ہر گواہ پر فرض ہے کہ انصاف کی گواہی دے خواہ خود اپنے خلاف یا والدین یا عزیزوں کے خلاف گواہی دینی پڑے۔
ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں عدلیہ اور آئین کی تعریف یہ ہے کہ عدلیہ وہ نظام ہے جو عدل یعنی انصاف دیتا ہے جو عدل وانصاف کرتا ہے اسے قاضی، عادل، منصف یا جج کہا جاتا ہے اور جہاں انصاف و عدل کیا جاتا ہے اس جگہ کو عدالت یا کورٹ کہاجاتاہے۔ معنی یہ کہ عدلیہ ریاست کا اختیار ہے کہ وہ قوانین کی دیکھ بھال اور ان کی تعمیل کرکے اور اس کو ریاست کو ریاست کے قوانین کی پاسداری اور تعمیل کرنی ہوتی ہے۔ آئین کی تعریف ہے کہ آئین یا دستور کی حکومت کےلیے قوانین اور اصولوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک سیاسی وجود کے اختیارات اور کارکردگیوں کو محدود اور متعین کرتا ہے۔
یاد رہے جسٹس گلزار احمد نے پانامہ لیکس کے مقدمے میں ریمارکس دئیے تھے کہ 18ویں ترمیم سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کے خلاف شکایت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن 18ویں ترمیم کے بعد یہ شرط شامل ہوگی۔ صادق اور امین کے حوالے سے جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ یہ شرائط تو ظاہر ہے پیغمبرِاسلام محمدﷺ کی صفات تھیں امین میں ان شرائط کا مطلب یہ یقینی بنانا تھا کہ بہترین اچھے اور نیک مسلمان ہی اسمبلیوں تک پہنچیں۔ اور وہ لوگ سیاست پاکستان میں اللہ کی حاکمیت ایک امانت کے طور پر نافذکرسکیں۔ لیکن ملک کے آئین کو مثالی ہونے کی بجائے عملی ہونا چاہیے مزید یہ کہ پیغمبر آنا تو بند ہوگئے ہیں اور اب ہمارے سامنے صرف گناہ گار انسان ہیں۔ یاد رہے سپریم کورٹ نے نوازشریف کو صادق امین ہونے کے معاملہ میں عوامی عہدے سے نااہل قرار دے چکی ہے۔ موجودہ صورتحال میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد 11؍اپریل2022ء کو جو ڈرامہ رچایا گیا اس نے سابقہ معزز ججوں کے فیصلوں کی دھجیاں بکھیر دیں ایسا فیصلہ کیا جو آئین، قانون اور اسمبلی کے اندر کے قوانین ان کے معاملات میں مداخلت ہے۔ زبان زدِخاص و عام ہے کہ یہ فیصلہ مداخلت اور قانون سے متصادم اور بیرونی سازش ہے علاوہ ازیں کہ شریف فیملی کو ہی عدالتوں سے مراعات کیوں ملتی ہیں ان کے لیے چھٹی والے دن اور رات کی تاریخی میں عدالتیں کیوں کھل جاتی ہیں۔ ہمارے معزز ججز سیاسی آقاؤں کے گھر کی کنیز ہیں جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کرتے ہیں۔ یہ ان کے گھر کی لونڈی ہیں۔
بات واضح ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ان کے کرپٹ سیاستدانوں کو ایوان میں بٹھانے کی سازش میں شریک ہے۔ ان کے یہ فیصلے جن میں سقم اور ابہام پایا جاتا ہے جبکہ متذکرہ بالا تحریر میں وضاحت ہے کہ قرآن میں ہے کہ انصاف کو قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ اپنے خلاف یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینی پڑے اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ جبکہ چیف جسٹس عطامحمدبندیال کی رشتہ داریاں سیاسی جماعت ’’ن لیگ‘‘ کے ساتھ ہیں اس صورتحال میں ایسے ججز کو کسی بینچ کا حصہ نہیں بنانا چاہیےتھا۔ مزید برآں آرٹیکل 63 کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس ابھی تک سپریم کورٹ میں التواء کا شکار ہے جو پارٹی سے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے خلاف ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ کہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے پاس ہوجائے۔ کُھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہورہی تھی۔ جبکہ اسلام آباد سپریم کورٹ چند فرلانگ پر اور پنجاب اسمبلی سے چند فرلانگ پر ہائی کورٹ لاہور کی بلڈنگز ہیں۔ اس پر کوئی ایکشن نہ لیا گیا اب تک۔ یہ ہے ہمارا نظامِ عدل و انصاف۔ ایسے انصاف پسندوں کو مشورہ ہے درج ذیل تحریر ضرور مدِنظر رکھیں۔
ساؤتھ افریقہ یونیورسٹی کے دروازے پر یہ فکرانگیز جملے درج ہیں:
کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم اور میزائلز کی ضرورت نہیں۔ بس اس کا نظامِ تعلیم گرادو، وہ خود تباہ ہوجائے گی۔ اس تعلیمی نظام سے نکلنے والے ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔ انجینئرز کے ہاتھوں عمارات تباہ ہوجائیں گی۔ معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہوجائے گی۔ مذہبی راہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت بھی تباہ ہوجائے گی اور ’’ججز کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہوجائے گا اور نظامِ تعلیم کی تباہی قوم کی تباہی ہوتی ہے۔
یاد رکھیں یہ وہی اصول ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں جن قوموں نے اس پر عمل کیا وہ کامیاب ہیں یہ وہ سچائی ہے جس کو کوئی ذی شعور انسان جھٹلا نہیں سکتا۔ اس ضمن میں ایک واقعہ یاد آیا۔ جنگ عظیم دوم میں جرمنی نے جب برطانیہ پر حملہ کیا تو برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کہا کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح فیصلہ کررہی ہیں تو ہم جنگ ہار نہیں سکتے۔ لہٰذا اگر ہر ملک کا عدالتی نظام مضبوط اور انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہے تو قومیں اس سے ترقی پاتی ہیں اور عوام خوشحال رہتی ہیں۔ انصاف کرو ورنہ یاد رکھنا حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قاتل صرف 9؍افراد تھے مگر غرق (تباہ) پوری قوم ہوگئی تھی۔ کیونکہ باقیوں کا جرم خاموش رہنا تھا۔ سورةالاعراف آیت74 کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ ’’نَاقَةُاللہِ‘‘ سے مراد حضرت صالح علیہ السلام کی وہ اونٹنی ہے جس پر سوار ہوکر وہ اپنی قوم کو رسالت کا پیغام دیا کرتے تھے۔ بعض بدبخت سرداروں نے اس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں جس سے ان کا ذریعہ پیغام رسانی ختم کردیا تو اس کے نتیجہ میں یہ عذاب کے مستحق ہوگئے پھر ایک زلزلے نے انہیں آپکڑا جو اس قوم کو تباہ کرگیا۔ یاد رکھیں حقیقی عدل و انصاف سے صالح ونیک معاشرہ تشکیل پاتا ہے یہ کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی کا ضامن اور قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بھی۔
متذکرہ بالا جو چند اصول بیان کیے گئے ہیں ان تمام اصولوں کا مرکزی نقطہ عدل و انصاف ہے اس سے تمام تقاضے پورے ہوتے ہیں اور ملک میں حقیقی امن اور خوشحالی آتی ہے ہمیں بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی دشمن کو تلاش کرنا ہوگا جو بیرونی سازش سے ہی ملک کی سلامتی کےلیے خطرہ ہیں اور ریاستوں کے اہم ستون میں فوج کو بھی اپنا صحیح حقیقی انصاف پر مبنی کردار اداکرناہوگا ورنہ جس آزادی کےلیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں وہ سب رائیگاں جائیں گے آج ہمارا ملک غلط فیصلوں کی وجہ سے نہایت کرب و بےچینی کا شکار ہے اس کو حقیقی قیادت کی ضرورت ہے اپنی تمام ذاتی خواہشات و مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کےلیے فکر کریں ایسی قیادت کو سامنے لائیں جو صحیح معنوں میں عوام کے مستقبل کا سوچیں اور کرپٹ سیاستدانوں کو سخت ترین سزائیں دیں تبھی یہ ملک خوشحالی اور امن کا گہوارہ ہوگا ورنہ نہیں۔
اِک نہ اِک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

