درس القرآن
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْۤا اَوْ يُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌۙ۰۰ (سورةالمائدہ آیت 34)
ترجمہ:
یقیناً اُن لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہے کہ انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا دار پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دئیے جائیں یا انہیں دیس سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کےلئے دنیا میں ذلت اور رسوائی کا سامان ہے اور آخرت میں تو اُن کےلئے عذاب (مقدر) ہے۔
تفسیر:
سزا ان کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کےلیے ریشہ دوانیاں کرتے ہیں۔ یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا صلیب دئیے جائیں۔ اس خلاف ورزی یا مخالف سمتوں سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں۔ یا ملک سے نکالے جائیں۔ یہ سزا اس لئے ہے کہ دنیا میں انہیں رسوائی ہو اور آخرت میں ان کےلئے بڑا عذاب ہے۔
سوائے اس کے نہیں کہ جزا ان لوگوں کو جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں۔ یہ ہے کہ قتل کئے جاویں یا سُولی دئیے جاویں یا اُس زمین سے جلاوطن کئے جاویں۔ یہ واسطے ان کے رسوائی ہے دنیا میں اور آخرت میں ان کےلئے بڑا عذاب ہے۔
يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ: اللہ کے دین کا مقابلہ کرتے ہیں۔
مِنْ خِلَافٍ: بوجہ ان کی خلاف ورزی کے۔ امام ابوحنیفہؒ نے لکھا ہے کہ مجرموں کی کئی قسمیں ہیں پس ان کے موافق ان سزاؤں میں سے کوئی سزا دی جائے گی۔
خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا: یہ نشان ہے آخرت میں عذاب کا۔ دنیا میں حسب پیشگوئی جب مل گیا تو آخرت کی خبر درست ہوگی۔
(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 99)
حدیث:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں نہیں داخل ہونے دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ! انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، جوتی اچھی ہو اور خوبصورت لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تکبر نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، یعنی خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر دراصل یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرنے لگے، لوگوں کو ذلیل سمجھے، ان کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح پیش آئے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ)

