قومی

سیاسی کوہلو کے بیل

فرنود عالم

وزیر اعظم تنہائی میں جا چکے ہیں اور آرمی چیف ہجوم میں بیٹھ کر خارجہ پالیسی اور ملکی معیشت پر رائے دے رہے ہیں۔
ایک ایک حلقے کو جمع کرکے ملٹری نے کہا، ملک بحران میں ہے۔ ہم سیاسی بندو بست کر رہے ہیں آپ تائید کریں۔ سب ہوگیا، مگر معاملات پہلے سے دگر گوں ہوگئے۔ سب تباہ ہوگیا تو اب ذمہ دار کون ہے؟ عمران خان! اچھا ملٹری کا جو کردار تھا اس پر کیا کہیے گا؟ سمپل سا جواب
“عوام ٹھیک لوگوں کو منتخب ہی نہیں کرتے تو ہم کیا کرسکتے ہیں”
اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو جیتیں تو آرمی چیف نے اس شرط پر اقتدار سونپا کہ خارجہ ڈیسک فوج کا ہوگا۔ تین اور مناصب بھی۔ بی بی مصلحتا مان گئیں، مگر اقتدار میں آکر جب انہوں نے اپنی لائن لی تو تحریکِ نجات شروع ہوگئی۔ تب میاں صاحب نے ملٹری کو کندھا دیا اور بی بی کے جوتے پر پاوں رکھ دیا۔
میاں صاحب ایک محب وطن لیڈر کے طور پر لائے گئے۔ آئے تو اعلان ہوا کہ اب ہم ایک پیج پر ہیں۔ کچھ وقت میں ہی میاں صاحب کو اندازہ ہوگیا کہ پیج کا محض ایک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ پیج کا پارلیمانی ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مدتوں سینگیں اڑی رہیں، انجامِ کار میاں صاحب ملٹری کیمپ سے ہی نکل گئے۔
پی پی تو وہی پرانے رنگ میں تھی، میاں صاحب اب نئے رنگ ڈھنگ میں سامنے آئے۔ خارجہ کے محاذ پر خوب مقابلہ کیا مگر پروپگنڈوں اور سازشوں کے شکار ہوگئے۔
مودی کا یار والا نعرہ انہی کے لیے ایجاد ہوا۔ کلبھوشن یادیو کو جھولی میں سے اچانک تب نکالا گیا جب وہ ایرانی صدر سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ سی پیک کے خلاف ملٹری نے عاصم سلیم باجوہ کو اتارا، وہ الگ سے ایک پوری داستان ہے۔
یہ سفر قومی قیادت نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر شروع کیا تھا۔ اس سیکھ کو میثاقِ جمہوریت کی دستاویز میں رقم بھی کیا گیا۔ مگر پھر وہی پروپگنڈا۔ کہ میثاق جمہوریت تو دراصل چوروں کا “مُک مُکا” ہے۔ زرداری اور نواز نے باریاں لگائی ہوئی ہیں۔ اس زور کی ہوا چلی کہ میثاقِ جمہوریت کے سارے پنے یہاں وہاں اڑگئے۔
تازہ منظر نامے میں میاں صاحب بی بی ہوگئے اور عمران میاں صاحب ہوگئے۔ آگے بڑھ کر انہوں نے میاں صاحب کے جوتے پر پاوں رکھ دیا۔ انہیں بھی ایک محب وطن لیڈر کے طور پر سامنے لایا گیا۔ بتایا گیا، اب ہم ایک پیج پر ہیں۔ خان صاحب کو بھی جلد اندازہ ہوگیا کہ پیج کا محض ایک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ پیج کے حقوق پارلیمان کے نام محفوظ ہونا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
سمجھ تو گئے مگر خان صاحب کے پاس سنبھلنے کو وقت نہیں تھا۔ وہ ابتدا میں ہی بھیانک غلطیاں کرچکے تھے
۱۔ اپنی حکومت تک کی ترجمانی آصف غفور کو سونپ دی
۲۔ حاضر سروس اور سابق فوجی افسران ہر محکمے میں بٹھا دیے
۳۔ کابینہ میں سیاسی لوگوں کی بجائے غیر سیاسی لوگوں کو بٹھا دیا
۴۔ منتخب نمائندوں سے تقریبا قطع تعلق کرلیا
۵۔ سیاسی تنازعات پر قابو پانے کی بجائے اسے مزید ہوا دی
۶۔ سیاسی تنازعات کو حل کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر نیب کو سونپ دی
اب وقت آیا ہے تو خان صاحب کا ساتھ دینے کے لیے پیچھے صرف مذہبی نعرے بچ گئے ہیں۔
آج خان صاحب کی سیاسی پوزیشن اپنے کسی بھی حریف کے لیے جو بھی ہو، مگر آج سے دس سال بعد کے سیاسی نوحوں اور مرثیوں میں خان صاحب کا نام انہی وزرائے اعظم کی فہرست میں آئے گا جنہیں مدت پوری کرنے نہیں دیا گیا۔ یہ کہنا بہت مشکل ہوگا کہ اس وزیر اعظم کو اپوزیشن نے خالصتا اپنے سیاسی زور پر چلتا کیا تھا۔
کچھ بھی ہو!
اب عمران خان سمیت تمام سیاست دان ایک پیج پر آچکے ہیں۔ یہ تجربے کا پیج ہے۔ سب ایک جیسے تجربات اور نتائج کا شکار ہوگئے ہیں۔ سیاسی چپقلش اپنی جگہ، مگر سب کا غم اب ایک جیسا ہے۔
باہمی چپقلش کچھ ماہ مزید چل سکتی ہے، مگر جب دھول بیٹھے گی تو سوچنے کا وقت آئے گا۔ دیکھنا ہوگا کہ خان صاحب سمیت قومی قیادت کیا سوچتی ہے۔ لے دے کر ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ عمران خان سولو فلائٹ اتریں، باقی قومی قیادت بھی سب بھول کر لاونج میں آئے اور بیٹھ کر ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی راہ نکالیں۔ مگر اس بار یہ بھی طے کیا جائے کہ پھر سے اگر کسی محب وطن لیڈر کو آگے کیا گیا تو اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟
سیاست میں یکسوئی کا راستہ کسی میثاق سے ہی نکل سکتا ہے۔ بلاشبہ مقابلہ ہو، مگر سیاست کے میدان میں ہو۔ فیصلے اپنے وقت پر عوامی عدالتوں میں ہوں۔ عدالت یہ فیصلے صرف کارکردگی کی بنیاد پر صادر کرے۔ صبر آزما ضرور ہے، مگر راستہ یہی ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *