ہالا: مٹی اور رنگوں کا شہر
تحریر:ابوبکر شیخ
انسان کے خون میں جو اکثر پگڈنڈیوں پر چلنے اور نئے مقامات دیکھنے کی بے چینی بہتی ہے اصل میں یہ ہی جوہر ہے جو دوسرے جانداروں کے مقابلے انسان کو ایک خاص مقام عطا کرتا ہے۔ اگر یہ بے چینی اس کے رگ و پَے میں نہ ہوتی تو نہ یہ دنیا کو کھوج پاتا اور نہ اتنی اقوام اس دنیا میں بستیں۔ نہ یہ شاندار عمارتیں بنی ہوتیں اور نہ تارکول کی شاندار وسیع سڑکیں ہزاروں میلوں تک پھیلی ہوتیں اور نہ سولر یونٹ آپ کے گھروں اور شاہراہوں کو ہر پل روشن رکھتے۔
میرے خون میں بھی بے چینی کی کشتی گزرے زمانوں کے پُراسرار بادبان کھولے بہتی چلی جاتی ہے کہ کل کے سوا آج ممکن نہیں ہے۔ مجھے شاندار عمارتیں اور لوگوں سے بھرے بازار اپنی طرف نہیں بلاتے۔ مجھے ویران شہر اور خاموش ماضی کے مزار اپنی طرف بلاتے ہیں۔ میں جب ان خاموش گلیوں اور پرانی بستیوں کے آثار پر چلتا ہوں تو گزرے زمانے اور میں آمنے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہ گزرے زمانے اپنے شب و روز کے قصے سنانے لگتے ہیں کہ جن میں ساون کی جھڑیاں بھی لگتی ہیں اور خزاں کی ویرانی بھی درد کی بیلوں کی طرح اگتی ہے۔
میں جب سفر کے ساتھی نیک محمد سومرو کے ساتھ بے نظیرآباد (نوابشاہ) سے نکلا تو اگرچہ سویرا ہوگیا تھا مگر سورج ابھی نہیں نکلا تھا۔ جاڑوں کے ابتدائی دنوں کی ٹھنڈک کی نشانی کے طور پر دھند کی ایک موٹی تہہ راستے کے دونوں طرف پھیلی ہوئی ہریالی پر چھائی ہوئی تھی۔ میں نے گہری سانسیں لیں اور پھیپھڑوں میں ہریالی کی خوشبو میں بسی ہوئی تازی ہوا کو بھر دیا۔ تازہ آکسیجن سے منظرنامہ اور نکھر گیا۔ ہم جب سکرنڈ، سعید آباد سے ہوتے ہالا پہنچے اور ہوٹل سے ناشتہ کرکے باہر آئے تو دن چڑھ آیا تھا۔ ہالا کا چھوٹا سا مصروف شہر اپنا دن گزارنے کے راستے پر چل پڑا تھا۔
آپ اگر قومی شاہراہ سے مغرب میں نکلنے والی صاف ستھری ’درگاہ سڑک‘ پر چل پڑیں تو شہر کے شمال اور مغربی کونے پر آپ کو مخدوم نوح سروری کی درگاہ ملے گی۔ مخدوم محمد الزمان طالب المولیٰ جیسے ادب دوست انسان بھی اسی شہر کی مٹی میں مدفون ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہالا کے مخدوم ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی میٹنگ ہوئی تھی اور آج تک ہالا کے مخدوم صاحبان کی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی وفاداریاں رہتی آئی ہیں۔
درگاہ روڈ پر اگر آپ تھوڑی توجہ سے دیکھیں تو آپ کو پرانے زمانے کی عمارتیں اور لکڑی کے شاندار دروازے دیکھنے کو مل جائیں گے۔ میں آپ کو اس تیسرے ہالا کے قدیم شہر کی سفری کہانی سنانے والا ہوں۔ مگر پہلے ہم جس راستے پر چل رہے ہیں اس پر چل کر مخدوم نوح سروری کی شاندار درگاہ پر چلتے ہیں۔ جہاں درگاہ کے سیمنٹ کے بنے ہوئے صاف ستھرے آنگن میں بہت سارے ہرے بھرے درخت ہیں، جن کی چھاؤں میں دوسرے شہروں سے آنے والے مسافر درگاہ کی زیارت بھی کرتے ہیں اور تھکان بھی دُور کرتے ہیں۔
مخدوم لطف اللہ سرور نوح کی ولادت فروری کے ٹھنڈے دنوں میں 1500ء میں ہالکنڈی، ٹوڑی میں ہوئی۔ مخدوم صاحب سہروردی طریقے کے ’اویسی‘ بزرگ تھے۔ مخدوم نوح کو ’سرور پیر‘ اور ’سرور شاہ‘ کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ان کے اختیار کیے گئے طریقے کو ’سلسلہ سہروردیہ اویسیہ سروریہ‘ کہا جاتا ہے۔ مخدوم صاحب کی شفقتیں اور کرامت عالم آشکار ہیں اور یہ بھی اعزاز ان کی شان میں ہے کہ، برِصغیر میں مخدوم نوح سروری وہ پہلے عالم تھے جنہوں نے قرآن شریف کا پہلا فارسی ترجمہ کیا۔ مخدوم نوح سروری نے 1586ء میں اس فانی زمانے کو ہالکنڈی کے مقام پر الوداع کہا۔
بشکریہ ڈان نیوز

