محبت کا سفر
تحریر:ہیر داتا لندن
وقت نے آج کس مقام پر لا کھڑا کیا مجھ کو، آج کئی دہائیوں کے بعد اس کو ملنا تھا۔
اتنا وقت گزرنے کے باوجود ذہن میں اسکا وہی پچاس سال قبل کا وجود نظر آنے لگا۔ وہی لہراتاجسم وہی کالی زلفیں، گلابی چہرہ، رخسار پر اٹھراتی وہ آوارہ سی زلفیں، وہی تبسم، وہی انداز اور سب سے بڑھ کر وہ اسکا میری طرف دیکھنے کا انداز جو خامشی سے سب کچھ بیاں کردیتا تھا ۔
ذہن میں وہ سب کچھ گھومنے لگا، گرمیوں کی نیم خنک چاندنی راتوں میں اور سردیوں کا گرم لحاف میں اک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر وہ گھنٹوں باتیں کرنا کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلنا۔
پھر گردش زمانہ نے اس کی تقدیر کہیں اور لکھ دی اور میں کسی اور گلشن میں آگیا۔ کبھی مڑ کر اپنے ماضی کو نہی دیکھا، شائید ان حسین یادوں کو کسی بوتل میں ڈال کر بند کردیا کہ کہیں آوارہ ہوائیں اس مشک کو نہ لے اڑیں۔
اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود آج اس عمر میں بھی نہ جانے کیوں اپنے بالوں کی سفیدی، کمر کی جھکاوٹ اور آواز کی لرزش محسوس نہ ہوئی۔ مگر اسے دیکھتے ہی ماضی کسی سوکھے پتے کی مانند کہیں اڑ گیا۔ میرے سامنے ایک لاغر وجود اپنے سفید بالوں، زرد چہرہ، آنکھوں کے گرد سرمئی ہلکوں کے ساتھ موجود تھا ۔ نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ میں خود کو آئینہ میں دیکھ رہا ہوں۔
زندگی کے جس بندھن نے دونوں کو اک دوسرے سے جدا کیا تھا، وہ کب سے ختم ہوچکا تھا، دونوں وجود اب آزاد تھے، تبھی تو دہائیوں کے بعد بہت جستجو کے بعد ملنے کا خیال آیا۔
ہم نےجو چاہا تھا وہ ہو نہ سکا مگر جو ملا اسے دل سے قبول کیا اور اس رشتہ کو پورے خلوص سے نبھایا، کبھی پلٹ کر ماضی کو نہ دیکھا نہ ماضی سے کوئی ناتہ جوڑا۔ تبھی تو دہائیوں کا سفر ماضی کی یادوں سے دور گزرا۔
بہت دیر یونہی بغیر کچھ کہے اک دوسرے کی کہانی صرف آنکھوں کی زبانی پڑھتے رہے۔ نہ وہ بولی نہ میں نے کچھ کہا مگر دلوں نے سب جان لیا۔
پھر ہماری نگاہیں جھکیں کچھ سوچنے کیلئے۔ کچھ کہنے کیلئے۔ اچانک میں نے اسکا ہاتھ پکڑا۔ ایسے لگا جیسے اک بے جان گوشت کو چھو لیا۔ کہاں وہ کرنٹ جو کبھی انجانے میں انگلی لگ جانے سے جسم بھر میں دوڑ جاتا تھا اور کہاں یہ دو سرد ہاتھ۔ نہ جانے کہاں سے قوت گویائی امڈ أئی۔ میں نے کہا زندگی میں بہت اچھے کام کئے اور کچھ برے بھی ضرور کئے ہونگے، آئو اک بار پھر سے ماضی میں چلیں۔ اگر یہ گناہ ہے تو اک گناہ اور سہی۔ چلو پھرسے اپنی محبت کی ادھوری کہانی بنائیں۔ یکدم مجھے اس کے ہاتھوں میں گرمی محسوس ہوئی، اس نے سر اٹھایا میرے دل نے پھر وہی گلابی دمکتے گال دیکھے، وہی نشیلی آنکھیں۔ اور اگلے ہی لمحہ وہ میری آغوش میں تھی۔ جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑا ، یوں لگا ہمارے درمیان یہ دہائیوں کی جدائی تھی ہی نہیں۔

