اردوجہاں نما

سوچیئے گا ضرور

تحریر اشفاق احمد

*ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسانہ ھو کہ آپ کے یا ان کے جانے کا وقت آجائے۔**لیجنڈ ادیب «اشفاق احمد» کہتے ہیں۔ ایک فوتگی کے موقع پر میں نیم غنودگی میں کچھ سویا ہؤا تھا اور کچھ جاگا ہؤا نیم دراز سا پڑا تھا۔ وہاں بچے بھی تھے جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی بات نے مجھے چونکا دیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ «کوئی فوت ہوجائے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں۔**پھر ایک بچے نے کہا کہ اب پتہ نہیں کون فوت ہو گا؟ نانا ناصرالدین بوڑھے ہوچکے ہیں، ان کی سفید داڑھی ہے، شاید اب وہ فوت ہوں گے۔ اس پر جھگڑا کھڑا ہو گیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ کچھ بچوں کا مؤقف تھا کہ پھوپھی زہرا کافی بوڑھی ہو گئی ہیں۔ وہ جب فوت ہوں گی تو ہم ان شاءاللہ فیصل آباد جائیں گے اور وہاں ملیں گے اور خوب کھیلیں گے۔*خواتین حضرات! میں آپ کو ایک خوشخبری دوں کہ اس بحث میں میرا نام بھی آیا۔ میری بھانجی کی چھوٹی بیٹی جو بہت چھوٹی ہے، اس نے کہا کہ نانا اشفاق بھی بہت بوڑھے ہوچکے ہیں۔*خواتین و حضرات! شاید میں چونکا بھی اس کی بات سن کر تھا۔ جو میرے حمایتی بچے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جب نانا اشفاق فوت ہوں گے تو بہت رونق لگے گی کیونکہ یہ بڑے مشہور ہیں۔**جب بچوں کا جھگڑا کچھ بڑھ گیا اور ان میں تلخی بڑھنے لگی تو ایک بچے نے کہا کہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو گورنر آئیں گے۔ اس پر ایک بچے نے کہا کہ نہیں گورنر نہیں آئیں گے بلکہ وہ پھولوں کی ایک چادر بھیجیں گے کیونکہ گورنر بہت مصروف ہوتا ہے۔ تمہارے دادا یا نانا ابو اتنے بھی بڑے آدمی نہیں کہ ان کے فوت ہو جانے پر گورنر آئیں گے۔*وہ بچے بڑے تلخ، سنجیدہ اور گہری سوج بچار کے ساتھ آئندہ ملنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ظاہر ہے بچوں کو تو اپنے دوستوں سے ملنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے نا!*

*ہم بڑوں نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ہم رشتے بھول کر کچھ زیادہ ہی کاروباری ہوگئے ہیں۔**چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں حالانکہ چیزیں ساتھ نہیں دیتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشتے طاقتور ہوتے ہیں اور ہم رشتوں کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔*

*خدا کے لئے کوشش کریں کہ ہم اپنے رشتوں کو جوڑ سکیں ایسی خلیج حائل نہ ہونے دیں کہ ملاقاتیں صرف کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت ہی رہ جائیں کیا ہم ان بچوں کی طرح اس بات کا انتظار کریں گے کہ کوئی مرے پھر ہم مجبوری کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے جائیں۔*

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *