تیسری عالمی جنگ کے خطرات
اللہ تعالیٰ جب کسی اپنے بندے کو اصلاحِ خلق کےلئے مبعوث فرماتا ہے تو دنیا کی ہرشے کو اُس کے مطابق کردیتا ہے اور چونکہ اس فرستادہ کی بعثت کی غرض دنیا کی اصلاح، خیرخواہی اور آئندہ آنے والے حالات سے متعلق مُتنبہ اور عالمی تغیّرات کا قبل از لوگوں کو مطلع کرے، علم دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق جو آپﷺ کی اتّباع میں اور آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق مأمور من اللہ اور اس زمانہ کے ربانی مصلح بن کر آئے۔ آپ نے تیسری جنگ عظیم سے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ یہ پہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔ دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہرشخص دم بخود رہ جائے گا۔ آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لےلیں گے۔ نئی تہذیب کا قہرعظیم زمین پر آکر رہے گا۔ دونوں متحارب گروہ یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست ہردو تباہ ہوجائیں گے۔ ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی ان کی تہذیب و ثقافت برباد اور ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔۔۔۔ شاید آپ اسے افسانہ سمجھیں مگر جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہے گے وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں اور اس قادر کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔
دریں اثناء مذکورہ پیشگوئی اور واقعات کی روشنی میں راقم الحروف قارئین کی خدمت میں حالیہ پیش آنے والے حالات جو ایک عالمی جنگ اور ایک بڑی تباہی کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ اپنے ذاتی تجزیہ کے مطابق عرض کردیتا ہوں۔
24فروری کو روس کی طرف سے یوکرین پر حملہ کیاگیا ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ جلد ختم ہوجائے اگر ایسا ممکن نہیں تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
تاریخ کے مطالعہ سے دیکھا جائے تو اس کی جڑیں فروری 1990ء میں کی گئی یہ اُس وقت کی رنجشیں ہیں یہ وہ وقت تھا جب جرمنی کے اتحاد پر بات چیت ہورہی تھی اُس وقت کے روسی صدر میخائل گوربا جوف دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے کےلئے پُرعزم تھے۔ لیکن اس وقت امریکی صدر جارج بُش نے اس کو روسی کمزوری سمجھا۔ امریکی وزیرِخارجہ ہنری کسنجر نے اس حوالے سے کہاتھا کہ امریکی رہنماؤں کا خیال تھا کہ ہم نے سرد جنگ جیت لی ہے۔
1990ء کے مذاکرات میں امریکی پالیسی ساز سوویت یونین سے سرد جنگ کے بعد نیٹو کو محدود رکھنے کی بات کرتے رہے جبکہ نجی طور پر وہ سرد جنگ کے بعد امریکی زیرِتسلط ایک نئے نظام کےلئے منصوبہ بندی کررہے تھے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے اقدامات بھی کررہے تھے۔ جبکہ امریکہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ نیٹو کو وسعت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر بش کے جانے کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن نے نیٹو کی توسیع کی کوششیں کیں۔ اس کے بعد روسی صدر پیوٹن کے موجودہ طرزِعمل کی بنیاد 2014ء میں یوکرین میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ہیں۔ جس کی وجہ سے روس نواز رہنما وکٹریانوچ کو معزول کردیاگیا تھا۔ اور اس کے بعد یوکرین کی یورپی یونین اور نیٹو سے قربت بڑھنے لگی تھی۔
