کبھی کوئی شخص جبراً مسلمان نہیں بنایا گیا
اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے صحابہ کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے تھیں تو تاریخ سے ہمیں ایسے لوگوں کی مثالیں نظر آنی چاہئیں جو بزور مسلمان بنائے گئے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ہزاروں مسلمانوں اور کافروں کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں کوئی ایک مثال تو ایسے شخص کی ملنی چاہئے جسے تلوار کے زور سے مسلمان بنایا گیا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی جبری تبلیغ کی نظر نہیں آتی۔ ہاں دوسری طرف ایسی مثالیں تاریخ سے ثابت ہیں کہ عین لڑائی کے دوران میں کسی مشرک نے اسلام کا اظہار کیا، لیکن مسلمانوں نے اس خیال سے کہ یہ شخص ڈر کر اسلام کا اعلان کررہا ہے اور اس کے اسلام کے اظہار کے ساتھ دل کی تصدیق شامل نہیں ہے اس کے اسلام کو اسلام نہیں سمجھا اور اسے تلوار کی گھاٹ اُتار دیا؛ چنانچہ تاریخ سے ثابٹ ہے کہ ایک لڑائی کے دوران میں کسی مشرک نے اسلام کا اظہار کیا، لیکن مسلمانوں نے اس خیال سے کہ یہ شخص ڈر کر اسلام کا اعلان کررہا ہے اور اس کے اسلام کے اظہار کے ساتھ دل کی تصدیق شامل نہیں ہے اس کے اسلام کو اسلام نہیں سمجھا اور اسے تلوار کے گھاٹ اُتار دیا؛ چنانچہ تاریخ سے ثابٹ ہے کہ ایک لڑائی میں اسامہ بن زید جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے صاحبزادے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھے ایک کافر کے سامنے ہوئے جب اس کافر نے دیکھا کہ اسامہ نے اس پر غلبہ پالیا ہے تو کہنے لگا میں مسلمان ہوتا ہوں، لیکن اسامہ نے اس کی پرواہ نہ کی اور اپنا نیزہ چلا دیا۔ جب لڑائی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعہ کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب وہ شخص اسلام کا اظہار کرتا تھا تو تم نے اسے کیوں مارا؟ اسامہ نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ ڈر کے مارے ایسا کہتا تھا اور دل میں مسلمان نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا لیا تھا؟‘‘ یعنی بالکل ممکن ہے کہ اسی وقت اس پر اسلام کی صداقت کھل گئی ہو اور وہ دل سے مسلمان ہوگیا ہو۔ مثلاً ایسا ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کا یہ معیار رکھا ہوکہ اگر میں لڑائی میں غالب ہوگیا تو ثابت ہوگا کہ خدا ایک ہے۔ بہرحال اس کا میدانِ جنگ میں مسلمان ہونا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں تھا کہ وہ ڈر کر مسلمان ہوتا ہے۔ پس جب اس بات کا امکان تھا کہ وہ دل سے مسلمان ہوتا ہے تو اسامہ کو اپنا ہاتھ روک لینا چاہئے تھا اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے اور اسامہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا اور اب اس کے بعد مسلمان ہوتا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناراضگی میرے حصہ میں نہ آتی۔(مسلم کتاب الایمان)
پھر تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ اگر کسی وجہ سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے متعلق یہ علم ہوگیا ہے کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ محض ڈر یا طمع کی وجہ سے ایسا کررہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اسلام قبول نہیں فرمایا۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ایک روایت آتی ہے کہ کسی لڑائی میں صحابہ نے ایک ایسے کافر کو قید کیا جو بنوثقیف کے حلیفوں میں سے تھا۔ جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اس قیدی کے پاس سے گزرے تو اس نے قید سے رہائی پانے کے خیال سے کہا کہ ’’اے محمد مجھے کیوں قید میں رکھا جاتا ہے میں تو مسلمان ہوتا ہوں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا اگر تم اس حالت سے پہلے اسلام لاتے تو خدا کے حضور یہ اسلام مقبول ہوتا اورتم نجات پا جاتے مگر اب نہیں۔ اس کے بعد آپﷺ نے اس کے بدلے میں دو مسلمان قیدی بنوثقيف سے چھڑوا لئے اوراسے کفار کو واپس کر دیا۔ (مسلم بحوالہ مشکوٰۃ باب حکم الا سراء) الغرض تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ صحابہ نے کسی شخص کو تلوار سے ڈرا کر مسلمان بنایا ہو بلکہ جو مثال ملتی ہے اس کے خلاف ملتی ہے اور یہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبرا مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں۔
اس جگہ اگر یہ شُبہ پیدا ہو کہ لڑائی میں کسی کافر کی طرف سے اسلام کے اظہار پر اسے چھوڑ دینا یہ بھی تو ایک رنگ کا جبر ہے تو یہ ایک جہالت کا اعتراض ہوگا۔ وجہ مخاصمت دور ہوجانے پر لڑائی سے ہاتھ کھینچ لینا حسن اخلاق اور احسان ہے نہ کہ جبروظلم ۔ کفار عرب کے خلاف آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا جنگ کرنا صرف اس بناء پرتھا کہ انہوں نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اسلام کی پر امن تبلیغ کو بزور روکنا چاہتے تھے اور اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم ملک میں امن اور مذہبی آزادی قائم کرنا چاہتے تھے۔ اب اگر کوئی شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اسے گھر میں بیٹھے ہوئے اسلام پرشرح صدر پیدا ہوتا ہے یا میدان جنگ میں ۔ جب بھی وہ اسلام کا اظہار کرے گا تو اس کے اس اظہار کے کم از کم یہ معنے ضرور ہوں گے کہ اب اس کی طرف سے وہ خطرہ دور ہو گیا ہے جن کی بناء پر یہ جنگ ہورہی تھی تو اس صورت میں لازماً اس کے خلاف کارروائی بند کر دی جاوے گی۔ در حقیقت جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا جنگ کی ابتداء تو کفار کی طرف سے تھی ۔ پس جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھاتو طبعاً اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ اب وہ جنگ کو ترک کرکے حل کی طرف مائل ہوتا ہے۔ پس اس کے خلاف لڑائی روک دی جاتی تھی۔ یہی مفہوم آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُمِرْتُ أَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوْا لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ۔ (مسلم کتاب الایمان) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کفارسے جنگ کروں جو اسلام کے خلاف میدان جنگ میں نکلے ہیں سوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہوجائیں، مگر غلطی سے بعض لوگوں نے اس حدیث کے معنے یہ سمجھ لئے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے تمام کافروں کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ حالانکہ یہ معنے قرآنی تعلیم اور تاریخی واقعات کے صریح خلاف ہیں اور یہ ایک سراسر خلاف دیانت فعل ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول کے وہ معنے چھوڑ کر جو قرآن و تاریخ کے مطابق ہیں اورلغت عرب کی رو سے بھی ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتاو ہ معنے کئے جاویں جو واضح قرآنی تعلیم اور صریح تاریخی واقعات کے بالکل خلاف ہیں ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ جن کفار نے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائی ہے اور ملک میں نقضِ امن کا موجب ہورہے ہیں مجھے ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور ان کی طرف سے یہ خطرہ جاتا رہے تو مجھے لڑائی بند کر دینے کا حکم ہے۔ گویا مراد یہ ہے کہ مجھے ان کفار کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ یا تو جنگ کا طبی نتیجہ ظاہر ہوجاوے لیکن یہ لوگ جو اسلام کے خلاف اُٹھے ہوئے ہیں مفتوح ہو جا ئیں اور جنگ کا خاتمہ ہو جاوے اور یا وہ اسلام کی صداقت کے قائل ہو کر مسلمان ہو جائیں اور ان کی طرف سے امن شکنی کا کوئی اندیشہ نہ ہے۔ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ صرف اسلام کے اظہار پر ہی لڑائی بند نہیں ہوتی تھی بلکہ اگر کوئی قبیلہ مسلمانوں کے خلاف جنگ ترک کر دیتا تھا اور مسلمانوں کی سیاسی حکومت کو قبول کر لیتا تھا تو خواہ وہ کفروشرک پر بھی قائم رہتاتھا اس کے خلاف بھی جنگ کی کارروائی روک دی جاتی تھی۔ چنانچہ اس کی بہت سی مثالیں تاریخ میں مذکور ہیں جو اپنے موقع پر بیان ہوں گی ۔ الغرض اسلام کے اظہار پر لڑ ائی بند کر دینے کے علم کا قطعاً کوئی تعلق جبر سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک حسنِ سیاست کا فعل ہے جو ہر عقل مند کے نزدیک قابل تعریف سمجھا جانا چاہئے۔ یہ تشریح جواس حدیث بیان کی گئی ہے یہ محض عقلی تشریح نہیں بلکہ خود قرآن کریم کمال صراحت کے ساتھ اس تعلیم کو پیش کرتا ہے کہ اگر کفار اپنے مظالم سے باز آجائیں اور ملک میں فساد اور امن شکنی کا موجب نہ بنیں تو اس صورت میں مسلمانوں کو ان کے خلاف فوراً کا رروائی روک دینی چاہئے۔ چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ۔
یعنی اے مسلمانو! تم جنگ کروان کفار سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور ہر شخص اپنے خدا کے لئے نہ کسی ڈراور تشدد کی وجہ سے) جود ین بھی چاہے رکھ سکے اور اگر یہ کفار اپنے غلاموں سے باز آجائیں تو تم بھی رُک جاؤ کیونکہ تمہیں ظالموں کے سوا کسی کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ
ترجمہ:
’’یعنی یہ جو الله تعالی فرماتا ہے کہ لڑو ان کفار سے جوتم سے لڑتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اس کے متعلق ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم نے اس الٰہی حکم کی تعمیل یوں کی کہ جبکہ رسول اللہ کے زمانہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور جو شخص اسلام لاتا تھا اسے کفار کی طرف سے دین کے راستے میں رکھ دیا جاتا تھا اور بعض کوقتل کردیا جاتا تھا اور بعض کو قید کردیا جاتا تھا۔ پس ہم نے جنگ کیا اس وقت تک کہ مسلمانوں کی تعداد اور طاقت زیادہ ہوگئی اور نومسلموں کے لئے فتنہ نہ رہا۔ ‘‘
اس واضح اور بیّن آیت اور اس واضح اور بیّن حدیث کے ہوتے ہوئے ذومعنیین حدیث سے جبری اشاعت کی تعلیم ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہرگز دیانت داری کافعل نہیں سمجھا جاسکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں یہ ہے کہ آپﷺ ہمیشہ صلح کے خواہشمند رہتے تھے۔ اور آپﷺ کی یہ انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح یہ لڑائیاں بند ہوجاویں اور ملک میں امن و امان کی صورت پیدا ہو۔ دیکھیں حدیبیہ میں کوئی کُشت و خون نہیں ہوا اور بظاہر مسلمانوں کو دب کر صلح کرنی پڑی۔ لیکن ان کے جہاد کا مقصد حاصل ہوگیا یعنی جنگ رُک گئی اور ملک میں امن قائم ہوگیا پس حقیقی فتح صلح حدیبیہ ہی تھی اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کا نام فتح مبین رکھا اور یہ ایک نہایت زبردست ثبوت اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کی لڑائیاں دفاع یا قیامِ امن کے لئے تھیں نہ کہ اسلام کو بزور پھیلانے کی غرض سے۔
(سیرت خاتم النبیین صفحہ 291 تا 294)
