مذہب

محرم الحرام

تحریر: ثوبیہ بشیر

محرم کے لغوی معنی ہیں۔حرمت والا، عزت والا ’محرم الحرام‘‘ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تبارک وتعالی نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔وہ چار مہینے ہیں: ذوالقعد، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب۔ ان مہینوں میں ہراس کام سے جو فتنہ وفساد، قتل وغارت گاری اور امن وسکون کی خرابی کا باعث ہو منع فرمایا گیا ہے۔حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔

  محرم ادب و احترام والامہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے ادب و احترام والا بنایا ہے۔جب کہ اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کو جاری رکھا ۔دور جاہلیت میں اہل عرب بھی اس ماہ مقدس کا اس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لئے کم از کم اتنا حیلہ ضرور کرلیتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہینے کو کسی دوسرے غیر حرمت والے مہینے سے بدل لیتے تھے۔

حجة الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے۔ کہ ماہِ محرم کی حرمت و تعظیم کا حضرت حسین کے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ لوگ جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں جو اس مہینے کی حرمت کی کڑیاں واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ سےجوڑتےہیں۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ ماہِ محرم کی حرمت تو اس دن سے ہی قائم ہے۔جس دن سے یہ کائنات بنی ہے۔ سانحہ کربلاء قطع نظر اس سے کہ اس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوئی۔ دین اسلام میں اس واقعہ کا اس معنی میں کوئی تعلق نہیں ۔کہ اس واقعہ کو محرم الحرام کی پہچان بنا دیا جاے۔ دین اسلام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت سے کئی عشروں پہلے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہوچکا تھا،جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿اَلْيوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِيتُ لَکُمُ الإسْلَامَ دِينًا﴾ المائدة:۲)

اور یہ کہ دین کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھا رکھا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإنَّا لَه لَحَافِظُوْنَ﴾

یہ تصورتو جہالت وکم علمی پر مبنی ہے۔اوربدعات میں سے ایک بدعت ہے۔کہ ماہِ محرم کا ادب و احترام شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کا مرہونِ منت سمجھا جائے۔ بلکہ شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ سے پہلے اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدرصحابی خلیفہ راشد کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آچکا تھا۔ مگر اس وقت سے آج تک کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ شہادت اس انداز سے پیش نہیں کیا گیا۔

حالانکہ اگر کسی بڑے آدمی کی موت یا شہادت کسی مہینے کے ادب و احترام کی علامت ہوتی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ وہ صحابی ٴرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جواپنے علمی، دینی، روحانی اور خلیفہ ثانی ہونے کے حوالے سے اس بات کے امام حسین رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ مستحق ہوتے کہ ان کی شہادت پر وہ سب کچھ کیا جاتا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پرکیا جاتا ہے۔ مزید برآں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر و جلیل القدر صحابہ کرام کی شہادتیں بدرجہ اولیٰ یہ استحقاق رکھتی ہیں۔ مگر دین اسلام ان شہادتوں پر نوحہ وماتم اور مجالس عزا وغیرہ کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے۔کہ سانحۂ کربلا کے رنج و غم کو منانے میں چندفرقےاس انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔کہ نوحہ و ماتم سے دور جہالت کی ان قبیح رسومات کو زندہ کرنے لگے ہیں۔جن سےہمارےنبٰی حضرت محؐمد صلٰی اللہ علیہ والہ واسلم اور ہمارےدین نے سختی سے منع کیا ہے۔جبکہ ناصبی اور خارجی قسم کے لوگ رافضیوں کی عداوت میں سانحۂ کربلا پر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ایام میں ماکولات و مشروبات کا انتظام کرنے لگے۔ پھر ایصالِ ثواب اور سوگ کے نام پر یہ دونوں باتیں دیگر مسلمانوں میں بھی بڑی تیزی سے سرایت کرگئیں۔حالانکہ راہِ اعتدال یہی ہے کہ ان تمام بدعات و خرافات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے واقعہ کربلا کو مسلمانوں کے لئے عظیم سانحہ اور حادثہ فاجعہ قرار دیا جائے۔اور حضرت حسینؓ اور یزید کے سیاسی اختلافات اللہ کے سپرد کرکے دونوں کے بارے میں خاموشی کی راہ اختیار کی جائے۔

ماہِ محرم میں روزے کے سوا اور کوئی عمل ثابت نہیں۔ اس کے علاوہ جو اعمال و رسوم کئے جاتے ہیں شریعت سے ان کا دوردور تک بھی کوئی تعلق نہیں۔ خیبر کے لوگ اس دن اچھے لباس کا اہتمام کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے ۔کہ اہل خیبر یوم عاشوراء کا بڑا اہتمام کیاکرتے تھے۔ اسی دن لوگ روزے رکھتے تھے۔ اور اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے۔ اور اس دن اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم اس دن صرف روزہ رکھو”۔ (صحیح مسلم)

حاصل یہ ہے کہ اللہ ارحم الراحمین اور نبی رحمت للعالمین نے امت ِمسلمہ کوماہِ محرم خصوصاً یومِ عاشوراء کی فیوض و برکات سے مطلع کردیا ہے۔ تاکہ ہم شریعت کی ہدایات کے مطابق عمل کرکے سعادتِ دارین حاصل کرسکیں مگر بعض بے علم لوگوں نے ان ثابت شدہ ہدایات پر قناعت نہیں کی بلکہ یومِ عاشوراء کے فضائل میں بے شمار کمزور ومہمل حدیثوں کو گھڑ لیا اور اس کے ذریعے خاص و عام سبھی کو گمراہ کیا۔

ہم نے ماہِ محرم سے بہت سے غلط رواج وابستہ کرلئے ہیں۔اسے دکھ اور مصیبت کامہینہ قرار دے لیا ہے ۔جس کے اظہار کے لئے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ رونا پیٹنا،خود کو اذیت دینا، تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ منعقد کرنا اور ان سب کو دین سے نسبت دینا صریحاً غلط ہے۔دور حاضر میں ہم میں سے اکثریت ثواب سمجھ کر بڑے زوروشور سے ان بدعات پر عمل کر کےنبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمودات کے صریحاً خلاف جاتےہیں۔ شیعہ حضرات کی دیکھا دیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مثلاً اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب و آلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتا ہے۔ اور لوگ اعمالِ مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ خصوصیت سے عاشوراء کے روز بعض مساجد و مقابر کی زیارتیں کرتےہیں اور خوب صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس دن اہل و عیال پر فراخی کرنے کو سارے سال کے لئے موجب ِبرکت سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے۔ لیکن یہ صرف ایک واقعہ ہی نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہو۔ بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونماہوئے ہیں۔ جن میں سے اگرچہ چند ایک افسوسناک ہیں۔ تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور خدا کا شکربجا لانا چاہیے۔ اس ماہ میں اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی کے قریب آ کر ٹھری۔حضرت یوسف علیہ السلام کو قید سے رہائی ملی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرایل کو فرعون اور آل فرعون سے نجات دلائی۔اور قیامت کا ظہور بھی اسی ماہ مبارک میں ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ یہ تمام واقعات محرم الحرام میں پیش آۓ۔

حقیقت تویہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا کوئی ہی ایسا دن باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا حادثہ رونما نہ ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوار ایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے۔ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت اور صالحین پر ایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔اور ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات ہیں ۔جن کو سننے کی تاب کسی میں نہیں ۔تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے ؟؟

اسلام نے واقعاتِ خیرو شر کو ایام کا معیارِ فضیلت قرار نہیں دیا۔ بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے۔ قرآن مجید میں کفار کے اس قول کی مذمت بیان کی ہے۔

﴿وَما يُهلِكُنا إِلَّا الدَّهرُ‌…….٢٤ ﴾….. سورة الغاثیہ ” ہمیں زمانہ کے خیروشر سے ہلاکت پہنچتی ہے۔

حدیث میں ہے

زمانے کوگالی نہ دو کیونکہ بُرا بھلا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔یعنی خیروشر کی وجہ لیل و نہار نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کار سازِ زمانہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اچھے یا بُرے دن منانے کی کوئی اصل ہی تسلیم نہیں کی۔نوحہ وماتم بزرگانِ دین کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

تاریخ شاہد ہے۔کہ یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر و استقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں۔ اورانکے ورثا بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔ نہ کسی نے آہ و فغاں کیا، نہ کسی نے ان کی برسی منائی، نہ چہلم۔ نہ روئے نہ پیٹے، نہ کپڑے پھاڑے، نہ ماتم کیا اور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال سال بعد تیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں۔ یہ رسوم و رواج نہ صرف روحِ اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی توہین ہے۔بلکہ غیر مسلموں کے لئے استہزاء کا سامان ہیں۔ اسلام تو ہمیں صبر و استقامت کی تعلیم دیتا ہے ۔ارشاد ربانی ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ‌ الصّـٰبِر‌ينَ﴾ (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو)

سورة البقرة میں ارشادہے”وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں”۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے

جو شخص سرمنڈوائے، بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے، میں اس سے بیزار ہوں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے ۔کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے۔ آمین ۔

WhatsApp Group Join Now

One thought on “محرم الحرام

  • Amjad Jatoi

    sharm thori si bhi hoti tum logon main to doob marte tum loag

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *