مذہبی شدت پسندی کی ایک مثال
تحریر خرم منور
سن دو ہزار گیارہ میں اسلام آباد میں ایک جاب کے لئیے انٹرویو دینے گیا تو انٹرویو لینے والے نے رسمی سلام دعا کے بعد مجھ سے پوچھا کہ میں کس مذہب سے تعلق رکھتا ہوں۔جاب چونکہ آؤٹ باؤنڈ کال سینٹر کی تھی تو میں نے اُس سے پوچھا کہ جاب کا اس بات سے کیا تعلق ھے کہ میرا مذہب کیا ھے ؟انٹرویو لینے والے نے فرمایا کہ مذہب کے بارے میں بتانا ضروری ھے…میں نے کہا میرا مذہب اسلام ھے۔پھر اُس نے پوچھا سُنی ہیں یا شیعہ؟تو میں نے بتایا کہ سُنی ہوں۔ اُس نے فخر سے بتایا کہ میں بھی سُنی ہوں…لیکن اُس وقت تک میرا دماغ خراب ھو چُکا تھا۔
چونکہ UK میں چھ سال گزارنے کے بعد پاکستان گیا تھا تو پاکستان میں کہیں انسانیت نظر ہی نہیں آ رہی تھی اور حالات کی وجہ سےپہلے ہی دماغ خاصا خراب تھا۔ میں نے اُسے پوچھا کہ اگر میں شیعہ ھوتا تو کیا یہ جاب میرے لئیے نہ ہوتی۔ اُس نے کہا کہ ایسی بات نہیں ھے ہم صرف قادیانیوں کو نوکری نہیں دیتے۔میں نے اُس سے پوچھا کہ اگر کوئی قادیانی مجھ سے زیادہ بہتر انگریزی جانتا ہو اور مجھ سے زیادہ تجربہ رکھتا ہو تو کیا پھر بھی یہ نوکری آپ اُسے نہیں دیں گے۔ اُس نے کہا نہیں۔ میں نے پوچھا اگر اُس کو اس نوکری کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہو تو کیا پھر بھی یہ نوکری آپ اُسے نہیں دیں گے…اُس نے کہا کہ ہم قادیانیوں کو کسی بھی صورت نوکری نہیں دیتے۔دل تو کر رہا تھا کہ میں اس شخص کا بُرا کر دوں۔ اس کا سارا اسلام ایک جھٹکے میں اس کے ہاتھ پر رکھ دوں۔لیکن صرف اتنا ہی کہہ پایا کہ
I am not sorry to say that you dont deserve me and this place is not for me.
آج اس بات کو دس سال ہو گئے ہیں۔مجھے فخر ھے کہ میں نے اُس نوکری پر لعنت بھیجی تھی حالانکہ اُس وقت مجھے نوکری کی شدید ضرورت بھی تھی۔آج بھی مذہبی شدت پسندی پاکستان میں اُسی طرح پنپ رہی ہے۔ کل عامر لیاقت کا ہندو برادری کی توہین آمیز ٹویٹ کرنا اور حکومت کا اس پر کوئی ایکشن نہ لینا اس بات کا ثبوت ھے پاکستان مذہبی شدت پسندی کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چُکا ھے۔ہم نے بچوں تک میں نفرتیں ہی نفرتیں بھر دی ہیں۔پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اور اس کے علاوہ نوکریوں کے فارموں کے علاوہ ہسپتال میں مریض کے کوائف تک میں مذہب کا پوچھا جانا اس بات کا ثبوت ھے کہ مذہب اب انسان اور خدا کا آپس کا معاملہ نہیں رہ گیا۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح مذہب ہی ایک اور عظیم انسانی جنگ کی وجہ بنے گا۔اگر ہم واقعی دُنیا کو رہنے کے قابل بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہب کو صرف اپنے تک محدود کرنا ھو گا اور دوسروں کے مذہبی عقائد سے اختلاف کو بنیاد بنا کر مذہبی امتیاز سے دور رہنا ھو گا۔
