آئس نشہ کیا ہے
تحریر عامر احمد شنواری
آئس جس کا اصل نام میتھ ایمفیٹامین ہے جسے مختصراََ میتھ یا کرسٹل میتھ کہا جاتا ہے۔ یہ بھاڑی نما مخصوص پودوں اور درختوں سے حاصل کئے جانیوالے ایک خاص کیمیکل کو کہتے ہیں۔ نیز یہ لیبارٹریوں میں ایفیڈرین سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس خونی نشے کے کرسٹلز عموماََ چینی یا نمک کے بڑے دانوں کی سائز کے ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خطرناک ترین نشوں میں سے ایک ہے۔ اسکے استعمال سے انسان کے اندر توانائی دگنی حد تک بڑھ جاتی ہے، حافظہ انتہائی تیز ہو جاتا ہے اور انسان 24 سے لے کر 72 گھنٹے تک جاگ سکتا ہے۔ لیکن نشہ اترنے کے بعد انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ وہ آس پاس موجود ہر انسان کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ آئس کے مسلسل استعمال سے انسان پاگل پن کا شکار ہو کر جلد ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔پاکستان میں قبائلی علاقے بالخصوص خیبر ایجنسی کو آئس کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ جہاں یہ زہریلا اور مہلک نشہ ایران سے سمگل ہو کر آتا ہے۔ مہنگا ہونے کی وجہ سے یہ پہلے صرف امراء کی دسترس میں تھا اور ان کی پارٹیوں میں سرو کیا جاتا تھا۔ کیونکہ خالص اور اصل آئس کی ایک چھوٹی سی پڑیا 5 سے 10 ہزار تک ملتی تھی۔ لیکن جہازوں کی تعداد اور کھپت میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر ایران سے کثرت سے سمگلنگ اور مقامی لیبارٹیوں میں تیار شدہ دو نمبر نہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں بتدریج کم ہو کر 500 سے 1500 کے درمیان تک آ گری ہیں۔
خیبر پختونخواہ میں اس خونی نشہ کا استعمال اور کاروبار بہت مضبوطی سے اب اپنے خونی پنجے گاڑ چکا ہے۔ اور بڑے شہروں پشاور، لاہور اور کراچی سمیت ملک بھر میں اس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک تیزی سے جاری ہے۔ عام افراد کے ساتھ ساتھ تجارت پیشہ افراد ، سیاستدان، سرکاری افسران تک اس نشے کی لت میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ نشہ ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی فروغ پا رہا ہے اور اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ طالبات اور خواتین کی بھی ایک قابلِ ذکر تعداد اس جان لیوا نشے کی عادی ہے۔جتنی تیزی سے یہ مہلک نشہ اقبال کے شاہینوں کے پر کاٹ رہا ہے، اس سے کئی گنا سستی اور غفلت کا ارتکاب پاکستان کی حکومتیں کر رہی ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس نشے کی روک تھام کے سسلسلے میں اب تک کسی بھی قسم کے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ابھی تک خصوصی طور پر آئس کے سمگلروں اور پینے والوں کے لیے کوئی سزا ہی مقرر نہیں کی گئی .
میری اس پوسٹ کے توسط سے حکومت وقت سے بھی درخواست ہے کہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے جتنی جلد ممکن ہو، اس کے سدباب کیلئے قانون سازی کی جائے اور اس لعنت سے جڑے تمام لوگوں کیلئے سخت سے سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ نیز اسکے خلاف بلا تاخیر فوری سرکاری مہم شروع کی جائے۔ تاکہ اس مہلک نشے کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو ۔ ہمیں خود کو اور نوجوان نسل کو بچانا ہے۔۔

