اردوجہاں نما

مادری زبانوں کا عالمی دن

Share your Love

رپورٹ علی حسنین مسعود (بیورو چیف سینٹرل پنجاب لاہور انٹرنیشنل لندن)

نومبر 1999 کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی انسانی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے اعلامیہ میں 21فروری کو مادری زبانوں کا علمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسکے بعد سنہ 2000 سے اس روز دنیا بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی کی تحقیق کے مطابق دنیا میں 7000ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق 1950 سے لیکر اب تک 230 مادری زبانیں ناپئد ہو چکی ہیں۔ہر ملک کی طرح پاکستان میں بھی یہ دن 21 فروری کو منایا جاتا۔ ایک اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی چین کی زبان مندرین ہے اسکو تقریباً  ایک ارب افراد بولتے ہیں دوسرے نمبر پر ہسپانوی زبان ہے جسکو 400ملین افراد بولتے ہیں اور تیسرے نمبر پر انگریزی زبان ہے اسکو 335 ملین افراد بولتے ہیں۔ یہ ایک اصول بن گیا ہے کہ بچے کی تعلیم اس زبان میں ہی ہونی چاہئے جو اسکے ماں باپ گھر پر بولتے ہیں۔ مثال کے طور پر گاوں کا بچہ گھر میں ککڑی سیکھتا ہے لیکن جب وہ سکول جاتاہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ مرغی ہے۔ انگریزی میں اسے چکن کہتے لیکن اتنے زیادہ الفاظ ہوتے ہیں کہ وہ کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے اور پڑھ نہیں پاتا۔ پنجابی اسے آتی ہے اس لیے اسکو پنجابی میں پڑھایا جائے تو کم ازکم خواندگی کا مسئلہ تو حل ہو سکتا ہے۔ جن قوموں نے اپنے بچوں کو مادری زبان میں تربیت اور فروغ دیا ہے وہ آج دنیا کی ترقی یافتہ ہیں مسال کے طور پر چین ،جاپان،جرمنی اور دیگرممالک۔

دنیا کے تمام ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ متعدد وجوہات کی بنا پر مادری زبان قابل قدر ہے۔ مادری زبان میں بچوں کی علمی نشوونما اچھے انداز میں ہوتی ہے جوکہ انتہائی اہم ہے۔ ہرسال 21 فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی چئیرنگ کراس مال روڈ لاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ سول سوسائٹی ، پاکستان پنجابی ادبی بورڈ اور پنجابی پڑھاو تحریک کے زیراہتمام یہ ریلی منعقد ہوئی جبکہ اس میں پروگریسو سٹوڈینٹس کولیکٹیو،حقوق خلق موومنٹ، پنجاب لوک سنگت، پنجابی سنگت، پاکستان مزدور کسان پارٹی،پنجاب ٹیچرز یونین، پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کے نمائندوں سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔شرکا میں ثقافتی کارکن، ادیب، شاعر، فنکار، گلوکار اعر طلبا شامل تھے۔شرکا نے پنجابی بینرزاور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کررہے تھے جوکہ پنجاب کا کلچرل ہے۔پی پی پی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اپنے بچوں کو انکی مادری زبان میں تعلیم دیں کوئی بھی ملک اپنی ثقافت اور زبان کی پیروی کیے بغیر ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ ہمارے بچوں کو پہلے ایک بات پنجابی میں سمجھنی ہوگی ، بعد میں وہ اسے اردو میں اور آخر میں انگریزی میں ترجمہ کریں گے اور انہوں نے پڑھائی کو بوجھ سمجھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نوبل پرائز حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبد السلام کو بھی نہیں اپنایا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا صوبہ پنجاب میں پنجابی زبان کو نافذ کیا جائے۔ معروف سکالر مولانا ناصر مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان رابطہ کا بنیادی ذریعہ ہے جس سے لوگ آپس میں رابطہ قائم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیقوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچے اپنی مادری زبانوں میں بہت بہتر سیکھتے ہیں ، انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کی بہت سی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جنہوں نے اپنی مادری زبانوں میں اپنے بچوں کی تعلیم میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے وہ آج دنیا میں کامیاب ہیں۔پنجابی زبان دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں پڑھائی نہیں جاتی۔قومی کبڈی ٹیم کے کپتان شفیق چشتی نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبوں کو انکی اپنی مادری زبانوں میں تعلیم کا حق فراہم کیا گیا لیکن پنجاب میں اس حق سے حکومت نےمحروم کیا ہوا ہے جو ایک بہت بڑی آبادی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ریلی میں نمایاں شخصیات میں فوک گلوکار فضل جٹ ، بابا نجمی ، افضل ساحر ، پروین ملک ، اداکار راشد محمود ، احمد رضا وٹو ، امین حفیظ ، احمداقبال بزمی ، میاں آصف علی ، مدثر اقبال بٹ ، امجد سلیم ، یوسف پنجابی ، دیپ سعیدہ ، جمیل فریدی اور موتیا مسعود شامل تھے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *