روز کرتا ہے دل پر صنم
ڈاکٹر فیاض احمد(علیگ )
روز کرتا ہے دل پر صنم
منفرد سا کوئی اک ستم۔
ہو مبارک تمہیں جام جم
مجھ کو درکار اس کا کرم ۔
جب وہ روٹھا تو ایسا لگا
زندگی ہو گئی اب ختم۔
لب تو اس کے سلے تھے مگر
حال دل کہہ گئی چشم نم۔
دل کو رونے دو کچھ دیر تم
درد رونے سے ہوتا ہے کم۔
زندگی بے وفا ہی سہی
زندگی ہے تو زندہ ہیں ہم ۔
جو زمانے میں کمزور ہے
لوگ کرتے ہیں اس پر ستم۔
ما حصل زندگی کا یہی
خواہشیں حسرتیں اور ہم۔
جب سے ڈاڑھی بڑھا لی ذرا
شیخ جی ہو گئے محترم۔
جھوٹ بولے جو سچ کی طرح
لوگ کھاتے ہیں اس کی قسم۔
تم کو فیاض لکھنا ہے سچ
تم سے ہے آبروئے قلم۔
