مذہب

رمضان اور ادیب

تحریر:فاکہہ قمر ،سیالکوٹ

رمضان المبارک کا مہینہ جہاں بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے مزین ہے وہیں اس ماہ میں بہت سی زندگیوں کے معمولات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں،بعض کی زندگی جمود کا شکار ہوجاتی ہے تو کچھ کی رواں دواں دوڑتی ہی چلی جاتی ہے۔

جی ہاں!آپ ٹھیک سمجھے ہیں کہ یہ شیطان ہی ہے جس کو زنجیروں میں قید کر کے اس کے معمولات روک دیے جاتے ہیں اور دوسری جانب مومن ہے جو اپنے رب کی رضا کی خاطر برکتیں سمیٹتا ہی چلا جاتا ہے۔اس ماہ میں جہاں سب کی ترتیب بدل کر رہ جاتی ہے وہیں ادیب حضرات بھی بعض اوقات اپنی منشاء کے مطابق یا پھر لوگوں کی دیکھا دیکھی اپنی تحاریر کے عنوانات بدل کر اسلامی طرز پر واعظ دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔یہاں ایک بات واضح کرتی چلوں کہ رمضان کی مناسبت سے سب لکھاری اس موضو ع پر لکھنا اپنا فرض عین تصور کرتے ہیں لیکن کیا یہ صرف لکھنے کی حد تک ہے یا دنیاداری کی نمائش کے لیے؟؟؟

جو اسباق آپ لوگوں کو پڑھا رہے ہیں کیا آپ خود ان پر عمل کررہے ہیں؟

رمضان ہمیںصرف تبلیغ کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کا سبق بھی دیتا ہے۔بطور ادیب آپ لوگوں کو تو اچھے اعمال کا حکم دے رہے ہیں لیکن خود آپ کا عمل اور اعمال اس سے متضاد ہیں۔ایسے میں آپ کے لکھے کا کیا فائدہ جب آپ خود اس پر عمل کرنے سے قاصر ہیں؟؟؟

پہلی بات تو یہ ذہن نشین کرلیں کہ ضروری نہیں جو موقع مناسبت ہے سب کی دیکھا دیکھی آپ بھی وہی کام کریں جو ساری دنیا کررہی ہے۔اندھی تقلید کرنا چھوڑ دیں۔ہمیشہ انفرادیت پر مبنی کام کریں۔بالفرض آپ اسلامی تعلیمات پر لکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے مکمل تحقیق کریں کہ آیاں جو آپ لکھ رہے ہیں وہ واقعی قرآن و حدیث سے واضح ہے یا سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔اس کے بعد لکھتے وقت اس امر کو ذہن میں رکھیں کہ جو آپ لکھ رہے ہیں کیا آپ خود اس پر عمل کرتے ہیں؟

اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کوئی ضرورت نہیں ایسی بے عمل تحاریر لکھنے کا جس پر خود آپ عمل ہی نہ کریں،آپ کے الفاظ میں ہمیشہ تب ہی تاثیر ہوگی جب آپ خود اس کو من و عن تسلیم کر تے ہوئے اپنی ذات کا حصہ بنائیں گے۔

ادیب کو معاشرے کی اصلاح کا ضامن سمجھا اور کہا جاتا ہے۔معاشرے کی اصلاح یا بہتری تو بہت بعد میں آتی ہے اگر آپ خود پر محنت کرنے اور بدلنے میں کامیاب نہیں تو معاشرے کو کیا خاک ٹھیک کریں گے؟

تبدیلی لانے کے لیے ہمیشہ خود سے پہل کی جاتی ہیں نا کہ دوسروں سے توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔بطور ادیب راقم السطور کی رائے ہے کہ چونکہ رمضان بابرکت اور فضیلت والا مہینہ ہے تو اس کا احترام لازم ہے ا س لیے کوشش کی جائے کہ ادیب اس ماہ لکھنے سے گریز کریں اور اپنی تمام تر توجہ عبادات و مناجات پر مرکوز رکھے نا کہ بظاہر عبادت میں مشغول ہو کر ذہن میں کسی کہانی یا ناول کا پلاٹ تیار کرے۔

ادیب کا کام لکھنا ہے اور وہ لکھتا ہی چلا جاتا ہے لیکن اگر خاص اور نیک مقصد کے لیے کچھ وقت کے لیے تعطیل لے لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ،ایسے آپ مکمل یکسوئی کے ساتھ اس مہینے کو آرام سے گزار سکتے ہیں نہ کہ خوف و پریشانی کی تلوار تلے کہ کہانی بھیجنے کی آخری تاریخ سر پر منڈلا رہی ہے۔

بہتر تو یہی ہے کہ آمد رمضان کے موقع پر ہی تمام موضوعات کو قلم بند کر کے رکھ لیا جائے اور پھر پورا مہینہ سکون سے گزاریں۔زندگی و صحت رہی تو لکھنا لکھانا تو چلتا ہی رہے گا لیکن کیا یہ مبارک مہینہ دوبارہ میسر آئے گا؟

کیا یہ خوش قسمت لمحات زندگی میں بار بار ملیں گے؟

انسانی جبلت ہے کہ جہا ں پر فائدہ مل رہا ہوتا ہے انسان ہمیشہ اس جانب کھینچا چلا جاتا ہے تو پھر اس آفر سے کیونکر مستفید نہ ہوں؟؟؟

ہرمسلمان پر لازم ہے کہ ہم اپنے برکت والے مہینے کا احترام کرتے ہوئے اپنے وقت کو ان قیمتی لمحات میں بسر کریں اور ان سے مکمل مستفید ہوں۔اس لیے احتیاط برتیں اور تمام ایسے کام جو وقتی طور پر آپ کی توجہ اور سوچ کو اصل مقصد سے ہٹائے اس کو نظر انداز کریں۔یہ ضروری نہیں کہ سب میری بات سے متفق ہوں لیکن بطور ادیب اہم مسئلہ کی جانب نشاندہی کرنا ضروری ہے،باقی اس کو ماننا یا نہ ماننا آپ کا ذاتی عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ اس مہینے ہم پر اور ہمارے ملک پر اپنا خاص کرم فرمائے اور ہمارے کبیرہ و صغیرہ گناہوں کو معاف فرماتے ہوئے ہمیں بخش دے اور ہمارے لیے آسانی والا معاملہ فرمائے۔اللہ ہم سب کے لیے آسانیاں فرمائے اور ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے،آمین ثم آمین!

WhatsApp Group Join Now

One thought on “رمضان اور ادیب

  • لاہور نیوز ڈیسکPost author

    نائس

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *