شمع شوق
کلام ثاقب زیروی
نظر نظر میں لئے جان و دل کے نذرانے
طوافِ شمع کو پھر آگئے ہیں پروانے
جبین پر گردِ رہِ عشق‘ دل میں نُوروسرور
ہیں آسمانِ عقیدت پہ آج دیوانے
جہان درد۔ لرزتی ہوئی صداؤں میں
محبتوں کے خزانے۔ دِلوں کے کاشانے
مصافحوں میں لپک اور معانقوں میں خلوص
عطا کیا ہے عجب سوز انہیں مسیحاؑ نے
وہ لوگ آئے ہیں آنکھوں میں شمعِ شوق لئے
جنہیں نہ پوچھا کبھی کم نگاہ دنیا نے
زمینِ ربوہ کو سجدوں سے ناپنے کے لئے
مچل رہے ہیں جبینوں میں پال نذرانے
کس اہتمام سے ’’اِک شمع انجمن‘‘ کے لئے
وفا کے نور میں ڈوبے ہوئے ہیں پروانے
یہ تین دن بھی عجب رحمتوں کے دن ہوں گے
کِھلیں گے دیدہ و دل میں گُلوں کے پیمانے
شرابِ نُور سے دھولو دل و نظر ثاقب
نصیب ہوں کہ نہ ہوں پھر یہ دن خدا جانے
