اندر کا انسان
تحریر :عیشا صائمہ
آپ بظاہر جیسے بھی ہوں لیکن آپ کا اندر کا انسان بہت معنی رکھتا ہے ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو بہت سے لوگ بہت سے رشتے بظاہر تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کا ہونا نہ ہونا آپ کے لئے برابر ہوتا ہے آجکل تعلق، دوستیاں بھی اپنے مفادات کے لئے کی جاتی ہیں اور ہمارے اردگرد ایک ٹولہ ایسا بھی ہے جو خوشامد سے بھر پور زندگی گزار رہا ہے اور، اکثر دیکھا گیا ہے وہ لوگ اپنے اس فن کو استعمال کرتے ہوئے کسی کے نظر خاص بھی بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ جو محنت کو اپنا شعار بنا کر اپنی ڈگر پر چل رہے کہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں یہ چیز صرف معاشرتی رابطوں میں نظر نہیں آتی بلکہ آجکل بہت قریبی رشتے بھی اس میں گرفتار نظر آتے ہیں آجکل رشتے قائم نہیں کیے جاتے بلکہ اک تعلق ہے جو ظاہری طور پر بنا کر اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – عہدے، وزارتیں، دولت یہ ہی تو تعلق کی اصل بنیاد ہے
مخلص ہونا، دوسروں کی عزت کرنا ان سے احترام سے پیش آنا یہ وہ بہترین تربیت سمجھی جاتی تھی جس پر والدین کیا پورا خاندان فخر کرتا تھا آجکل فخر صرف دولت، بدتمیزی جسے خود اعتمادی کا نام دیا جاتا ہے اور اکڑ کر چلنا پھر اسے انفرادیت کا نام دینا قابلیت ہے معاشرے میں سدھار لانے کی بات ہر کوئی کرتا لیکن عمل کے وقت سب پیچھے ہوتے..” محبت” یہ لفظ آجکل اتنا بے معنی ہو گیا ہے کہ اس سے بھی بے حسی کی بو آتی ہے قریب بیٹھے رشتوں کی پرواہ نہ ہو اور انسان معاشرے کو سدھارنے نکل پڑے.. محبت کیا ہے؟ کسی کا احساس کرنا یہ نہیں کہ اپنی چالاکیوں اپنے دکھاوے سے اپنے ظاہر کو خوب صورت بنا کر دوسروں کو بے وقوف سمجھنا وہ شخص اندھا ہو سکتا ہے لیکن رب سب دیکھ رہا ہے –
آج کے دور میں سب سے بڑی اور بہترین نعمت مخلص رشتے ہیں ان کی قدر کیجیے اپنی چالاکیوں سے یہ ثابت نہ کیجیے کہ آپ ہر طرح سے مکمل ہیں آپ لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہیں، رب کو نہیں..
جو لوگ ہر وقت ہر کسی کے لئے دستیاب ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کسی کوبھی اپنا سمجھ کر خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ ہی محبت ان کے لئے مہنگی پڑ جاتی ہے اور جن پہ انہوں نے اپنی محبت اپنا خلوص نچھاور کیا ہوتا ہے وہ بدل جاتے ہیں اور بدل جانے کے بعد ظلم کی انتہا یہ کہ وہ اس بات کو مانتے بھی نہیں. کسی کو تکلیف دینے سے پہلے یہ ضرور یاد رکھیں دنیا مکافات عمل ہے اور یہ بھی یاد رہے
اللہ تعالیٰ سورہ بنی اسرائیل (آیت 14 اور 15) میں فرماتا ہے-
ترجمہ – “اور ہر انسان کا اعمال نامہ ہم نے اس کی گردن سے چمٹا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے لئے اُسے ایک کتاب کی صورت میں نکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا”
یہاں طاہر سے مراد ہر انسان کا اعمال نامہ مراد ہے جو ظاہری شکل میں لٹکا ہوا نہیں ہوتا مگر قیامت کے دن اسے ظاہر کر دیا جائے گا – یہ ایسا ہی محاورہ ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے
کہ” اپنے گریبان میں جھانکو” کہ تم خود کیسے ہو؟ اسی طرح اگلی آیت میں بیان ہوا –
ترجمہ “اپنی کتاب پڑھ آج کے دن تیرا نفس تیرا حساب لینے کے لئے کافی ہے -”
علاوہ ازیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
“ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ”
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا نہ ہی اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے نہ ہی جھوٹ بولتا ہے نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے – تقوی اور پرہیزگاری یہاں ہے اور “آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے سینے (دل) کی طرف تین بار اشارہ کیا”-
(یعنی ظاہر میں اچھے عمل کرنے سے انسان متقی نہیں ہوتا جب تک اس کا دل صاف نہ ہو) کسی انسان کے برا ہونے کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے – ہر مسلمان کا خون، اس کا مال، اس کی عزت دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے
اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ہماری ان باتوں کی طرف رہنمائی فرما رہے ہیں جو ہم مسلمانوں پر واجب ہے یعنی یہ کہ باہم محبت و الفت رکھیں ایکدوسرے کے ساتھ اچھے انداز اور شرعی تقاضوں کے مطابق برتاؤ کریں جو ہمیں بہترین اخلاق تک لے جائے اور برے اخلاق سے ہمیں دور کر دے اور ہمارے دلوں سے باہمی بغض کا خاتمہ کر دے اور ہر ظلم اور دھوکہ اور ہر ایسے شائبہ سے پاک ہو جائے جو ایذا رسانی اور تفرقے کا باعث ہوتا ہے- کیونکہ ایک انسان کا دوسرے انسان کو اذیت پہنچانا حرام ہے چاہے وہ امیری، بڑائی اور اس کی وجاہت ہو چاہے اس کی زبان، ہر مسلمان کا خون اس کا مال اور، عزت دوسرے انسان پر حرام ہے – بڑائی عزت و شرف کی بنیاد صرف اور صرف تقویٰ ہے چاہے وہ اپنا ہی قریبی کیوں نہ ہو؟ ”
کیونکہ آج سے چودہ سو سال پہلے نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں یہ پیغام دے دیا تھا کہ”
” اے لوگو بے شک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ بے شک عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی عجمی کو عربی پر۔ اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں اور کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے”
یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے محبتیں بانٹیں انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں
لیکن اس میں کہیں بھی ریاکاری کا پہلو نہ ہو ورنہ آپ کی ساری ریاضت رائیگاں چلی جائے گی ہر عمل کو خالص اللہ کے لئے کریں اور برائی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں تاکہ اپنے رب کے پسندیدہ بندے بن سکیں نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی -یہ ہی اصل کامیابی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے اندر کا انسان زندہ ہے اور برائی پر انہیں ملامت کرتا اور نیکی کرنے پر مطمئن ہوتا ہے یہ ہی اصل مومن کی پہچان ہے
جسے برائی افسردہ کرے اور نیکی کے لئے وہ ہر وقت تیار رہے-اور اس کے کسی بھی عمل میں خوشامد، دکھاوا اور تکبر نہ ہو بلکہ ہر کام خالص اللہ کی رضا کے لئے کرے –