علاوہ ازیں 2014ء کو امریکہ نے 2.5ارب ڈالر کی فوجی امداد دی مزید برآں 2021ء میں ایک علیحدہ سے ملٹری ایڈ بجٹ بھی دیا گیا جو کہ 440 ملین ڈالر تھا۔ یہ وہ متذکرہ بالا ثبوت ہیں جو امریکہ 1990ء سے لےکر آج تک کھیل رہا ہے۔ اس ضمن میں یوکرین حکومت کو یقین تھا کہ امریکن اور نیٹو فورسز اور یورپین ممالک کے 27ممالک اس کی حمایت کریں گے۔ اس کا اظہار یوکرین کے صدر نے حالیہ اپنے بیان میں کیا ہے جبکہ یوکرین صدر نے ان ممالک سے ذاتی رابطہ بھی کیا تب بھی اس کو کسی قسم کی مدد نہ مل سکی اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اکیلا چھوڑدیا ہے۔ اس کے برعکس روسی صدر نے یہ واضح بیان دیا کہ یوکرین کو ہم نیٹو کے حوالے نہیں کرسکتے قبل اس کے یہ بیان بھی آچکا تھا کہ جن ریاستوں کو روس نے آزاد کیا ان کو نیٹو کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ یہ واضح ہے کہ روس مشرقی یورپ میں امریکہ اور نیٹو ممالک کا اثر و رسوخ دیکھنا نہیں چاہتا۔ امریکی تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے دنیا میں فوجی اقدامات کرتا آرہا ہے۔ جس سے دنیا کا امن خطرہ میں رہا ہے۔ اس نے عالمی قوانین، UNO کے چارٹر اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیاں کیں ہیں UNO کے منع کرنے پر بھی امریکہ نے عراق پر حملہ کیا پھر شام، لیبیا اور افغانستان میں بھی۔ اب یہ مشرقی یورپ میں امن برباد کرنے کی کوشش کررہاہے۔ دنیا کے تجزیہ کار اور فوجی ماہرین اس کو تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ بتارہے ہیں اگرچہ ورلڈ وار ابھی دور ہے فی الوقت اسے دوسری سرد جنگ کا نام دیا جاسکتا ہے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے روس پر پابندیاں لگانے کے اعلانات شروع کردیئے ہیں۔ دیکھا جائے تو روس کو دنیا کے مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی یہ پہلی کڑی ہے اسے ڈالر اور جاپانی کرنسی ین میں لین دین سے ہرممکن روکنے کا اعلان کیا ہے اور یہ ایک سرد جنگ کی ابتداء ہے۔ اس جنگ کو آپ معاشی نکتہ نظر سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اس کا سلوک اس سے قبل جب سوویت یونین تھا تب بھی کیاگیا تھا۔ چند روز قبل سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ نے قرارداد پیش کی روس اور یوکرین مسئلہ کے حل کےلئے اس اجلاس میں 11 ممبران نے حصہ لیا چین اور بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ووٹ نہیں دیا جبکہ روس نے اس امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا۔ یاد رہے اس سے قبل کئی جنگی وغیرہ قراردادوں پر امریکہ ویٹو کرتا رہا ہے۔
آج جب امریکی مفادات کے برخلاف روس نے ویٹو کردیا تو امریکہ تلملا رہا ہے (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔ اب یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں اُٹھایا جارہا ہے۔ اب تک کی عالمی میڈیا کی خبروں کے مطابق روسی فوجیں یوکرین پر اپنی گرفت مضبوط کرتی جارہی ہیں اُس نے یوکرینی اہم تنصیبات پر قبضہ کرلیا ہے اب وہ اس کے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔ درایں اثناء یوکرین کے صدر نے روسی صدر کو بات چیت کرنے کی پیشکش بھی کردی ہے۔
روسی صدر کا کہنا ہے کہ ہمارے معاملات میں جو بھی مداخلت کرے گا اور ہمارے لئے خطرہ پیدا کرے گا تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ روس کا ردِعمل فوری اور سخت ہوگا کہ آج تک تاریخ میں ایسا نہیں دیکھا ہوگا۔ یہ الفاظ اتنے سخت اور واضح پیغام ہے کہ ہر کوئی اس کو سمجھ سکتا ہے۔
بہرحال اس بحران نے شدت اختیار کرلی ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اس بحران کو حل کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن اس کو جلد حل ہونا چاہیے ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا حل مشکل ہوجائے گا۔ اللہ نہ کرے کہ یہ تیسری عالمی جنگ میں منتقل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ ان حکومتوں کو عقل دے کہ یہ دنیا کا امن اور استحکام قائم کریں اور آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ نہ کریں۔ آمین
