اردوجہاں نما

ارتقاء اور ڈارون

Share your Love

تحریر ڈاکٹر جلدار احمد علوی

قرآن، سائنس اور انسان۔ نظریۂ ارتقاء: حقیقت کیا ہے؟

ارتقاء کیا ہے، اس کے نظریات کیا ہیں؟ کیا ارتقاء اور ڈارونزم ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں؟ ’ ’ڈارون بولا بوزنا ہوں میں‘‘ (اکبر الہ آبادی) کی حقیقت کیا ہے؟

’’ارتقاء‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’ترقی‘‘ کے مادے سے نکلا ہے۔  ارتقاء کا مفہوم درجہ بدرجہ اوپر چڑھنے اور ترقی پانے کا ہے۔  یہ انگریزی کے لفظ Evolution کا ترجمہ ہے۔  Evolution لاطینی زبان کے لفظ ’’Evolutio‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی کسی لپٹی ہوئی چیز کو کھولنا ہے۔

“The Latin evolutio means to unroll…” (Peter J. Bowler, P.8)

چنانچہ، لفظ Evolution کا اطلاق تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کیا جاتا رہا ہے۔  حیاتیات (بیالوجی) میں اس کو پہلے پہل رحمِ مادر میں جنین کی نشو و نما کے معنوں میں استعمال کیا گیا (ایضاً، صفحہ 8)۔  جدید دور میں یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے (مثلاً دیکھئے انگریزی کی کوئی سی بھی اچھی ڈکشنری)۔  لیکن حیاتیات میں اس کا استعمال مخصوص معنوں میں ہوتا ہے، جس کی واضح طور پر وضاحت کے لیے ’’نامیاتی ارتقاء‘‘ یا ’’organic evolution‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ارتقاء اور ڈارون ازم… ایسا لگتا ہے کہ یہ دو الفاظ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔  ارتقاء کہیں یا ڈارون ازم، ایک ہی بات ہے۔  لیکن ایسا سمجھنا درست نہیں۔  ارتقاء کے میدان میں ڈارون کا کام ناقابلِ فراموش ہے، لیکن وہ نہ تو پہلا شخص ہے جس نے ارتقاء کا تصور یا نظریہ پیش کیا اور نہ آخری۔  دنیا کی تاریخ میں ڈارون سے پہلے بہت سے ایسے مفکرین اور سائنسدان ملتے ہیں جنہوں نے ارتقاء کا تصور پیش کیا۔  خود یورپ کی تاریخ میں ڈارون پہلا آدمی نہیں جس نے اس نظریہ سے بحث کی ہو۔  ایک مغربی مصنف لارسن لکھتا ہے:

“The history of modern evolutionary science does not begin with Charles Darwin or even with biology.” (Larson, p.xvi)

[’’جدید ارتقائی سائنس کی تاریخ کا آغاز ڈارون سے نہیں ہوتا، اس کی ابتدا حیاتیات سے بھی نہیں ہوتی۔‘‘]

مزید براں، ہمیں ارتقاء (evolution) اور ارتقائی نظریات (theories of evolution) میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بطورِ تصور، ارتقاء آج سائنس کی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ یہ اصل میں اس سوال کا جواب ہے کہ جاندار، پودے اور حیوانات، کیسے وجود میں آئے۔  یہ خصوصی تخلیق کے نظریہ (Theory of special creation) کا متبادل ہے۔  خصوصی تخلیق کے نظریہ کے مطابق جانداروں کی انواع غیر تغیر پذیر ہیں اور یہ اپنی موجودہ شکلوں ہی میں تخلیق کی گئی تھیں۔  چاہے کتنا ہی زمانہ گزر جائے اور حالات چاہے کیسے ہی ہوتے جائیں، انواع خود کو برقرار رکھتی ہیں جبکہ تصور ارتقاء کے مطابق تمام جاندار سادہ ترین شکلوں سے مسلسل، درجہ بدرجہ، ترقی کرتے ہوئے موجودہ شکلوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔  انواع تغیر پذیر ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ مخصوص حالات کے تحت سادہ انواع زیادہ پیچیدہ انواع میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔  یہ تصور آج ارتقائی سائنس (evolutionary science) کہلاتا ہے۔  عمومی طور پر تمام سائنسدان اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔  اس نظریہ کے شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ کوئی بھی باخبر سائنسدان اس سے اصولی اختلاف نہیں کرتا۔  ان معنوں میں ارتقاء ایک ایسا تصور ہے جس کی جڑیں ماضی میں بہت دور تک گئی ہوئی ہیں۔  بعض یونانی فلسفیوں نے اس کی طرف اشارے کئے ہیں۔  ازمنۂ وسطیٰ میں بہت سے مسلم مفکرین نے زیادہ تفصیل سے اس کی وضاحت کی ہے۔  جب بھی ارتقاء، تصورِ ارتقاء یا نظریۂ ارتقاء کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو ان سے مراد یہی حقیقت ہوتی ہے۔

اس کے برعکس، ارتقاء کے نظریات اس سوال سے بحث کرتے ہیں کہ ارتقاء ہوتا کیسے ہے؟ یہ ارتقاء کے طریقہ یا میکانزم (میکانیت) کا سوال ہے۔  ڈارون کا کام بنیادی طور پر اسی سوال سے تعلق رکھتا ہے۔  ڈارون نے اپنی تحقیق اورسوچ بچار کی بنیاد پر ارتقاء کا ایک میکانزم تجویز کیا جسے ڈارون کا نظریۂ ارتقاء یا ڈارونزم کہتے ہیں۔  ڈارون کے نظریہ کے ظاہری ڈھانچہ میں نئے حقائق کے پیش نظر رد و بدل ہوتا رہا ہے۔  آج اس کی جو شکل پائی جاتی ہے اسے جدید ڈارون ازم (نیوڈارون ازم NeoDarwinism) کہا جاتا ہے۔  ایک مغربی مصنف لارسن (Edward J. Larsan) نے اس نکتے کی وضاحت اس طرح کی ہے:

“…The terms “Darwinism” and “Neo-Darwinism” apply here only to the specific theory that evolution proceeds through the natural selection of minute, random, inborn variations, while the terms “evolution” and “evolutionism” apply to the general concept of descent with modification.” (p.107)

[ ’’ ڈارون ازم اور نیوڈارون ازم کی اصطلاحیں یہاں اس خاص نظریہ کے لیے استعمال ہوتی ہیں جس کے مطابق ارتقاء باریک، غیر منظم، پیدائشی تغیرات کے فطری انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے۔  جبکہ ارتقاء اور ارتقائیت کی اصطلاحوں کا اطلاق اس عمومی تصور پر ہوتا ہے جس کے مطابق سادہ انواع ترامیم و تغیرات کے ذریعے پیچیدہ انواع میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔‘‘]

بعض لوگوں کے خیال کے برعکس، سائنسدان ارتقاء کو عام مفروضہ (Hypothesis) نہیں مانتے۔ یہ سائنسی تعریف کے مطابق اگرچہ ایک نظریہ ہے، مگر ایک مضبوط نظریہ۔  حیاتیات میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسی طبیعیات میں نظریۂ تجاذب (gravitation) کی۔ ورنن کیلوگ (Vernon Kellogg) کے الفاظ میں:

“….the descent of species is looked upon by biologists to be as proved a part of their science as gravitation in the science of physics.” (Larsan, p. 129)

ڈارون کی مشہورِ زمانہ کتاب ابتدائے انواع (The Origin of Species)  1859ء میں شائع ہوئی۔  اس سے تقریباً نصف صدی قبل، 1802ء میں فرانس کے مشہور سائنسدان لمارک (Lamarck) نے نامیاتی ارتقاء کا ایک جامع نظریہ پیش کیا تھا (لارسن، صفحہ 38)۔  لمارک کے نظریہ کو قلبِ ماہیت کا مفروضہ (the transmutation hypothesis) کا نام دیا گیا۔  اب اسے عام طور پر لمارک ازم (Lamarckism) کہا جاتا ہے۔  لمارک کے مطابق ارتقاء ’’اکتساب شدہ خصوصیات کے توارث‘‘ (Inheritance of acquired characters) کے ذریعے واقع ہوتا ہے۔  تاہم بعد کی سائنسی تحقیق سے اس نظریہ کے حق میں مضبوط شہادتیں حاصل نہیں ہو سکیں۔

ارتقاء کے مختلف نظریات میں سے ایک نظریۂ تبدل (theory of mutation) بھی ہے، جسے ایک ولندیزی نباتیات دان ڈی وریز (Hugo de Vries) نے 1890 ء کید ہائی میں پیش کیا تھا۔  اس کے مطابق نئی انواع جانداروں کے جینز (genes) میں تغیرات کے ذریعے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔  کئی وجوہ کی بنیاد پر اس نظریہ کو بھی وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔

لہٰذا، ڈارون کے نظریہ کی وسیع کامیابی اور پذیرائی کے باوجود یہ کہنا صحیح نہ ہو گا کہ یہ ارتقاء کا واحد نظریہ ہے۔  ایک مغربی مصنف باؤلر (P.J Bowler) نے اس حقیقت کی وضاحت مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے:

“There is no single theory of evolution, only an array of rival depictions of how new forms of life originate. Over the last century or more, biologists have tried out many different ideas, and nonscientists have expressed passionate support for some of the alternatives. In scientific biology, the Darwinian theory of natural selection has achieved dominant status following its synthesis with genetics in the mid-twentieth century.” (p. 8)

[’’ارتقاء کا کوئی ایک نظریہ نہیں، بلکہ کئی متحارب نظریات ہیں، جو زندگی کی نئی شکلوں کے وجود میں آنے کی وضاحت کی کوشش کرتے ہیں۔  حیاتیات دانوں نے گزشتہ صدی یا اس سے زیادہ عرصے کے دوران بہت سے مختلف نظریات کو آزمایا اور غیر سائنسدانوں نے بعض متبادلوں کے لیے جذباتی تائید کا اظہار کیا۔  سائنسی حیاتیات میں فطری انتخاب کے ڈارونی نظریہ نے بیسویں صدی کے وسط میں جینیات کے ساتھ اپنے ملاپ اور ایتلاف کے بعد غالب نظریہ کا مقام حاصل کر لیا۔‘‘]

لہٰذا، یہ ایک علمی حقیقت ہے کہ ارتقاء اور ارتقاء کے نظریات دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ ارتقاء کے مختلف نظریات در اصل اس عام طور پر تسلیم شدہ حقیقت کی تشریح کرنا چاہتے ہیں کہ ارتقاء ہوا کیسے ہے۔  ڈارون کا نظریہ، ارتقاء کی تشریح کا ایک زبردست نظریہ ہے۔  اسے فطری انتخاب (Natural selection) کا نام دیا جاتا ہے۔  یہ نظریہ چارلس ڈارون نے 1859 میں اپنی کتاب The Origin of Species میں پیش کیا تھا۔ یہ بات معلوم ہے کہ ڈارون اس نظریہ تک کئی سال کی انتھک تحقیق، مطالعے اور غور و فکر کے بعد پہنچا تھا۔  اس کی کتاب کا شمار ان کتابوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسانی سوچ کے دھارے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود، ڈارون کا نظریہ کوئی جامد (static) شے نہیں ہے۔  چنانچہ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود اس میں ارتقاء ہوا ہے۔  اس کا مرکزی تصور اور روح برقرار ہے، تاہم نئے دریافت شدہ حقائق (مثلاً جینیات اور مالیکیولی حیاتیات کے میدانوں میں سامنے آنے والی حقیقتوں) نے ڈارون کے نظریہ کو رد و بدل سے ہمکنار کیا ہے۔  اس وقت حیاتیات میں اس کی حیثیت ایک ایسے نظریہ کی ہے جسے عام طور پر درست مانا جاتا ہے۔  تاہم یہ ممکن ہے کہ آگے چل کر اس سے کوئی بہتر نظریہ وجود میں آ جائے جو ارتقائی حقیقتوں کی زیادہ کامیابی کے ساتھ وضاحت کر سکتا ہو۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ارتقاء کے کسی نظریہ کے جزوی یا کلی طور پر غلط ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ارتقاء کا تصور بذاتِ خود درست نہیں رہا۔  فرض کریں کہ کل ڈارون کا نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ارتقاء کا بنیادی فلسفہ ہی درست نہیں۔  بعض لوگ بالخصوص مذہبی جوشیلے ڈارون کو ہدف تنقید بناتے اور بزعم خود اسے غلط ثابت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے نظریہ ارتقاء کا رد کر دیا ہے۔  یہ بات ایک مغالطے اور خود فریبی کے سوا کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔

اگر ہم ڈارون سے اختلاف رکھتے ہوں تو بھی ہمیں اس کے کام کی قدر کرنی چاہیے۔  اس نے اپنا نظریہ کئی سالوں پر محیط وسیع تحقیق کی بنیاد پر قائم کیا اور مضبوط سائنسی دلائل کے ساتھ سمجھایا۔  یہی وجہ ہے کہ ڈارون کی تحقیقی کاوشوں سے خود ارتقاء کے تصور کو بھی تقویت حاصل ہوئی ہے۔  ارتقاء حیاتی شکلوں (Life forms) کے درمیان تعلق کو بیان کرتا اور انہیں ایک نقشہ یا پیٹرن (pattern) کی شکل دیتا ہے۔  ڈارون کا نظریہ اس پیٹرن کو سمجھنے اور اس کی منطق کو دریافت کرنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ یہ نظریہ ان مادی اسباب اور ان کی کارفرمائی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو بالآخر انواع کی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔  مگر کیا ارتقاء کا تصور اس بات کی نفی کرتا ہے کہ ایک خدا ہے، جو جانداروں کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تصورِ ارتقاء اور تصورِ خدا ایک دوسرے کی ضد ہیں یا ان میں کوئی اور تعلق ہے؟ اس اہم سوال کا جائزہ ہم اگلے باب میں لیں گے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *