اردوجہاں نما

بھیرومل مہرچند آڈوانی

Share your Love

تحریر :عبدالعزیز کھوسو۔عمرکوٹ

کوچ کر گئے سبھی اس سنسار میں

پیر، پیمبر، اولیاء۔ ہر اِک نے اپنا کام کیا

گیانی، دھیانی، گرہستی۔ “سامی” چل دیئے

سبھی سدھار گئے، تو کیا سمجھا ہے آپ کو

(سامی)

بھیرومل جو سندھ میں “کاکو بھیرومل” کے نام سے زیادہ معروف ہیں،سندھ کے چوٹی کے  ادیبوں میں سے ایک تھے۔وہ بیسویں صدی کے  پہلے نصف کے دوران سندھ کے سب سے زیادہ بااثر مصنف تھے۔وہ ڈرامہ نگار،مصنف،مؤرخ ، لسانیات اور شاعر کی حیثیت سے مشہور تھے ۔بھیرومل حیدرآباد سندھ کے ہندو عامل محلہ کے  مشہور آڈوانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی پیدائش1875ء میں حیدرآباد میں ہوئی۔ان کے والد کانام مہرچند تھا جو محکمہ آبادکاری میں  ہیڈمنشی تھے۔بھیرومل نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی مشن اسکول اور یونین اکیڈمی حیدرآباد سے حاصل کی بعد ازاں  انگریزی تعلیم بھی انہوں  نے حیدرآباد سے  ہی  حاصل کی۔انہوں نے دوران تعلیم سادھو ھیرانند شوقیرام اور تاراچند شوقیرام سے شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا کلام پڑھا۔1895ء میں بیس سال کی عمر میں وہ کوٹری میں محکمہ سالٹ اینڈ ایکسائز سےوابستہ ہوئے۔1924 ء میں ایکسائز انسپکٹر کے عہدہ  تک پہنچ کر ریٹائرمنٹ  لی۔ 1924 ء میں ڈی جی سندھ کالج  میں  وہ سندھی زبان کے لیکچرار مقرر ہوئےاور 1937ء تک وہ اسی شعبہ سے وابستہ رہے۔وہ ممبئی یونیورسٹی کے کئی سالوں تک سندھی  زبان کے ممتحن رہے۔اکتالیس سال کے اس عرصہ میں انہوں نے45کتابیں تصنیف کیں۔ 1905ء کے بعد سندھی درسی کتابوں میں شامل تقریبا  ایک سو اسباق نظم اور نثر ہر دو صورتوں میں ان کے لکھےہوئے ہیں۔تقسیم ہند 1947 ء کے بعدکچھ عرصہ تک وہ کراچی میں قیام پذیر رہے لیکن گزر بسر کی تنگی اور بنگلے کی واپسی نہ ہونے کی وجہ سے بالآخر مجبور ہوکر وہ نومبر 1949ء میں بمبئی چلے گئے۔7 جولائی 1950ء کو ساسکون اسپتال پونا میں انہوں نے وفات پائی۔ بھیرومل سندھ کی قدیم تہذیب ،تاریخ،کلچر،روایات اور زبان کے بارہ میں ان کی گہری تحقیق کی وجہ سے سندھی ادب کے سر فہرست لکھاریوں میں شامل تھے۔ان کی مشہور تصنیفات میں سندھ جی ھندن جی تاریخ،قدیم سندھ،سندھ جو سیلانی،لطیفی سیر،سندھی گرائمر،غریب اللغات، سندھی ٹو سندھی ڈکشنری،سندھی بولی جی تاریخ،گلقند، گلزار نثر وغیرہ شامل ہیں۔بھیرومل کے چار ناول مشہور ہیں،آنند سندریکا، موہنی بائی ، پریم جو مہاتمہ اوروریل نعمت۔  بھیرومل اپنی شاعری میں اپنے لئے “غریب” کا تخلص استعمال کرتے تھے۔انہیں سندھی،فارسی،سنسکرت،عربی اورانگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔معروف ہندوستانی مصنف ہیرو ٹھاکر نے 1991ء میں بھیرومل کی سوانح حیات پرایک کتاب لکھی ۔

پیرعلی محمد راشدی نے ان کے بارہ میں لکھا کہ:

(کاکو بھیرومل محکمہ آبکاری سے استاد کے مرتبہ تک پہنچے۔سندھی گرائمر کو وہ ترتیب دے کر گئے۔ ان کی تصنیف کردہ درسی کتابوں سے لاکھوں بچوں نے استفادہ کیا۔سندھی زبان کے مسائل پر ان کی رائے کو آخری حرف سمجھا جاتا تھا۔ )

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *