اردوجہاں نما

ملکہ کی تدفین تاریخ کا بڑا ایونٹ

Share your Love

تحریر: برطانوی ہائی کمشنر

کراچی(ٹی وی رپورٹ)برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ ملکہ برطانیہ کی تدفین ٹی وی پر دکھایا جانیوالا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ وہ وقت جلد آوے گا جب نواز شریف کو انصاف ملے گا اور وہ ن لیگ کی قیادت کرینگے، تجزیہ کار اطہر کاظمی نے کہا کہ عمران خان نے کارکنوں کو لانگ مارچ کی تیاری کی ہدایت کردی۔

وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ‘‘ میں میزبان سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے مزید کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی تدفین ہمارے ملک کی حالیہ تاریخ کا شاید سب سے بڑا موقع ہوگا.

ملکہ چھیانوے برس تک زندہ رہیں جن میں سے ستر سال تک وہ ملکہ رہیں جو تاریخ میں دوسری سب سے طویل بادشاہت ہے، کل تاریخ کا ٹی وی پر دکھایا جانے والا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، اس ایونٹ میں شرکت کیلئے 200کے قریب سربراہان مملکت اور اہم شخصیات برطانیہ آئیں گی ، کل دس دن کے قومی سوگ کا اختتام ہوگا جس کے دوران برطانوی عوام نے ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ ملکہ الزبتھ دوم بڑی عوامی شخصیت تھیں وہ ٹی وی پر آتی رہیں مگر انہوں نے نے کبھی ٹی وی انٹرویو نہیں دیا، میرے خیال میں اسی وجہ سے وہ تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں کامیاب ہوئیں، وہ 1952ء میں ملکہ بنیں اس وقت برطانیہ ایک ایمپائر تھا، دوسری جنگ عظیم کے بعد اس دوان دنیا بہت تبدیل ہوئی، سلطنت برطانیہ کا خاتمہ ہوا

انہوں نے دولت مشترکہ ورلڈ کی راہ ہموار کی، دنیا جدید ہوئی اور کمیونٹی آف نیشنز کی شکل میں سامنے آئی۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ ہم ملکہ الزبتھ دوم کو ایک اعلیٰ سفارتکار کے طورپر دیکھتے ہیں، انہوں نے دنیا بھر میں دورے کیے، وہ بدلتی دنیا میں مستقل تھیں، جب دنیا انٹرنیٹ سوشل میڈیا اور سماجی رویوں میں بھی تبدیلی آرہی تھی وہ اس دوران مستقل مزاج رہی ہیں، یہ ان کی میراث کا پہلا حصہ ہوگا، دوسری بات وہ اقتدار ہوں گی جن کی وہ نمائندگی کرتی رہی ہیں، ان کی زندگی فرض کی ادائیگی اور دوسروں کی خدمت سے عبارت تھی، جب بھی مسائل کا سامنا ہوتا تو وہ ایک دوسرے کے احترام اور اختلافات سننے پر زور دیتیں، میرے خیال میں ملک کی سربراہ کی حیثیت سے یہ ان کی طاقت اور قوت تھی۔ ملکہ برطانیہ کے فیورٹ وزیراعظم کے سوال پر برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا، اس کے علاوہ انہوں نے کبھی سیاسی مسائل پر بھی اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا، چاہے بریگزٹ کا مسئلہ ہو یا کچھ اور ہو وہ بہت محتاط رہتی تھیں، وہ سیاست سے بالاتر تھیں اسی وجہ سے عوام کی قیادت کرنے کی اہل تھیں، ملکہ کا پالیسی سازی میں کوئی کردار نہیں تھا۔ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے بتایا کہ میں پاکستان میں ملکہ کا آفیشل نمائندوں ہوں، اس سے پہلے میں کینیا میں ہائی کمشنر رہا، مجھے ملکہ سے رابطوں اور ملاقاتوں کا اعزاز حاصل رہا ہے، ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ان سے ہونے والی گفتگو کو کبھی منظرعام پر نہ لائیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ بتانا کوئی راز افشا کرنا نہیں کہ وہ معاملات سے باخبر ہوتی تھیں اور بہت محنتی خاتون تھیں، ان کی حس مزاح بھی بہت عمدہ تھی، لندن اولمپکس کے دوان ان کا جیمز بانڈ کے ساتھ اسکیچ سب کو یاد ہوگا، وہ اپنے اس خاکے سے محظوظ ہوئی تھیں، وہ ایک بہت شاندار رہنما تھیں۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان دونوں کیلئے یہ تکلیف دہ لمحات ہیں، ہم ملکہ کی وفات کا صدمہ جھیل رہے ہیں، آپ سیلاب کی تباہی سے دوچار ہیں، اس لیے بحیثیت ملک ہم شدید صدمے میں ہیں،ملکہ الزبتھ دوم نے دو با ر پاکستان کا دورہ کیا

پہلی بار 1961ء میں جبکہ دوسری بار 1997ء میں وہ پاکستان آئیں،ان کے دونوں دورے بڑے مواقع پر ہوئے، مجھے یاد ہے کہ بہت سے لوگ آئے اور ان سے ملاقات کی، ان کے آخری آفیشل میسجز میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے اور اس کے نقصانات سے بہت دکھی ہیں

انہوں نے صدر پاکستان عارف علوی کو پیغام لکھا تاکہ اپنے دکھ کا اظہار کرسکیں، اس کے کچھ دن بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔

ملکہ الزبتھ کے پاکستان کے بارے میں خیالات کے سوال پر کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ وہ سیاست سے بالاتر تھیں اس لیے بین الاقوامی تعلقا ت پر رائے نہیں دیا کرتی تھیں، یہ واضح ہے کہ ملکہ پاکستان کیلئے بہت لگاؤ رکھتی تھیں اور پاکستان سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی تھیں، پاکستان اور برطانیہ قریبی تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں اور ملکہ ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتی تھیں، ہماری آبادی کا دو فیصد پاکستانی نژاد برطانویوں پر مشتمل ہے، اب ملکہ الزبتھ دوم کے بیٹے چارلس بادشاہ ہیں

انہوں نے پاکستان کا آخری دورہ 2006ء میں کیا تھا، کنگ چارلس نے پاکستان کے سیلا ب متاثرین سے اظہار یکجہتی کا بھیجا ہے اور ذاتی حیثیت میں بھی سیلا ب متاثرین کی مالی مدد بھی کی ہے، حالیہ تاریخ میں 2019ء میں شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں، یہ دورے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات ہمیشہ کی طرح مضبوط ہیں۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ ملکہ کی وفات پر پاکستانی قیادت کے پیغامات پر بہت انکساری کے ساتھ شکرگزار ہوں، سوگ کے پہلے دن مجھے پیغامات موصول ہوئے، صدرپاکستان، وزیراعظم، آرمی چیف، وزیرخارجہ نے تعزیتی پیغامات بھیجے، پارلیمنٹرینز، بزنس کمیونٹی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے لوگوں نے پیغامات بھیج کر تعزیت کی اور اظہار کیا کہ ملکہ ان کیلئے کیا مقام رکھتی تھیں۔ کرسچن ٹرنر نے کہا کہ یہ دنیا اس دنیا سے بہت مختلف ہے جو ان کے ملکہ بننے کے وقت تھی یا 1961ء میں ان کے دورہ پاکستان کے دوران تھی

دونوں ممالک اب برابر کے پارٹنر ہیں، یہ جدید پارٹنرشپ ہے لیکن لوگ ملکہ کی عظیم خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر نے بتایا کہ لندن برج ایکسرسائز ہمارا کوڈ ورڈ ہے جو بادشاہ کی وفات اور اس کے بعد کی تیاریوں اور پریکٹس کے حوالے سے سالہا سال سے استعمال ہورہا ہے، ہم جیسے سفیروں کو تیار رہنا ہوتا ہے.

دس دن کے سوگ کا طویل عرصہ ہوتا ہے، لندن برج آپریشن میں چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات درج ہوتی ہیں جیسے کہ ان کے تابوت کی نقل و حرکت اور کہاں تدفین ہوگی،اپنے جذبات کے اظہار کیلئے ہزاروں لوگ جمع ہورہے ہیں، مشہور فٹبالر ڈیوم بیکہم بھی کل خراج عقیدت کیلئے آئے، میرے والدین بھی گئے، میں برطانیہ میں ہوتا تو میں بھی جاتا، کنگ چارلس نے فوری بادشاہت سنبھال لی ہے، ان کی باقاعدہ تاجپوشی تدفین کے بعد مقررہ وقت پر ہوگی جو خود ایک بڑا ایونٹ ہوگا، ملکہ کی طرح کنگ چارلس کی بادشاہت بھی منفرد ہوگی کیونکہ یہ بھی تبدیلی اور ارتقا سے گزرے گی اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگی، کنگ چارلس نے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی محنتی اور دھن کے پکے انسان ہیں، انہیں مسائل کا ادراک اور فکر ہے جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی جس سے پاکستان اور دنیا متاثر ہورہے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *