مخدوم محمد زمان “طالب المولیٰ”

تحریر: عبدالعزیز سندھ

سندھی زبان کے مشہور ادیب اور شاعر مخدوم محمد زمان  4 اکتوبر 1919ء کو  پیدا ہوئے ۔مخدوم محمد زمان کے  والد کا نام مخدوم غلام محمد تھا۔آپ کی پیدائش “ہالا” میں ہوئی جو سندھ کا مشہور شہر ہے۔آپ حضرت مخدوم نوح رحمۃ اللہ علیہ کی نسل میں سے تھےاور  ہالا میں واقع مخدوم نوح سرور کے مزار کے سترہویں سجادہ نشین تھے۔مخدوم نوح رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے صوفی بزرگ ہوگزرے  ہیں۔آپ 16 دسمبر1944ء کو اپنے والد مخدوم غلام محمد کے انتقال کے بعد درگاہ کے سجادہ نشین بنے۔مخدوم صاحب نے  اپنی شاعری کی شروعات جنوری یا  فروری 1934 ء میں  کی ۔آپ نے سندھی زبان کے ساتھ ساتھ اُردو زبان میں بھی شاعری  کی۔آپ کی مشہور تصانیف میں امام غزالی جاخطوط،خودشناسی،بہارطالب،رباعیات طالب،چھپرمیں چھڑیوں،شان سروری، دیوان طالب المولیٰ،سندھ جو شکار،سماع  العاشقین فی سرور الطالبین اور آب حیات شامل ہیں۔آپ نے سندھ میں صحافت کی سرپرستی  بھی کی اور ہفت روزہ  پاسبان، الزمان،کوثر،اور تعمیر نامی اخبارات جاری کئے۔ادبی رسالوں میں ماہنامہ فردوس اور روح  ادب جاری کئے۔آپ کی شاعری میں سے کچھ بطور نمونہ درج ذیل ہے:

مرا غمخوار تو  خلوت  گزیں ہے

مرا دنیا میں اب کوئی نہیں ہے

تیراکوچہ بنایا اپنا مسکن

کہ عاشق کا یہی خلد بریں ہے

سمجھتے  ہیں جسے سب لامکانی

وہ میرے خانہ  دل میں مکیں ہے

یہ “طالب” مل نہیں سکتا کسی سے

غم دلبر میں اب خلوت نشیں ہے

یاد رہے کہ” طالب المولٰی” مخدوم محمد زمان کا لقب تھا جس کا استعمال وہ اپنی شاعری میں بھی کرتے تھے اور نثر میں بھی۔شاعری میں آپ نے پہلے بیوس (جسے اردو میں بے بس کہا جاتا ہے)، بعد ازاں فراقی، زمان شاہ اور طالب اور بالآخر 1949ء میں طالب المولیٰ کا تخلص اختیار کیا۔مخدوم صاحب آخری زمانہ کے   مسلمانوں کے حالات دیکھ کر تڑپ اُٹھتے ہیں اور کہتے  ہیں کہ:

یارب! یہ آج دورِ مسلماں کو کیا ہوا

رسوائی بڑھ گئی ہے شبستاں کوکیا ہوا

چھائی ہے آج گلشن مسلم پہ کیوں خزاں

سرسبز وپربہار گلستاں کو کیا ہوا

اقوام ِ غیر آج  کیوں غلبہ پذیر ہیں

افسوس اپنی ہمت جولاں کو کیا ہوا

وہ جوش، وہ امنگ نہیں آج قوم میں

غیرت گئی دلوں سے یہ ایماں کو کیا ہوا

ہرذرہ تیرے اذن کا محتاج ہے اگر

کیوں دیر ہوگئی،تیرے درماں کو  کیا ہوا

(طالب) کے دل میں رہتا ہے ہروقت یہ ملال

بس آرزو ، اطاعت قرآن کو کیا ہوا۔

آپ کو شاندار علمی و ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے (تمغہ پاکستان) اور (ہلال امتیاز)سے نوازا گیا جبکہ آپ کو “لطیف ایوارڈ” بھی دیا گیا تھا۔مخدوم محمد زمان (طالب المولیٰ ) نے 11 جنوری 1993ء کو کراچی میں وفات پائی اور ہالا میں آپ کی تدفین ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *