تحریک خلافت کا مختصر تعارف
تحریر:محمد وصی صدیقی

جہاں تک تحریک خلافت کی تاریخ کا سوال ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر مصنفین و مؤلفین اس پرسرسری گذر گئے اور جس نے کچھ لکھا بھی تو تاریخ اور سنہ تک موجود نہیں۔ البتہ گاندھی جی کی زندگی پر بہت کچھ لکھا گیا جس سے کافی مدد ملتی ہے کیونکہ ۱۹۱۸ء سے ۱۹۲۵ء تک گاندھی جی کی زندگی اور تحریک خلافت ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ اسلامی خلافت کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ اسلام کا۔ لیکن آج وہ ایک بھولا ہوا سبق ہے۔ تحریک خلافت کا یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے ہمارے ملک میں آزادی کامل کی بنیاد پڑی۔ اور ہندو مسلم اتحاد کا بیج بویا گیا۔ تحریکِ خلافت ایک مشعل تھی جس نے ہندوستان کے ضمیر کو روشن کیا اور اس اجالے میں اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔ فروری ۱۹۲۰ءمین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘
مشہور نو مسلم انگریز مصنف و مترجم قرآن مسٹر محمد مارڈیوک پکتھال سابق ایڈیٹر ممبئی کرانیکل نے ڈاکٹر سید محمود کی کتاب’’خلافت اور اسلام‘‘ کے دیباچہ میں لکھا ہے:۔
مذہب اسلام حیات انسانی کا مکمل قانون ہے اور تہذیب و شائستگی کا مخزن ہے جو ابھی تک اپنے عروج کو نہیں پہونچا ہے۔ خدا کے قوانین جو بنی نوع انسانی پرکلیتاً حکمراں ہیں اور وہ قوانین جن کی پابندی پر انسانی زندگی کی اخلاقی ترقی مبنی ہے سوائے قرآن شریف کے اور کسی کتاب میں صراحتاً موجود نہیں ہے۔ اسلامی تہذیب قوانین الٰہی پر مبنی ہے۔ خلیفہ اس کا دینوی سردار ہے، خواہ اہل عرب ہوں یا غیر اہل عرب۔ خواہ اس کا دارالحکومت بغداد ہو، مدینہ ہو یا قسطنطنیہ، اور اسلامی تہذیب اور ترقی کا مرکز، مرکزِ خلافت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے‘‘
حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ’’پرانے چراغ‘‘ حصہ دوئم میں لکھا ہے:۔
’’تحریکِ خلافت کے رہنماؤں میں اصل روح مولانا محمد علی جوہر کی کام کر رہی تھی وہ شعلہ جوالہ بنے ہوئے تھے۔ گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ پھر کر پورے ملک کو حرارتِ ایمانی اور جوشِ آزادی سے مخمور بنا دیا تھا۔ دراصل انھیں نے گاندھی جی کو ان کے گوشۂ عزلت سے نکالا اور ان کے ساتھ دورہ کر کے اور ان کی جے کارلگوا کر ان کو عوامی لیڈر اور ملک کا محبوب رہنما بنا دیا۔ تحریک خلافت و آزادی وطن کے ساتھ تحریک ترک موالات ضم کر کے غیر ملکی حکومت کے خلافت نفرت اور بغاوت کی آگ بھڑکادی اور آزادیٔ وطن کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ سارے ملک میں یہاں تک فوج و پولس میں ایک جنبش اور مظبوط انگریزی فوج میں ایک ارتعاش پیدا ہوگیا‘‘
مہاتماگاندھی اس اعلان کے ساتھ تحریک خلافت میں شریک ہوئے تھے یہ مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے اور جب ہمارے مسلمان بھائی بے چین ہیں تو ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں بار بار کہا تحریک خلافت کو مسلمانوں کا ایک مقدس معاملہ سمجھ کر اس میںشریک ہوا ہوں۔ عزل خلافت کے بعد مہاتما گاندھی نے کہا کہ اگر میں ایک نجومی یا غیب داں ہوتا اور مجھے معلوم ہوتا کہ ترکی میں خلافت توڑی جائے گی تب بھی میں اس میں اسی عزم و حوصلے کے ساتھ شرکت کرتا۔ ہندوستان کے تمام بڑے بڑے لیڈر پنڈت موتی لال نہرو ، سی آرداس،بپن چندر پال، لالہ لاجپت رائے، پنڈت مدن موہن مالوی وغیرہ اسی موقف کے حامی تھے۔ مسلمانوں میں ہر طبقہ خیال اور نقطہ نظر کے علماء و لیڈران خلافت ’’خلافت‘‘ کو خالص مذہبی معاملہ سمجھتے اور اسی کے مطابق استدلال کرتے تھے شائد کسی ایک مسئلہ پر علمائے ہندوستان کبھی اس طرح متفق نہیں ہوئے۔ لیڈران قوم میں حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، رہبرانِ علیگڑھ اور لیڈان مسلم لیگ سب مضطرب و بے چین اور خلافت تحریک اسلامی اور مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لئے انگاروں پر لوٹ رہے تھے۔ تحریک خلافت ہی کے زمانے میں جمعیۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے روشن خیال علماء نے آخر وقت تک کانگریس اور گاندھی جی کے پیام عمل کی تائید کرتے ہوئے ملک کی آزادی کے لئے دارو رسن کو دعوت دی اور مسلم لیگ کا تادم آخر مقابلہ کر کے تقسیم پر کبھی راضی نہ ہوئے۔
جس وقت تحریک خلافت کا آغاز ہوا مسلمانوں میں بہترین دل و دماغ رکھنے والے دانشور موجود تھے۔ مثلا مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مفتی کفایت اللہ، مولانا ابووفا ثناء اللہ امرتسری، مولانا احمد حسین مدنی، مولانا محمد سجاد بہاری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سلامت اللہ فرنگی محلی، مولانا عبدالماجد بدایونی، مولانا سید محمد ناصر الہٰ بادی، مولانا سید داؤد غنوی،مولانا آزاد سبحانی ، مولانا ارحمان الدھیانوی، ڈاکٹر مختار انصاری، مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مسٹر مظہر الحق، ڈاکٹر محمود صفدر(پنجاب) اور ظفر علی خاں وغیرہ۔ یہ وہ لوگ تھے جو تحریر و تقریر ،علم وفن فکر صالح اور تحقیق کے علاوہ میدان عمل کے مجاہد بھی تھے۔ ان میں انشاء پرداز بھی تھے اور شاعر بھی، علوم دینیہ کے مجتہد اور محقق بھی اور علوم دینیہ اور علوم مغرب کے شناسا اور امام بھی۔ یہ تمام اکابرین ملت اس سرفروشانہ جدو جہد میں پورے انہماک اور بے جگری سے شریک ہوگئے اور تحریک خلافت تحریک آزادی میں تبدیل ہو گئی اور ہندوستان کے تمام لیڈر گاندھی جی کی قیادت میں یک دل ہوکر منزلِ آزادی کی جانب چل پڑے۔
ہندوستان میں تحریک خلافت کے اجراء کے وقت مسلمانوں کے عظیم اضطراب کے کئی اسباب تھے۔ پہلی وجہ خلافت مرکز اسلامیہ سے مسلمانوں کی قلبی وابستگی، جذباتی لگاؤ اور گہرے عشق و محبت کی تھی، خلافت کا قیام اسکی بقاء اور اسکے استحکام کو مسلمانانِ عالم نے ہمیشہ اپنا مذہبی فریضہ جانا۔ دوسری بڑی وجہ جو مسلمانوں کو بے چین کئے ہوئے تھی وہ بالخصوص برطانیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مسلم ممالک بالخصوص ترکی کے خلاف اس کی معاندانہ کاروائیاں تھیں۔ برطانیہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی سعی و جدو جہد میں سب سے آگے تھا ۔ ۱۹۱۴ء سے قبل اس نے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کا پورا سامان کر لیا تھا۔ مصر پر انگریز کا آہنی پنجہ گڑا ہوا تھا۔ ایران ، روس اور برطانیہ کا غلام ہو چکا تھا۔ مراقش پر فرانس قابض تھا۔ ترکی طرابلس الغرب کا صوبہ افریقہ کھو چکا تھا اور ترکی ایک مردِ بیمار کی طرح اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا ۔ ترکی اور کل یورپ سے قریب پانچ سو سال کی جنگ سب کے سامنے تھی اور مسلمان بجا طور پر یہ سمجھتا تھا کہ اگر یہ خلافت عثمانیہ کا جھلملاتا ہوا چراغ گل ہو گیا تو مسلمانوں کا کوئی وقار دنیا میں باقی نہیں رہ جائے گا ۔ جنگ بلقان اور جنگ طرابلس میں مسلمانان ہند نے جو جوش اور ولولہ اور ایثار قربانی کا مظاہرہ کیا تھا وہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ خلافت کا زوال مسلمانوں کی برداشت سے باہر ہے۔ یوروپ نے ہمیشہ ترکی سے جنگ مذہبی بنیاد پر کی اور ان کو مسلمانوں کا پیشوا اور محافظ قرار دیا اسطرح مسلمانان عالم کے دِل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ترکی کی بقاء اسلام کی بقاء اور ترکی کا زوال اسلام کا زوال ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہ خلافت اسلامیہ اور حکومتِ ترکی کے ساتھ دامے درمے قدمے سخنے شریک رہا۱۸۹۷ءمیں یونان کے جنگ شروع کرنے پر اور ۱۹۱۲ء میں بلقان کی جنگ کے موقع پر مسلمانان ہند نے چندہ اکٹھا کر کے ترکوں کی مدد کی تھی۔ ترکی کا معاملہ مسلمانوں نے ہمیشہ تحفظ اسلام اور تحفظ خلافت مرکز اسلامیہ کو سمجھ کر اپنے مذہب ، اپنی زندگی اور اپنے وجود و بقاء کا معاملہ سمجھا۔ تحریک خلافت کے زمانے میں فرنگی محل مرکز رہا ۔ مولانا محمد علی جوہر مولانا عبدالباری کے مرید تھے اور وہیں سے ان کو اور شوکت علی کو مولانا کا اعزازی خطاب بھی عطا ہوا تھا۔ چنانچہ وہ واقعی مولانا ہوگئے۔
۲۳؍نومبر ۱۹۱۹ء کوخلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس مسٹر فضل الحق(بنگال) کی صدارت میں ہوا تھا اتنا ہجوم خلائق تھا کہ چاندنی چوک اور جامعہ مسجد کی راہ دوگھنٹے میں طے ہوئی ۔ اس اجلاس میں صرف خلافت کمیٹی کے قائم مقام شریک کئے گئے تھے جو تمام صوبوں سے آئے تھے البتہ گاندھی جی کو ان کی عظمت کی بنا پر شریک کیا گیا تھا اور کچھ ہندو بزرگوں نے بھی شرکت کی تھی جن کو مسلمانون نے اپنا نمائندہ بناکر بھیجا تھا۔ رنگون، بنگال، بہار، صوبہ، متحدہ، سندھ وغیرہ سے جو ہندو آئے تھے ان کو مسلمانوں نے خلافت کمیٹی کی طرف سے بھیجا تھا۔ شیعہ حضرات بھی اس میں شریک تھے۔
دسمبر ۱۹۱۹ء میں مولانا محمد علی و مولانا شوکت علی بیتول جیل سے رہا ہوئے اسی وقت امرتسر میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کا اجلاس مقرر تھا اور اسی کے ساتھ خلافت کانفرس بھی ہو رہی تھی۔ دونوں بھائیوں کو کانگریس کی طرف سے دعوت دی گئی اور دونوں بھائی براہِ راست جلسہ گاہ میں پہنچے۔ مولانا محمد علی نے ایک طویل تقریر کی جو بے حد جذباتی اور پر اثر تھی۔ اب مسلمانوں کے سوچنے کا یہ انداز تھا کہ خلافت مرکز اسلامیہ کی بربادی جزیرۃ العرب کی شکست اور ریخت اور پوری دنیائے اسلام کی تباہی کی ذمہ داری برطانیہ پر ہے اور مسلمانوں کو اپنے ہندو بھائیوں سے مل کر ایک متحدہ قومی جمہوریہ برطانیہ کے اثر سے آزاد بنانا چاہئے اسی سے برطانیہ کے غرور اور اسکی طاقت کا توڑ ہو سکتا ہے۔
گاندھی جی تحریک خلافت سے اپنی پوری ہمدردی اور معاونت کا اقرار پہلے ہی کر چکے تھے۔ ۲۵؍جنوری ۱۹۲۰ء کو دہلی میں ایک جلسہ ہوا جسمیں لوک مانیہ تلک اور دوسرے کانگریسی لیڈر بھی شریک تھے اور سب نے مسلمانوں کے موقف کے ساتھ اپنی پوری اعانت کا وعدہ کیا۔ لالہ لاجپت رائے (پنجاب )،بپن چندرپال(بنگال) وغیرہ وغیرہ سب ساتھ آگئے اور خلافت مسئلہ پر ہندو اور مسلمان میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔
۱۹؍نومبر ۱۹۲۱ء کو بنگال کی گورنمنٹ نے کانگریس اور خلافت کی تمام والینٹر تنظیموں کو خلافِ قانون قرار دیا اور سیاسی جلسوں کو دبانے کا حکم صادر کر دیا۔ پنجاب صوبہ متحدہ بہار اور آسام نے تقلید کی اور اس طرح کے احکام جاری کئے۔ ان احکام کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔ یوپی جبرو تشد د میں سب سے آگے نکل گیا۔
۳؍مارچ ۱۹۲۴ء کو مصطفیٰ کمال پاشا نے خلافت کا خاتمہ کردیا اور ترکی حکومت دیگر حکومتوں کی طرح ایک دنیوی حکومت رہ گئی۔ اس واقعے نے ہندوستان میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑا دی۔ گیل منالٹ نے The Khilafat Movementنامی کتاب میں لکھا ہے۔
The study of the khilafat movement has thus indicated certian patterns which are applicable to national movements generally, and to movements of islamic protest more specifically
In some others respects, the effects of the khilafat movement were limited. The collapse of the khilafat movement must be seen in this context. The government contributed by arresting the leadership, and the Turks contributed by abolishing the caliphate; but the crucial factor was the inability of the nationalist alliance to hold in the face of conflicing pressures from its many constituencies
(تحریکِ خلافت کے مطالعہ سے کچھ مخصوص نکات عیاں ہوئے جو عموماً قومی تحریک سے مطابقت رکھتے ہیں اور بالخصوص اسلامی احتجاج کی تحریک سے دیگر معاملات میں تحریک خلافت کے اثرات محدود تھے۔ تحریک خالفت کے عزل کو لازماً اس نظریہ دیکھا جائے۔ حکومت نے لیڈان کو مقید کر کے اور ترکوں نے خلافت کا خاتمہ کرکے موقع فراہم کیا مگر فیصلہ کن عنصر نیشلسٹ ایلائنس کی معذوری تھی جو مختلف اطراف سے مخالفت کے دباؤ میں تھی)
عزل خلافت کے بعد ہندوستان میں خلافت کمیٹیاں قائم رہیں اور اوریہ اسکیم بنتی رہی کہ حکومت انگورہ کو مشورہ دیا جائے۔ وہاں وفد روانہ کیا جائے کہ وہ خلافت قائم کریں لیکن یہ سب خواب تھے جو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔
تحریک خلافت نے ہندوسان کے اندر ایک عام جذبہ منزل آزادی کامل کی جانب عزم و ہمت سے چلنے کا اور راہ کی مشکلات اور مصائب پر استقامت بالحق اور تمنائے سرفروشی سے کام لینے کا عملی سبق دیا۔ ہم چلے اور گرے۔ ہم کو ٹھوکریں لگیں۔ ہمارے لیڈروں نے غلطیاںکیں لیکن جو کارواں روانہ ہوا تھا اس کا بانگِ جرس خاموش نہیں ہوا اور اس جذبہ کو تحریک خلافت نے جنم دیا تھا۔ یعنی تحریک خلافت ختم ہو کر کل ہندوستان کو تحریک آزادیٔ وطن دے گئی۔
’’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘(یو این این)

