اردوقومی

لاہور اور جنرل ضیاء الحق

(یادیں ثاقب زیروی)

مرکز تُلا ہوا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو ’’لاہور‘‘ کا ڈیکلریشن منسوخ ہونا چاہیے کیونکہ جنرل ضیاءالحق جو خود کو قادر مطلق سمجھتے تھے (نعوذباللہ) وہ اپنے اقدامات پر نرم سے نرم تنقید بھی برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ اس کی ہدایت پر لاہور کی سیکرٹیریٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب لاہور کو لکھ بھیجا کہ ’’لاہور کا ڈیکلریشن منسوخ کردیں۔‘‘

مگر یہ منسوخی مشروط ہوتی ہے معتوب کو سننے اور اس کی حاضری سے۔ چنانچہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحبان کی عدالتوں میں حاضری کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک دو تین۔ ہر دفعہ کسی نہ کسی عذر پر تاریخ لےلی جاتی۔ اسی عرصہ میں مجھے ہرنیا کا آپریشن کرانا پڑا۔ پھر چیک اپ کے لئے لنڈن جانا پڑا۔ میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش ہوتے رہے۔ سب سے پہلی پیشی سردار احمد شیر صاحب اے ڈی سی کے روبرو ہوئی (جو بعد میں اٹک کے ڈپٹی کمشنر ہوکر چلے گئے) مَیں نے اُن کے مشورے پر دو روپے کے کورٹ فیس پر یہ درخواست دی کہ ’’مَیں ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ شاید وہ اپنی کارروائی پر نظرثانی کے لئے تیار ہوجائیں۔‘‘

مثل واپس چلی گئی اور مَیں نے 28 جولائی 85ء کو ڈائریکٹر تعلقات عامہ کی خدمت میں نظرثانی کے لئے ایک درخواست بھی دے دی سردار احمد شیر تبدیل ہوگئے تو اختر علی مونگا آگئے ان سے بھی تاریخیں لیتے رہے پھر ایک اور اے ڈی سی صاحب پیش ہوتےرہے لیکن چونکہ ’’لاہور‘‘ چھپ رہا تھا اور پریس برانچ میں جاتا تھا اس لئے انہیں اس بات کی تکلیف تھی کہ یہ پرچہ کیوں چھپ رہا ہے چنانچہ پنجاب سیکرٹیریٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کو لکھا کہ وہ خود اس کیس کی سماعت کریں اور جلدازجلد ’لاہور‘ کو بند کریں۔ چنانچہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کی خدمت میں بُلاوے پر 29؍اپریل 87ء کو مَیں اور م۔ش دونوں پیش ہوئے ہمارے ساتھ چار دکلاء بھی تھے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے پاس اس دن سماعت کے لئے 31 کیس تھے انہوں نے حکمِ خاص پر 30 پر تاریخیں دلوادیں مگر ہمارا کیس سماعت کے لئے رکھ لیا مگر ہم یہی چاہتے تھے کہ اُن تیس مقدمات کی طرح ہمیں بھی تاریخ ہی مل جاتی۔ پیشی پر مَیں نے عرض کیا کہ مَیں نے سیکرٹری اطلاعات کی خدمت میں بھی یہ معروضات پیش کی ہیں کہ

1.فنون پریس کے مالک نے بغیر کوئی وجہ بتائے لاہور کی اشاعت بند کردی تھی۔

2.جس پر ہم نے عارضی منظوری کے لئے درخواست بھی دے دی تھی اور

3.مستقل ڈیکلیریشن کے لئے باقاعدہ فارموں پر درخواست بھی دی تھی۔

مَیں اور میرا پرنٹر (م۔ش صاحب) سیکرٹری صاحب ملے بھی تھے انہوں نے ہماری درخواست ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کو بھجوادی تھی مگر اس درخواست کا کیا نتیجہ نکلا ہمیں معلوم نہیں۔ اب آپ نے حکم دیا ہے تو ہم حاضر ہوگئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) صاحب نے ساری فائل کا مطالعہ کیا اور پھر سٹینو کو بلوا کر لکھوایا کہ معتوبین کی درخواست میں بہت سے قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا جواب دئیے جانے سے قبل ’’لاہور‘‘ کا ڈیکلیریشن منسوخ کرنا بہتر نہ ہوگا اس لئے جو نکات ’’لاہور‘‘ کے پبلشر اور پرنٹر نے اپنی درخواست میں اٹھائے ہیں پہلے ان کا جواب دینا ازحد ضروری ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے فائل لوٹادی۔ 21؍اپریل 87ء کو یہ فائل لوٹائی گئی تھی۔ جس کا کوئی جواب سیکرٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر جنرل (تعلقات عامہ) پنجاب سے بھی نہ بن آیا۔ حتٰی کہ جنرل ضیاءالحق کے متعلق خبر آگئی کہ وہ ’’عذاب النار‘‘ کی نذر ہوگئے ہیں اور یوں ’’لاہور‘‘ کی اشاعت پر کوئی قدغن نہ لگائی جاسکی‘‘

(تجربات جو ہیں امانت حیات کی صفحہ 140، 141)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *