خشکیوں کے ساحل پر, رونقیں بڑھانے کو
تحریر :حافظ اسد اللہ وحید سیرالیون
خشکیوں کے ساحل پر, رونقیں بڑھانے کو
لوگ کیوں ترستے ہیں, اک محل بنانے کو
جن کے من میں خواہش تھی جیتنے کی یہ دنیا
ہار بیٹھے ہیں جیون, جا چکے ٹھکانے کو
جس قدر بھی مشکل ہو, بت کدوں کی بربادی
بت شکن بہادر ہو, بت کدے گرانے کو
آستیں چڑھانے کی, ریت تو پرانی ہے
دشمنی تو کہتے ہیں, اب گلے لگانے کو
آندھیوں سے کیا شکوہ, جب دیے ہی ناقص ہوں
اک جگر ہی بچتا ہے ,رات بھر جلانے کو
بے بسی میں ڈوبا جب , باپ اپنے گھر لوٹا
مرچکے تھے گھر والے, کچھ نہیں تھا کھانے کو
بد نصیب جس کے پاس, کچھ بچا نہ کھونے کو
خوش نصیب جس کے پاس, ڈھیر ہے لٹانے کو
اشکبار آنکھوں سے ,ایک دن غضنفر بھی
مسکرایا, پھر بولا ,دیکھ لو دیوانے کو
