اردومذہب

درس قرآن کریم

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا؁اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا۠ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ وَ يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا(سورة النساء آيت 60، 61)

ترجمہ:

اے وہ لوگو جو ايمان لائے ہو! اللہ کي اطاعت کرو اور رسول کي اطاعت کرو اور اپنے حکام کي بھي۔ اور اگر تم کسي معاملہ ميں (اُولُوالامر سے) اختلاف کرو تو ايسے معاملے اللہ اور رسول کي طرف لَوٹا ديا کرو اگر (في الحقيقت) تم اللہ پر اور يومِ آخر پر ايمان لانے والے ہو۔ يہ بہت بہتر (طريق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔

کيا تُو نے ان لوگوں کے حال پر نظر کي ہے جو گمان کرتے ہيں کہ وہ اس پر ايمان لے آئے ہيں جو تجھ پر اتارا گيا اور اس پر بھي جو تجھ سے پہلے اتارا گيا۔ وہ چاہتے ہيں کہ فيصلے شيطان سے کروائيں جبکہ انہيں حکم ديا گيا تھا کہ وہ اس کا انکار کريں۔ اور شيطان يہ چاہتا ہے کہ وہ اُنہيں دُور کي گمراہي ميں بہکا دے۔

تفسير:

اس آيت کريمہ ميں اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ميں مِنْکُم کا ترجمہ کرتے ہوئے بعض علماء يہ استنباط کرتے ہيں کہ مسلمانوں ہي ميں سے اپنا حاکم بناؤ اور غيرمسلم حاکم کي اطاعت کي ضرورت نہيں۔ يہ ايک لغو عقيدہ ہے جو عمومي نظر ڈالنے سے ہي غلط ثابت ہوتا ہے۔ سب مسلمان جو غيرمسلم حکومت ميں بستے ہيں يا وہاں ہجرت کر جاتے ہيں وہ ان کي حکومت کے قوانين کے پابند ہوتے ہيں۔ دوسرے يہ کہ جو مسلمان حاکم ہو اس سے کسي معاملہ ميں تنازعہ کا کيا سوال ہے جس کو اللہ اور رسول کي طرف لوٹايا جائے۔ يہاں اللہ اور رسول سے واضح مراد  قرآني تعليم ہے۔ پس کوئي بھي حاکم ہو، مسلم ہو يا غيرمسلم ، اگر قرآن کي بنيادي تعليم کے خلافِ عمل کرنے کا حکم دے تو ايسي صورت ميں قرآن کي بات ماننا ہو گي نہ کہ حاکم کي۔(اُردو ترجمہ قرآن صفحہ 140)

حديث:

حضرت جابرؓبيان کرتے ہيں کہ آنحضرت ﷺکے ساتھ ميں نے عيدالاضحيٰ کي نماز پڑھي حضور کے پاس ايک مينڈھا لايا گيا جسے آپ نے ذبح کيا۔ ذبح کرتے وقت آپ نے يہ الفاظ کہے:     اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ تعاليٰ سب سے بڑا ہے۔ اے ميرے خدا! يہ قرباني ميري طرف سے اور ميري امت کے ان لوگوں کي طرف سے جو قرباني نہيں کرسکتے قبول فرما۔(ترمذي کتاب الاضحيٰ)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *