درس القرآن
اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَ یَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَایُؤۡمِنُوۡنَ (18) فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ وَ مَنۡ تَابَ مَعَکَ وَ لَا تَطۡغَوۡا اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ (113)
ترجمہ:
پس کیا وہ جو اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے اور اس کے پیچھے اس کا ایک گواہ آنے والا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بطور امام اور رحمت موجود ہے (وہ جھوٹا ہو سکتا ہے؟) یہی (اس موعود رسول کے مخاطبین بالآخر) اسے مان لیں گے۔ پس جو بھی احزاب میں سے اس کا انکار کرے گا تو آگ اس کا موعود ٹھکانا ہوگی۔ پس اس بارہ میں تُو کسی شک میں نہ رہ۔ یقیناً یہی تیرے ربّ کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
پس جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے (اس پر) مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ بھی (قائم ہو جائیں) جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے۔ اورحدسے نہ بڑھو۔ یقیناً وہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔ (سورة ھود آیت18، 113)
تفسیر:
اس کا گزشتہ سورت سے جو تعلق ہے اسے گزشتہ سورت کے تبصرہ میں واضح کردیا گیا ہے۔ اس سورت کا یہ پہلو بہت نمایاں ہے کہ اس کی آیت نمبر 113 فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ وَ مَنۡ تَابَ مَعَکَ کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بھاری ذمہ داری آپڑی کہ آپﷺ نے فرمایا: شَیَّبَتْنِی ھُوْدٌ کہ مجھے تو سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ نیز اس سورت میں ان قوموں کا ذکر ہے جو انکار کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔ ان لوگوں کے غم کی وجہ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دُکھ پہنچا۔
اس سورت کی آیت نمبر 18 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپﷺ سے پہلے کی ایک گواہی کا بھی ذکر کرتی ہے یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی گواہی اور ایک ایسے گواہ کا بھی ذکر کرتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونےوالا ہے۔ اس گواہ کا ذکر سوة البروج میں ان الفاظ میں ملتا ہے وَشَاھِدٍ وَّمَشْھُوْد کہ ایک زمانہ ہوگا جس میں ایک عظیم شاہد ایک عظیم تر مشہود یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپ کی صداقت کی گواہی دے گا۔
حدیث:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں تم کو بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ وہ حرام ہے ہر اس شخص پر جو لوگوں کے قریب رہتا ہے۔ یعنی نفرت نہیں کرتا اُن سے نرم سلوک کرتا ہے۔ اُن کے لئے آسانی کرتا ہے اور سہولت پسندہے۔
(ترمذی، کتاب القیامة والرقائق باب ماجاء فی صفة اوانی الحوض 2488)
