اردواردو ادبشاعری

داغ دہلوی

Share your Love

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

دل لے کے مفت کہتے ہیں کہ کام کا نہیں

اُلٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا

دیکھا ہے بُت کدے میں جو اے شیخ، کچھ نہ پوچھ

ایمان کی تویہ ہے کہ ایمان تو گیا

افشائے رازِعشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا

گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا، پر ہزار شکر

مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا

بزمِ عدو میں صورت پروانہ دل میرا

گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا

ہوش و ہواس و تاب و تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *