آسٹریلیا: قومی ترانے میں ایک لفظ کی تبدیلی اور ہزاروں برس کا قرض
تحریر: ڈاکٹر طارق احمد مرزا ۔ آسٹریلیا 
سال 2021 کے آغاز سے معاً قبل وزیراعظم جناب سکاٹ موریسن نے آسٹریلیا کے موجودہ قومی ترانے میں ایک لفظ کی تبدیلی کا اعلان کیا۔
آپ نے بتا یا کہ ترانے میں شامل ایک لائن
For we are young and Free
یعنی( ہم نوخیز اور آزاد ہیں )کی بجائے :
For we are one and free
( ہم ایک اور آزاد ہیں) لکھا اور پڑھا جائے گا۔
یہ تبدیلی یکم جنوری 2021 سےنافذ العمل ہو چکی ہے۔
آپ نے بتایا کہ ایک لفظ کی تبدیلی سے اس کی شعریت اور ترنم پرتو کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن تاریخی اور معنوی لحاظ سے بہت بڑا فرق رونما ہو جائے گا۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ آسٹریلیا کی تاریخ کو برطانوی نوآبادیاتی دور کے آغاز سے نہیں بلکہ 40 تا 60 ہزار سال سے آباد قدیم (ایبوریجنی)اقوام کی تاریخ کے ساتھ مدغم کرکے اپنایا جا رہا ہے۔آسٹریلیاکوئی نوخیز یانوزائدہ ( Young) ملک نہیں۔ یہ یہاں کی پہلی اقوام (First Nations) کا بھی ملک ہے اور ہم ان کے ساتھ مل کر ایک اورآزاد ملک ہیں۔ آپ نے کہا کہ ماڈرن ملک کی حیثیت سے تو ہم نوخیز ہی ہیں لیکن اس خطے میں آباد اقوام کی کہانی بہت قدیم ہے۔اس تبدیلی کا اصل سہرا ریاست نیوساؤتھویلز کی خاتون پریمئر کو جاتاہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنی سرکاری حیثیت میں کھل کر اس کی تجویز وفاقی حکومت کے سامنے رکھی۔واضح رہے کہ آسٹریلیا کا موجودہ قومی ترانہ 1984 میں اپنایا گیا تھاجو پیٹرمیک کورمک نامی شاعر نے “ایڈوانس آسٹریلیا فئیر” کے نام سے 1878 میں ایک طویل نظم کی صورت میں لکھا تھا۔اس نظم کے آخری حصہ میں آسٹریلیا کے “برطانوی ماضی” کا فخر سے ذکر کیا گیا تھااس لئے اس حصے کو قومی ترانے میں شامل نہیں کیا گیا ۔ ماضی میں اس نظم میں وقتاً فوقتاً اوربھی کچھ تبدیلیاں کی جاچکی ہیں ۔یہ نظم سابقہ قومی ترانے کے علاوہ ایک مقبول عام قومی نغمہ کے طور پر اہم موقعوں پر گائی جاتی تھی۔1984 سے قبل آسٹریلیا میں (گاڈ سیو دی کوئین) (God Save The Queen ) کا ترانہ رائج تھا جو کہ برطانیہ کا قومی ترانہ ہے ۔مذکورہ تبدیلی کا جہاں بہت سے حلقوں کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں اس پر عدم اطمینان اور رنج و غم کااظہار بھی کیا گیا ہے۔ قوم پرست ناقدین کا کہنا ہے کہ کیا ایک عدد لفظ کی تبدیلی سے آسٹریلیا کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اورصدیوں سے یہاں کے قدیم سیاہ فام باسیوں پر روا رکھے جانے والے ظالمانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی سلوک کا قرض چکایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ جب برطانوی سامراج نے آسٹریلیا کو اپنی نو آبادیاتی مملکت بنانے کا اعلان کیا تو اس زمیں پر ہزاروں سال سے آبادچلے آرہے قدیم ایبوریجنی باشندوں کو اس براعظم کا مالک یا وارث تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔صرف اس وجہ سے کہ ان قدیم نسل کے انسانوں کے پاس ایسے کوئی ” دستاویزی” ثبوت یا شواہد موجود نہ تھے جس سے یہ سرزمین آسٹریلیا پر اپنی جدی پشتی ملکیت ثابت کرسکتے۔افریقہ اور ہندوستان کے برعکس نہ یہاں کوئی مکان،نہ کوئی زرعی فارم،حتیٰ کہ جھاڑجھنکاڑیا پتھروں سے بنائی کوئی چاردیواری یا لکیر تک موجود نہ تھی۔ لباس پہننے یا لکھنے پڑھنے کا توسوال ہی نہیں تھا۔آجا کر کچھ قدرتی غاروں کی چھت یا دیواروں پر آڑھی ترچھی لائنوں سے بنی کچھ تصاویر (جن کے “معانی” اب جاکر معلوم ہوئے ہیں) دوردراز کے علاقوں میں موجود تھیں لیکن اس سے کسی کی ملکیت کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ یہ لوگ پھل فروٹ ، جانوروں کے شکار اور پانی کی تلاش میں مستقلآ نقل مکانی بھی کرتے رہتے تھے۔
شمالی علاقہ جات جو ملحقہ جزائر اور انڈونیشیا سے قریب ہیں ،وہاں “غیر ملکیوں” کی چھوڑی ہوئی اشیاء یا کاشتکاری اور جھونپڑیوں ،گنڈولوں،حتیٰ کہ اسلحہ تک وغیرہ کے آثار تو موجود تھے لیکن وہ مقامی باشندوں کے سادہ سے دماغوں کی اختراع ہرگز نہ تھے۔ یہ لوگ تو کسی اور ہی بابا آدم کی نسل میں سے تھے اورابھی تک تیس چالیس پزارسال پرانا تمدن جاری رکھے ہوئے تھے اس لئے ان بیچاروں کو بڑی آسانی سے اس پورے براعظم کی ملکیت سے جبراً دست بردارکردیا گیا۔ اسی پر بس نہیں ،ان بیچاروں کو گورے آبادکاروں نے جانوروں کی طرح شکار کرکے مارنا بھی شروع کردیا حتیٰ کہ مبینہ طورپر آسٹریلیا کے جنوب میں واقع تسمانیہ کےجزیرے میں ایک ایبورجنی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ ان “شکار” کئے ہوئے دیسی باشندوں کی کھوپڑیاں اور حنوط شدہ سر یوروپ کے عجائب گھروں میں بطور تحفہ یا بغرض تحقیق بھجوائے گئے۔ جو گزشتہ برس 2020 سے اب باقاعدہ معافی نامہ کے ساتھ واپس بھجوائے جارہے ہیں اور یہاں ان کی مقامی رسومات کے ساتھ تدفین شروع ہے۔اسی طرح کوشش کی جاتی کہ یہاں کی مقامی عورتوں کو پکڑ کر جنسی غلام کے طور پر رکھا جائے۔ان سے پیداہونے والے بچوں کو ان کی ماؤں سے جبراً الگ کردیا جاتا تھا اور انہیں گوروں کی بنائی ہوئی نرسریوں ،ہاسٹلوں میں رکھا جاتا تھا۔ان ہزارہا بچوں کو “چوری شدہ نسلیں” (Stolen Generations) کہا جاتا ہے۔اسی طرح سے گورے آباد کارجو کیپٹن کُک کے ہمراہ یاپھر بعد میں آنا شروع ہوئے وہ اپنے ساتھ طرح طرح کی بیماریاں،مثلاً چیچک ، ٹی بی،خسرہ، خناق،چکن پاکس،ہیضہ،ٹائیفائڈ وغیرہ اورپھر جنسی بیماریاں آتشک ، سوزاک وغیرہ ہمراہ لائے اور دنیا کے اس الگ تھلگ اور قدرتی طورپر محفوظ علاقے میں آباد ان مقامی باشندوں کی سینکڑوں بلکہ ایک اندازہ کے مطابق 70 فیصد آبادی تک کی اموات کا الگ سے با عث بنے۔ایک ایسا دردناک واقعہ بھی ہے جب مبینہ طور پرکچھ معصوم ایبورجنی(جانور) کنگرو افراد کو ہانک کراور ان سے ہی چتا بنوا کر بڑھکتی آگ میں زندہ جلا دیا گیا ۔یہ وہ نام نہاد جدید تہذیب تھی جو سفید سامراج کے نام نہاد نمائیدے اپنے ہمراہ آسٹریلیا لائے تھے۔اسی لئے کیپٹین کُک کی آمد اور اس دن کو جب اس نے سڈنی کی باٹنی بے Botany Bay پر برطانوی جھنڈا لہرایا تھا،یوم سیاہ اور یوم قبضہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔کیپٹن کک کے بارہ میں یہ بھی معلوم رہے کہ اس کے بارہ میں جو کہا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کو کیپٹن کک نے “دریافت ” کیا تھا،بالکل غلط ہے کیونکہ اس سے کئی برس پیشتر دیگر یورپی سیاحوں نے آسٹریلیا کو نہ صرف دریافت کیا تھا بلکہ اس کا باقاعدہ سروے بھی تیار کیا تھا لیکن انہوں نے اس بیابان جگہ کو “ناقابل رہائش” قرار دے کر اسے ڈچ ،سپینش یا پرتگالی کالونی بنانے کا ارادہ ترک کر دیا۔یہی نہیں بلکہ یورپی اقوام سے بھی بہت پہلے انڈونیشیا کے ساحلوں سے ہوتے ہوتے یہاں مسلمان اور عرب ملاح اورتاجر شمالی آسٹریلیا سے بخوبی واقف تھے اور یہاں ان کے باقاعدہ شواہد موجود ہیں۔ہاں کیپٹن کُک نے اگر کوئی کام کیا تو وہ یہ کہ وہ پہلاسفید فام باشندہ تھا جس نے پہلی بار اس سرزمین کو برطانوی نوآبادیاتی سامراج کے زیرتسلط کالونی بنانے کااعلان کیا۔سابق وزیراعظم جناب مالکم ٹرن بُل صاحب بھی کیپٹن کُک کی آمدوالے دن کےبارہ میں کھلم کھلا اظہارکرچکے ہیں کہ وہ دن بجا طور پر “یوم قبضہ” (Invasion Day) کہلائے جانے کے لائق ہے۔ جیسا کہ ایبورجنی باشندے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں۔قارئین کرام اس خونچکاں داستان کو مختصر کرتے ہوئے بتاتا ہوں کہ وقت گزرنےکےساتھ ساتھ اور دنیا بھر سے شرم دلانے اورپھٹکار پڑنے نیز انسانی حقوق کی تنظیموں خصوصاً عیسائی مشنریوں کی مسلسل کاوشوں سے 1967 میں پہلی بار ان مقامی باشندوں کو “انسان”قرار دیا گیا اور پہلی بار مردم شماری میں آباد کارگوروں کے ساتھ انہیں بھی مردم شماری میں گنا گیا۔اس سے قبل یہ لوگ نباتات اورجانوروں کی طرح گردانا جاتے تھے۔شام سے پہلے تمام آبادیوں میں بگل بجائے جاتے اور ان باشندوں کا شہروں سے ناکل کر “واپس” جنگل بیابان میں جانا لازمی ہوتا تھا۔بیسویں صدی کے وسط تک ان باشندوں کو ،خواہ وہ پڑھے لکھے اور سرکاری ملازمت میں بھی کیوں نہ ہوں، بیرون ملک سفر کے لئے آسٹریلین پاسپورٹ بھی نہیں ملتا تھا بلکہ خصوصی سفری دستاویز جاری کی جاتی تھیں۔اندازہ کریں کہ جدید دور میں آکر سن 2012 میں آکر تجویز پیش کی گئی کہ نسلی امتیاز بنا پر کسی سے امتیازی سلوک روا رکھنا اب باقاعدہ جرم گردانا جائےگا!۔ اس سے قبل 2007 میں لیبر دور حکومت کے وزیر اعظم جناب کیون رڈ صاحب Kevin Ruddنے بطور وزیر اعظم نیشنل اسمبلی میں سفید فام استعمار کی طرف سے آسٹریلیا کے ان اصل باشندوں پر صدیوں سے ڈھائے گئے مظالم پرسرکاری طورپر “سوری” (Sorry) تو کہا لیکن معافی مانگنے سے پھر بھی انکار کردیا کیونکہ اس مطلب اس ملک کے جملہ حقوق ان کے نام محفوظ کرنا ہونگے جس کی بہت ہی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ان باشندوں کی متعدد قوم پرست تنظیموں کا یہ مطالبہ بدستور چلا آرہا ہے کہ آسٹریلیا کے آئین میں انہیں اس سرزمین کا اصل مالک تسلیم کیا جائے لیکن ہنوز وہ اس میں ناکام رہی ہیں۔ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ تقاریر اور تقریبات کے آغاز میں رسمی طور پر انہیں اس زمین کے روایتی محافظ یعنی کسٹوڈین (Traditional Custodian) تسلیم کیا جاتا ہے لیکن آسٹریلین آئین میں ان کا اس قسم کا کوئی حق یا ذکر(Recognition) موجود نہیں۔ایبورجنی نمائیندوں کا کہنا ہے کہ اگرآئین میں انہیں آسٹریلیا کی فرسٹ جنریشن یعنی اول نسل تسلیم کرلیا جائے تو یہ ان کاایسا “برتھ سرٹیفیکیٹ ” ہوگا،جس سے وہ محروم چلے آرہے ہیں ۔حکومتی حلقوں کااصرار ہے کہ جب آئین اور قانون کے مطابق اب ہم سب ایک ہیں توپھر کسی مخصوص گروہ یانسل کو آئین میں امتیازی حیثیت دینے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 2021 میں آسٹریلیا کے قومی ترانے میں ایک لفظ کی تبدیلی ان اقوام کو ان کا مطلوبہ آئینی حق دئے جانے کا متبادل ثابت ہو پائےگی؟،ان کے تین سوسال سے زائد چلے آرہے دکھوں کا مداوا کرپائے گی؟ اور اس سرزمین سے وابستہ ہزاروں سال پرانی ان کی تاریخ کا قرض چکا پائے گی ،جسے برطانوی استعمار نے 1788 میں تسلیم کرنے سے کلیتاً انکار کردیا تھا؟۔
دم تحریر ان کی اکثریت اب بھی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی بسر کررہی ہے ،ان کی اوسط عمر سفید فام آسٹریلین سے اب بھی اوسطاً دس برس کم ہوتی ہے، اور بےروزگاری،منشیات،جرائم،شوگر، بلڈ پریشر،امراض گردہ ،ڈپریشن جیسے عارضے اور خودکشی ( جن کی شرح سب سے نوجوان نسل ،جن میں 8 اور دس دس سال کے بچے بھی شامل ہیں) کی شرح بھیانک حد تک بڑھی ہوئی ہے۔انسانی حقوق اورنسلی مساوات کی مکمل بحالی کےلئے آسٹریلیا کو رینگ رینگ کر نہیں بلکہ سرعت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ پلوں کے نیچے پہلے ہی بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔
