اداریہ
سورہ سبا کی آیت 3 مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ یہ آیت ہمیں سمجھاتی ہے کہ جیسا کروگے ویسا پاؤگے۔ جو بیچوگے وہی نکلے گا۔ نیک اعمال کا نتیجہ نیک اور بد کا بدانجام۔پاکستان بننے کے بعد سے اب تک دونوں اداروں کے درمیان اقتدار کی ہمیشہ کشمکش جاری ہے۔ کبھی ہم جمہوریت کو اقتدار میں دیکھتے ہیں تو کبھی آمریت کو۔ اب عوام میں یہ شعور پیدا ہوگیا ہے کہ وہ ان دونوں کی سیاست کو سمجھنے لگے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی لائف پالیسی ہیں اور پارٹنر ہیں۔ اس ضمن میں اس کا موازنہ کرتے ہیں حالات اور واقعات کی روشنی میں جو درج ذیل ہے:
ملک کے 4 اہم ستون ہیں: ریاست، عدلیہ، میڈیا اور فوج
دنیا کے کسی ملک میں ان کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے تبھی وہ عوام کو خوشحال اور ملک کو ترقی دے سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ تمام ادارے زوال پذیر ہیں معاشرہ میں یہ اپنی اہمیت کُھوچکے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ ان میں پائی جانے والی انتہائی کرپشن ہے۔
جہاں تک پرنٹ اور الیکٹرنکس میڈیا کا تعلق ہے اس انڈسٹری میں 90فی صد صحافی و انیکر پرسن قومی مفاد، ملکی سلامتی اور عوام کی بھلائی کےلئے تعمیری کردار ادا نہیں کررہے۔ ہم ایک لفافہ کے محتاج ہیں جو اپنے ضمیر کا سودا کرلیتے ہیں۔ بزنس ٹائی کُون ملک ریاض نے ان کو خریدا ہوا ہے جس طرح وہ چاہے ان دونوں جمہوریت اور آمریت کے حق میں کچھ بھی کرواسکتاہے۔ ملک ریاض تو اتنا بااَثر شخص ہے جو ان تمام چاروں ستون پر حاوی ہے حکومت کو قائم کرنے اور ختم کرنے میں اس کا جادو چلتا ہے اور کسی پاکستانی عدالت نے اس کو آج تک سزا نہیں دی جبکہ برطانیہ کی عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دیا اور برطانیہ میں اس کی جائیداد اور رقم کو پاکستان کے حوالے کردیا اور اب یہ برطانیہ بھی نہیں جاسکتا۔
پاکستانی عدلیہ عالمی رینکنگ میں 128 ممالک کی درجہ بندی میں آزاد شفاف انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے میں 118ویں نمبر پرہے پہلے نمبر پر کافر ملک بیلجئم کے جج آئے جو جہنم میں جائیں گے بقول ملّاؤں کے 118ویں نمبر پر آنے والے ہمارے ججز فرشتے ہیں جو جنت میں جائیں گے۔دوسری عالمی جنگ کے موقع پر برطانیہ کے سابق وزیراعظم چرچل نے کہا تھا اگر ہماری عدالتیں صحیح فیصلہ کررہی ہیں تب ہم جنگ ہار نہیں سکتے۔ یہ ہے کسی ملک کے انصاف کرنے والوں کا بنیادی نکتہ نظر۔ لیکن ہم تو اسلامی مملکت اور مسلمان ہیں ہم اسلامی تعلیمات و سُنت پر عمل نہیں کرتے اور خدا کا خوف ان کے دل میں کیوں نہیں اُٹھتا۔
خداتعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتےہو۔(سورةالمائدہ آیت9)
دوسری آیت میں فرمایا کہ انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے۔ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینی پڑے۔(سورةالنساء آیت 136)
یاد رکھیں جب کسی قوم میں بدعملی، بدخلقی اور ناانصافی اجتماعی طور پر آجائے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور وہ زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ جب ہم حیاتِ انسانی کے ارتقاء پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس کا رُخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے اور جب فطرت کے خلاف چلیں، قانون قدرت کو بُھلا دیں، نافرمانی وگستاخی کریں تو خداتعالیٰ کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ قومیں اجتماعی طور پر بدعمل ہوجائیں تو اس کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں مختلف قوموں کی تباہی کا ذکر ہے۔ پاکستان کے ان چاروں ستونوں میں یہ برائیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں اور پھر یہ خدا و رسول کی باتوں کو پسِ پیش جان بوجھ کر ڈال دیتےہیں۔ یاد رہے اللہ تعالیٰ کا قانون مکافاتِ عمل اور کڑا احتساب ہے جو ہر شخص کو مرنے سے پہلے روئے زمین پر دنیا میں دینا ہوگا۔آئیے اب ہم ماضی کے جُھروکوں میں جھانک کر دیکھتے ہیں۔ جمہوریت اور آمریت پاکستان بننے سے آج تک ان دونوں اہم ستون کے درمیان کس قسم کے تعلقات قائم رہے ہیں۔
جنرل ایوب خان پہلے مقامی کمانڈرانچیف تھے اُس وقت مدت ملازمت 4 سال ہوا کرتی تھی۔ بوگرہ حکومت کے گھر جانے کے بعد ایوب خان کو 1955ء میں بطور کمانڈرانچیف 4 سال کی مزید توسیع ملی حالانکہ جنرل ایوب نے گورنر جنرل سکندر مرزا کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔ پھر جون 1958ء میں دوسری توسیعی مدت ختم ہونے میں ایک سال باقی تھا انہیں صدرسکندرمرزا کے دباؤ پر فیروز خان نون حکومت سے مزید دو برس کی توسیع مل گئی۔ حالانکہ فیروز خان نون حکومت اگلا کمانڈرانچیف میجر جنرل نواب زادہ جنرل شیرعلی خان کو دیکھ رہے تھے۔بقول الطاف گوہر کمانڈرانچیف ایوب خان کو یہ گوارا نہ تھا۔ دراصل اس وقت سکندر مرزا اور ایوب خان کی گہری دوستی تھی پھر ایک وقت ایسا آیا اقتدار کے نشے میں ایوب خان نے سکندرمرزا کو ایک رات نیند سے اُٹھاکر 27؍اکتوبر 1958ء کو بطور صدران سے استعفیٰ لےکر خود صدر بن گئے۔18ستمبر1966ء کو جنرل یحییٰ خان اس عہدہ پر فائز ہوئے اُس وقت جمہوریت اور آمریت آمنے سامنے جنگ کی صورت میں کھڑی ہوگی اس دوران ملک میں ہنگامے اور افراتفری رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب اس میں پیش پیش رہے اور نئے الیکشن کروانے کےلیے تمام سیاسی جماعتوں نے عوام کو بیدار کیا۔ جس پر ایوب خان کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوتی گئی یہ دیکھ کر یحییٰ خان نے 31 مارچ 1969ء کو انہیں گھر بھیج کر خود اقتدار پر براجمان ہوگئے۔1971ءمیں پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے پہلے انتخابات کے تقریباً ایک سال بعد ہی ملک کو جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قومی انتخابی نتائج جمہوری تقاضوں کو پورا نہیں سکی۔ 25، 26مارچ 1971ء کی درمیانی شب ڈھاکہ میں خوفناک فوجی کریک ڈاؤن ہوا جو مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کا آغاز ثابت ہوا۔ اس دوران لاکھوں بنگالی، ہندو سرحدپار بھارت چلےگئے اس کے بعد مکتی باہنی کی حمایت میں بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا پھر ملک دولخت ہوگیا۔ اس میں اہم رُول بھارت نے ادا کیا۔ امریکی حکومت اس میں بھی شامل تھی جس نے مدد نہ کی۔ اس وقت ہمارے چین سے اچھے تعلقات تھے وہ بھی مدد نہ کرسکا اس طرح یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہوگئی۔ اس پر عالمی طاقتوں نے مذمت اور ہمدردی کے سوا کچھ نہ کیا۔
دیکھا جائے تو دسمبر 1971ء کے انتخابی نتائج میں پارٹی پوزیشن نے ہی ملک کو تقسیم کردیا تھا۔ اس کے بعد کے سارے فوجی اور سیاسی عمل ایک ہاری ہوئی جنگ کو جیتنے کی ناکام کوششیں تھیں اس عمل میں الیکشن کمیشن نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ راقم اس کو قصوروار تسلیم کرتا ہے دوسرے قصوروار ہمارے پاکستانی جمہوری لیڈرز تھے۔
مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے الیکشن جو 7دسمبر1971ء میں ہوئے اس میں عوامی لیگ پارٹی کے شیخ مجیب الرحمٰن نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ 300انتخابی حلقوں میں سے 162 مشرقی پاکستان اور 138 مغربی پاکستان میں تھے۔ اس میں عوامی مسلم لیگ نے 160 نشستیں اور مغربی پاکستان میں پیپلرز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں۔
بھٹو نے سندھ اور پنجاب سے یہ سیٹیں جیتیں تھیں۔ دوسرے صوبوں سے دیگر جماعتوں نے ایوان زیریں کی کل 300 نشستیں اس میں اکثریت کےلئے 151 نشستیں درکار تھیں اور اس کا ٹرن آؤٹ 63فیصد رہا۔ ہماری جمہوریت کی بدقسمتی یہ تھی کہ بھٹو صاحب نے اس کو قبول نہ کیا یعنی عوامی رائے کو۔ حسن ظہیر اپنی کتاب(Seperating of East Pakistan) میں لکھتے ہیں یحییٰ خان کو معلوم ہوگیا تھا کہ انہیں مغربی پاکستانی سیاستدانوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ان کے ذریعے ملک میں ایک ایسا آئین کا نفاذ چاہتے ہیں جو بنگالیوں کے مطالبات کا واحد توڑ ہوسکتا تھا۔ جسٹس کارنیلیئس نے بڑی محنت سے یہ آئین بھی تشکیل دے دیا تھا۔ اس ضمن میں تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ اس کا انجام پیپلز پارٹی کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے نعرہ نے سب کچھ ختم کردیا۔ نعرہ یہ تھا’’اُدھر تم‘ اِدھر ہم‘‘ یہ خبر لاہور کے اخبار ’’آزاد‘‘ نے شہ سرخی سے شائع کی۔ آج ہم کن کن کو مُردِالزام ٹھہرائیں۔لہٰذا پہلی بار جمہوریت نے آپس میں دست وگریبان ہوکر آئندہ کےلئے اس کھیل کو جاری رکھنے کا بیج بُودیا جو اب تک جاری و ساری ہے۔ اس کےبعد بھٹو صاحب کو 23 دسمبر 1971ء کو صدر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیاگیا۔ بھٹوصاحب ڈھائی سال تک اس عہدہ سے چمٹے رہے اور اس طرح فوجی اقتدار کے مزے بھی لیتے رہے۔ بھٹوصاحب جب وزیراعظم بنے، ملک کا پہلا جمہوری آئین قومی اسمبلی کے ذریعہ 1973ء کودیا۔ اس آئین میں جمہوریت نے فوجی حکمرانوں کا راستہ روکنے کےلئے آئین میں ’’آرٹیکل 6‘‘ کا اضافہ کیا اس کا مطلب آئین سے کھیلنے والا سنگین غداری کا مرتکب سمجھا جائے گا اور موت یا عمرقید کی سزا پائے گا۔
اس نفاذ کے 4سال بعد جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے مارشل لاء نافذ کردیا۔ دوسری طرف عدالت عظمیٰ نے اس بغاوت یا غداری کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ قرار دیا۔ اس سے قبل پہلی بار جسٹس منیراحمد نے اس کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اس کے بعد جنرل ضیاءالحق نے اپنے اقتدار کو کھول دینے کےلیے 9دسمبر1984ء کو ریفرینڈم کروایا۔ جس میں رائے دہندگان سے سوال پوچھا گیا کہ ’’کیا آپ صدر پاکستان جنرل محمدضیاءالحق کی جانب سے پاکستان کے قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالنے نظریۂ پاکستان کے تحفظ اور استحکام کےلئے جانے والے اقدامات کو جاری رکھنے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی پُرامن اور منظم تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ عوام کو اس سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دینا تھا۔ ہاں کا مطلب یہ تھا کہ جنرل ضیاءالحق کو آئندہ 5سالوں کےلئے صدر منتخب کرنا اس طرح یہ 9سالوں تک اقتدار میں رہے۔ ڈاکٹرعائشہ جلال اپنی کتاب ’’دی سٹرگل فار پاکستان‘‘ میں لکھتی ہیں کہ خیبر سے کراچی تک عوام نے اس ریفرینڈم کا بائیکاٹ کیا جس نے جمہوریت کےلئے قومی سطح پر ایک اتفاق رائے کو ظاہر کیا۔ ایک اندازہ کے مطابق ووٹنگ کی شرح 10فی صد سے زیادہ نہ تھی اور اس میں زبردست دھاندلی کی گئی جبکہ زمینی حقائق یہ تھے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اس کو 62 فی صد کہا اور اس میں 97 فی صد سے زیادہ لوگوں نے ’’ہاں‘‘ کا ووٹ دیا۔ یاد رہے تمام سیاسی جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کیاتھا۔ غیرجماعتی انتخابات کے نتیجے میں نئی اسمبلی وجود میں آئی اس کے وزیراعظم محمدخان جونیجو منتخب ہوئے۔ بعدہ اس کی حکومت کو بھی چلتا کردیاگیا۔ ضیاءالحق کے دورِاقتدار میں اسلام کے نعرہ نے اسلام کو بہت کمزور کیا چونکہ اس آمر مطلق العنان شخص نے اپنے اقتدار کی خاطر کئی صدارتی آرڈیننس نافذ کئے جس سے دنیا میں اسلام کا امیج غلط رنگ میں پیش ہوا۔ اس میں ایک بدنام زمانہ امتناع قادنیت آرڈیننس 1984ء تھا اس میں جنرل ضیاءالحق نے اپنی غیرقانونی حکومت کو سہارا دینے کےلئے مذہبی انتہاپسندوں کا سہارا لیا۔ خود کو امیرالمؤمنین بنانے کی تیاری بھی کی۔
مدینہ کا واقعہ ہے بنونضیر کی جلاوطنی کے وقت مسلمانوں کے دل میں یہ معمولی سا خیال پیدا ہوا کہ وہ اپنے بچوں کو جبراً بنونضیر سے واپس لےلیں تو ’’لَااِکْرَاہَ فِی الدِّین‘‘ کی آیت نازل ہوئی جبکہ اِکْرَاہَ کا مسئلہ دین سے زیادہ سیاست سے تعلق رکھتاہے کیونکہ ایمان تو دلیل اور برہان سے پیدا ہوتا ہے کسی قسم کے اکراہ سے پیدا نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں اس میں کوئی شک نہیں بھٹو صاحب ایک زیرک اور ذہین سیاستدان تھے لیکن وہ بھی مذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایک غلط فیصلہ کربیٹھے جس کی قرآن و سُنت اجازت نہیں دیتا یعنی اسمبلی سے احمدیوں کو غیرمسلم قرار دلوایا۔ جب کہ وہ ایک سیکولر انسان تھے دین کے معاملہ میں ان کو کچھ علم نہ تھا اس غلطی کا اعتراف انہوں نے بھی کیا اور ان کے قریبی سینئر ترین ساتھیوں نے بھی۔ ڈاکٹرمبشر حسن ان کے بھائی مہدی حسن اور عبدالحفیظ پیرزادہ اپنے انٹرویومیں برملا اس کا اظہار کرچکے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینا یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا مذہبی نہیں۔ بہرحال آمروں اور جمہوری لیڈروں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ قانونِ فطرت ہے جیسا کروگے ویسا بھروگے۔12؍اکتوبر1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نظام جمہوریت کی بساط اُلٹ دی تو عدالت عظمیٰ نے اس کو نظریہ ضرورت قراردیا۔ بعدہ 2002ء میں عوام کی عدالت یعنی قومی اسمبلی نے اس کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کرڈالی پھر 8سال بعد نظرثانی کی اپیل نواز شریف کے ذریعہ منظور ہوئی۔ لہٰذا یہ معاملہ یہاں دونوں پارٹی کی پسندناپسند پر سمجھاجائے گا درمیان کے حالات کا آپ کو بخوبی علم ہے کس طرح ملک میں لنگڑی لُولی حکومت قائم رہی اسی دور میں نائن الیوین ہوا پھر ہم مکمل طور پر امریکہ کے مفادات کے تقاضے پورے کرتے رہے اور ملک میں سول اور فوجی افراد ہزاروں کی تعداد میں شہیدہوئے اور پاکستان کو اربوں کھربوں کامالی نقصان ہوا علاوہ ملک میں انتشار خلفشار دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
3نومبر2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ ہوئی تو عدالت عظمیٰ کے ایک 7 رُکنی بینچ نے اس اقدام کو خلاف آئین قرار دیا۔ یاد رہے یہ وہی آرٹیکل 6 ہے جس میں بھٹو صاحب نے جمہوریت میں آمروں کا راستہ روکنے کےلئے آئین میں ترمیم کی تھی اس کی خلاف ورزی پر مجرم کو غدار قرار دینا اور موت یا عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
اس کے بعد 2008ء میں ملک میں نئے الیکشن کے ذریعہ قومی اسمبلی تشکیل پائی اُس وقت آصف علی زرداری نے نوازشریف سے مشورہ کیا کہ 3نومبر2007ء والے اقدام کو سند جواز عطاکردی جائے جس پر نوازشریف نہ مانے یہ معاملہ درمیان میں اٹک گیا۔ پھر 31جولائی2009ء کے فیصلے کی رُو سے سپریم کورٹ نے 3نومبر2007ء کو خلافِ آئین قانون قرار دےدیا یعنی (ایمرجنسی) اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ چونکہ اُس وقت صدر رفیق تاڑر نے استعفیٰ نہیں دیا تھا اس لئے آئین کو توڑنا قراردیا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی ہدایت یا حکم کے بغیر فوج ازخود اقدام نہیں کرسکتی۔ پہلے آصف علی زرداری نے نوازشریف کو مشورہ دیا تھا اُس وقت وہ تیار نہ ہوئے بعد میں اُنہوں نے نعرہ لگایا ’’آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ قارئین کرام دونوں سیاسی پارٹیوں کا سیاست کا کھیل یہاں سے شروع ہوا یعنی ’’پہلی باری ہماری دوسری تمہاری‘‘یہ جمہوریت کا دور مصالحت کا تھا اس میں بیچاری عوام کا جنازہ نکلتا رہا اس طرح دونوں نے اپنی اپنی باریاں مکمل کیں یاد رہے پرویز مشرف کو رخصت کرتے وقت زرداری صاحب نے ریڈکارپٹ کے ذریعہ ہی ان کو باعزت رخصت کیاتھا اس کے بعد پرویزمشرف کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا غداری اور مجرم کو سزا دینے میں عدالت عظمیٰ اور جمہوریت ناکام رہی اس کے بعد نوازشریف نے باعزت باہر جانے کی ان کو اجازت دی۔
مشرف دور کے بعد دونوں جمہوری پارٹیوں نے اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر ترجیح دی کسی نے ملک اور عوام کی ترقی کےلئے کچھ نہ سوچا، اس میں ہمارے ججز بھی مکمل طور پر شامل رہے۔ مزید یہ کہ جمہوریت کے ان لیڈروں نے اپنی من پسند شخصیات کو سیاسی طور پر استعمال کیا اور من پسند ججوں کو بھرتی کیا اور نیک، دیندار ججوں کو خوف زدہ بھی کیا۔ ان دونوں نے پاکستان کے آئین اور تمام ریاستی اداروں کو بُری طرح کرپشن سے دوچار کردیا۔ آج کوئی ادارہ ایسا نہیں جو انصاف سے کام کرے اور عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کرے۔ اربوں کھربوں کی ملکی دولتیں لوٹ کر بیرون ملک فرار ہیں۔ آج عدالتیں اس پر خاموش ہیں کوئی اس پر سوموٹو نوٹس نہیں لیتا حالانکہ عدالتوں میں ان کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں۔ انصاف کرنے والے اس ڈر اور خوف میں مبتلا ہیں کہ کل یہ اقتدار میں واپس آئے تب ہمارا کیا ہوگا۔ کوئی ملک کی بقاء، سلامتی اور عوام کی خوشحالی کو مدِنظر نہیں رکھتا جبکہ خداتعالیٰ کا واضح پیغام ہے کہ انصاف کرو اور عدل سے کام لو ورنہ پچھلی قوموں کی طرح ان کو بھی تباہ کردیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نصیحت کرتا ہے کہ بایں طور پر کہ جو اگلی قوموں کی بُرائیاں اور خوبیاں ہیں ان کو بیان کرنا تاکہ مسلمان اُن برائیوں سے بچیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ان عذابوں سے محفوظ رہیں گے جو اُن برائیوں کی وجہ سے ان پر نازل ہوئے اور ان خوبیوں کو اختیار کریں جن کی برکت سے ان پر طرح طرح کے انعام ہوئے۔ پس ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے تمام ذمہ دار اداروں کا فرض ہے وہ خوفِ خدا کو مدِنظررکھتےہوئے سچے مومن مسلمانوں کی طرح سوچ وبچار کرتے ہوئے معاشرتی بُرائیوں، ملک کی خاطر عوام کی خوشحالی و بہتری کا سوچیں۔ اور ان دو اہم اداروں جن پر اندرونی و بیرونی سازشوں کے صدِباب کرنے کی ذمہ داریاں ہیں اس پر نیک نیتی سے عمل کریں اور اس کھیل کو بند کریں جو ملکی مفاد میں نہیں ہے یعنی حکومتوں کے خاتمہ اور اقتدار کی خاطر مذہبی تنظیموں کو استعمال کرنا۔ پھر ایسی اسلامی دہشت گرد تنظیموں کو تیار کرنا ان کو مکمل سپورٹ کرنا جو کہ ملکی مفاد میں نہیں ہیں حالیہ دنوں میں اور پچھلی حکومت کے خاطر یہ سلسلہ اپنایا گیا اس میں نا اسلام نا ہی جمہوریت نا ہی آمریت کا فائدہ ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں بیرونی طاقتوں کے ذریعہ اقتدار میں آنے کا سہارا نہ لیں صرف اور صرف عوام کی خدمت کے ذریعہ ہی اقتدار میں آنے کی کوشش کریں۔ طاقت کا سرچشمہ خداتعالیٰ کی ذات ہے دوسرا کوئی نہیں اُسی کے آگے سربسجود ہوں وہی ہے عزت اور ذلت دینے والا اللہ کرے ہماری قوم اس پر عمل پیرا ہوں اور ماضی کے حالات سے سبق حاصل کریں۔
