(تاریخ کے جھروکوں سے) ثاقب زیروی کے ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کی کہانی

آج کچھ دل میں میرے درد سا ہوتا ہے۔ کیوں نہ مختصراً ’’لاہور‘‘ کی کہانی ہی لکھ دی جائے۔ جس پر گزشتہ پچاس سالوں میں ایسے وقت بھی آئے کہ مالیاتی کمزوری دیکھ کر ساتویں دن کی بجائے پندرھویں دن اِکٹھا پرچہ نکالنے کا قصد کیا۔ مگر اُس مسبب الاسباب نے ایسے حالات پیدا کردیئے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ’’لاہور‘‘ کو پہلے چار پانچ سال اشتہارات ملتے رہے اس کے بعد بند ہوگئے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم امورِمملکت کو مقتدرین کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ بھٹو صاحب کے دور میں مصائب کا آغاز ہوا اور اب تک جاری ہیں۔ ’’تحفظ ختمِ نبوت‘‘ والے بھٹو صاحب پر سوار تھے راؤ رشید (انسپکٹر جنرل پولیس کے دور میں ان کے عزیز راؤ عبدالمنان آف سرگودھا کی) بھٹو صاحب سے ہاٹ لائن پر گفتگو ہوتی تھی۔ ان سے ’’لاہور‘‘ کے پرنٹر (ثاقب زیروی) اور پبلشرم۔ ش (محمد شفیع میاں) کے خلاف سرگودھا کے ایک مجسٹریٹ صاحب کی عدالت میں ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ کا کیس دائر کروایا گیا۔ جس میں آؤ دیکھا نہ تاؤ مجسٹریٹ صاحب نے سمن اور وارنٹ بھجوانے کی بجائے ’’وارنٹ گرفتاری‘‘ جاری کردیئے کیونکہ بھٹو صاحب اس کیس میں دلچسپی لے رہے تھے جو ہمیں ہائیکورٹ سے معطل کرانے پڑے۔ جب سرگودھا کے کیس میں ہزیمت فاش اٹھائی تو ’’ڈیفنس آف پاکستان رولز‘‘ لگادئیے جن دو مقدمات میں 25 سال کی سزا تھی۔ ہم ابھی ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا ہی رہے تھے کہ مارشل لاء لگ گیا۔ ’’ڈی پی آر‘‘ کا کیس ختم ہوگیا اور جنرل ضیاء الحق آگئے۔ جنرل ضیاءالحق نے نہ صرف اشتہارات بند کیے۔ نیوز پرنٹ کا کوٹہ بند کیا۔ ٹی وی ریڈیو پر میرے لیے چٹخنیاں چڑھا دیں پبلک مشاعرے تک بند کردیئے۔ ’’جماعت احمدیہ‘‘ کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے بعد اہلِ صحافت نے یہ کرم فرمائی کی کہ ’’لاہور‘‘ کو قادیانی ہفت روزہ لکھنا شروع کیا۔ حالانکہ مَیں قادیان کا رہنے والا نہیں اور نہ ’’لاہور‘‘ جماعت ہی کا پرچہ ہے۔ نوازشریف صاحب سے پانچ کریمنل کیس بنوائے۔ جب ’’ان کیسز‘‘ میں بریت ہی ہوئی تو نوازشریف صاحب نے ڈیکلریشن کی منسوخی کا آرڈر ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھیج دیا جو ساڑھے چار سال تک چلتا رہا۔ حتیٰ کہ جنرل ضیاء اپنے تیس جرنیلوں سمیت ’’عذاب النار‘‘ کی نذر ہوگئے۔ اور ہماری جان چھوٹ گئی۔

ہم نے تین ہزار کے سرمائے سے پرچہ نکالا تھا اس لیے ابتدائی چند سالوں میں تو حالت سخت ناگفتہ بہ رہی۔ لاہور کے نمائندہ خصوصی کراچی میں ’’یو زیڈ تاثیر‘‘ تھے۔ آخر وقت میں ریٹائرمنٹ کے بعد تو ان کی مالی حالت بہت ہی بہتر ہوگئی تھی۔ وہ ’’مسرت ڈائجسٹ‘‘ کے ایڈیٹر تھے ’’اپنا گھر‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ سندھ گورنمنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل تھے۔ ہر مہینے میں کم از کم دس دن بیرونی ملکوں میں گزارتے تھے۔ وہ ’’لاہور‘‘ کی کچھ رقم صرف کر بیٹھے۔ ان سے دوستی بھی تھی بلکہ استادی و شاگردی کا رشتہ تھا۔ انہیں لکھ نہیں سکتا تھا۔ مگر ’’لاہور‘‘ کی حالت پتلی تھی۔ جب صورت حال کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئی تو میں نے منشی لال دین (کاتب) سے کہا کہ کیوں نہ اس دفعہ ناغہ کریں اور ایک کاپی بڑھا کر پندرہ دنوں کے بعد اکٹھا پرچہ شائع کردیں۔ مگر وہ قدرے متذبذب تھے کہ شاید مسبب الاسباب کوئی صورت بنا دے۔ ایسے لمحے تو ہم پر کئی دفعہ آئے ہیں۔ اور مَیں نے بھی آستانہ الوہیت پر سر رکھ دیا۔ اگلے دن کچھ مصروفیت تھی جب مَیں دفتر میں پہنچا تو منشی جی نے بتایا کہ ایک ڈاکیا منی آرڈر لے کر آیا تھا۔ مگر آپ نہیں تھے۔ اور وہ مجھے دے نہیں رہا تھا۔ ابھی ہم بات ہی کررہے تھے کہ ڈاکیہ پھر آگیا۔ سات سو کا ’’ٹی ایم او‘‘ لے کر جو تاثیر صاحب نے بھیجا تھا۔ مَیں نے الحمدللہ پڑھ کر تاثیر صاحب کو فورا ًخط لکھا کہ ’’شاید آپ نے واجب الادا رقم ادا کی ہو مگر حقیقت میں احسان فرمایا کہ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ ہم ہفت روزہ کی بجائے پندرھویں دن پرچہ شائع کرنے کا سوچ رہے تھے۔‘‘ اور میرا خط ملنے کے بعد انہوں نے ’’ٹی ایم او ہی کے ذریعے تین سو اور بھجوا دیئے‘‘ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔ جو وقت پر کام آئے وہی اصل دوست ہوتا ہے۔ (تجربات جو ہیں امانت حیات کی)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *