اردوقومی

احترام انسانیت

Share your Love

تحریر:  ابن قدسیؔ

مُردوں کا احترام کرو کیونکہ ہرجان نے مُردہ ہونا ہے

خدا تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں سے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے ۔اگر یوں کہا جائے کہ تمام دیگرمخلوقات کو انسانوں کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے تو یہ بات غلط نہیں ہوگی ۔اعلیٰ ہونے کے باوجود دوسرے جانداروں کی طرح انسانوں کو بھی فنا کے قانون سے بالا نہیں رکھا جو وجود دنیا میں آیا ہے اس کی دنیاوی زندگی کو فنا مقدر ہے ۔اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔دنیا میں ایک وجود آتا ہے اپنی مقررہ زندگی کو گزارتا ہے اور یہاں سے رخصت ہوجاتا ہے ۔اس کا آنا باعث مسرت ہوتا ہے تو جانا اپنوں کورنجیدہ اور افسردہ کر دیتا ہے ۔جب کوئی وجود اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو معاشرتی طو ر پر فرض ہے اس کو ایک احترام دیا جائے ۔اس کے لئے مختلف مذاہب نے مختلف طریقہ ہائے احترام کی ہدایات دی ہیں لیکن احترام کا سب سے بہتر طبعی اور الہامی طریق وہ ہے جسے اسلام نے اپنایا اور فوت شدہ انسانوں کے جسد کو زمین میں دفنانے کی ہدایت دی۔ مردہ کو دفنانے کی یہ قدیم رسم اور وہ پہلی انسانی سوچ ہے جو تمثیلی زبان میں آدم کے دو بیٹوں کے واقعہ کی صورت میں انسانی علم کا حصہ بنی۔ آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو جس کی قربانی مقبول ہوئی تھی اور اس کی محنت عمدہ پھل لائی تھی محض حسد کے ہاتھوں مغلوب ہوکر قتل کردیا تو جلد بعد وہ نادم ہوا اور اسے فکر دامنگیر ہوئی کہ وہ اپنے مقتول بھائی کی نعش کا کیا کرے اس پر اسے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کی نعش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کیا ہے۔ اس پر اسے بھی یہ ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے بھائی کی نعش کو زمین میں دفن کیا۔بھائی کو قتل کرنے جیسا قبیح فعل کرنے کے باوجود بھائی کو قبر میں دفن کیا گویا بے شک وہ جانوروں سے بدتر ہوگیا ۔خدا تعالیٰ نے ایک پرندہ کے ذریعہ اسے یہ خلق سکھایا کہ تم اپنے بھائی کو دفن کرنا ہے ۔پھر بھی مردے کو احترام لازماً دینا ہے ۔یہی وجہ سے ہر مذہب ،ہر تہذیب میں مردوں کا ادب واحترام پایا جاتا ہے ۔تدفین کے طریق کار میں فرق بلکہ اختلاف تک ہوسکتا ہے مگر کسی معاشرہ میں یہ بات نہیں پائی جاتی ہے کہ ہم اپنے مردوں کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ ہر ایک اپنی سوچ کے مطابق انہیں پورا اعزازدیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے احترام میت کے معاملے کو مذہب سے بالا ہو کر صرف انسانیت کے پیمانے پر رکھا ہے ۔

حدیثوں میں ذکر ہے کہ:  * مر علی رسول اللّٰہ ﷺ بجنازۃٍ فقام فقیل لہ انہ یھودی فقال ألیست نفساً ۔

(سنن نسائی۔ کتاب الجنائز باب القیام الجنازۃ اھل الشرک)

کہ ایک دفعہ حضور ﷺتشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ آپﷺ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا، انسان تو ہے۔

گویا انسانیت کا احترام آپﷺ کو اس حد تک تھا کہ آپﷺ کسی جنازے کے احترام کے لئے بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔

*    جنگ احزاب میں ایک کافر سردار خندق میں گر کر ہلاک ہوگیا اور نعش پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ کفار نے پیشکش کی کہ دس ہزار درھم لے لیں اور یہ نعش ان کے حوالے کردی جائے۔ آپﷺ نے فرمایا ہم مردہ فروش نہیں ، ہم اس کی دیت نہیں لیں گے اور پھر بلامعاوضہ اس نعش کو واپس کردیا۔ (شرح الامام العلامہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی المالکی علی المواھب اللدنیۃ للعلامۃ القسطلانی۔ الجزء الثانی صفحہ۱۱۴ ، الطبعۃ الاولیٰ بالمطبعۃ الازھریۃ المصریۃ) (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، الجزء الثالث صفحہ ۱۵۵، دارالجیل بیروت لبنان)

* اسی طرح حضور ﷺ کا یہ طرز عمل تھا کہ اگر میدانِ جنگ میں یا اس قسم کے حالات میں آپﷺ کو کوئی نعش پڑی ملتی تو آپﷺ اس کی تدفین کا حکم دیتے اور اسے اپنی نگرانی میں دفن کراتے اور یہ نہ پوچھتے کہ یہ مومن کی نعش ہے یا کافر کی۔

(السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر۱۹۳۵ ء )

*    جنگ بدر میں اور جنگ احد میں آپﷺ نے کفار کی نعشوں کی تدفین کروائی اور ایک ہی میدان میں مسلمانوں اور کافروں کی تدفین ہوئی، وقت کی تنگی کی وجہ سے جس طرح کئی مسلمان شہداء کو ایک ہی قبر میں دفن کروایا گیا اسی طرح کفار کی نعشوں کو بھی ایک ہی جگہ دفن کروایا۔

(السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر ۱۹۳۵ء )

*    حضورﷺ کا حکم تھا کہ کسی مخالف کی نعش کا مثلہ نہ کیا جائے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو وحشت مذہب سے دور لوگوں میں پائی جاتی ہے آنحضورﷺ مسلمانوں میں اس کو مٹانا چاہتے تھے۔ اور سب کو تہذیب کے دائرہ میں رکھنا آپﷺ کا منصب خاص تھا۔

اسی طرح بنو قریظہ کو جب ان کی سرکشی کی سزا دی گئی تو ان کی نعشوں کو خندقیں کھدوا کر دفن کیا گیا۔  (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، الجزء الثالث صفحہ۱۵۶ ، دارالجیل بیروت لبنان)

*   آنحضرت ﷺنے اپنے چچا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ابو طالب کی وفات پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے والد کی تجہیز و تکفین کریں اور غسل دیں پھر ان کو دفنائیں ۔

(السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر۱۹۳۵ ء )

احترام میت کے بارے میں جو اسلامی تعلیم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:

لا تسبوا لأموات فانّھم قد افضوا الی ما قدموا (المستدرک۔ کتاب الجنائز باب النہی عن سب المیت)

تم وفات یافتہ لوگوں کو برا بھلا نہ کہو۔ ان سے برا سلوک نہ کرو کیونکہ وہ اپنے خدا کے حضورپہنچ چکے ہیں۔

خدا تعالیٰ جیسا چاہے گا ان سے سلوک کرے گا، تمہارے برا بھلا کہنے سے ان کا کچھ نہ بگڑے گا، تم صرف اپنی زبان ہی گندی کروگے۔

* اسی طرح حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ:

لعن رسول اللہ ﷺالمختفی والمختفیۃ یعنی نباش القبور

(موطا امام مالک ، جنائز،باب ما جاء فی الاختفاء وھوالنبش)

حضورﷺنے قبروں کو بد نیتی اور بے حرمتی کے طور پر اکھیڑنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔

*    اسی طرح ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی مردے کی قبر بد نیتی سے اکھیڑتا ہے تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے کیونکہ وہ ایک میت کے گھر میں داخل ہوا ہے۔(ابوداؤد کتاب الحدود باب فی قطع النباش)

*   فقہاء نے بھی وضاحت کی ہے کہ مردوں کی بے حرمتی نہ کی جائے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب بحرالرائق میں لکھا ہے کہ:

اگر قبر ننگی ہو جائے اور اس میں یہودی کی ہڈیاں نظر آ جائیں تو ان کی بے حرمتی نہ کی جائے کیونکہ ان ہڈیوں کی حرمت بھی وہی ہے جو مسلمانوں کی ہڈیوں کی ہے۔ نیز جب زندگی میں ان سے ظالمانہ سلوک کرنا اور ان کی بے حرمتی کرنا منع ہے تو ان کی وفات کے بعد بطریق اولی یہ ممانعت قائم ہے۔

(البحرالرائق شرح کنزالدقائق۔ الشیخ زین الدین الشھیر بابن نجیم الجزء الثانی صفحہ۱۹۵ ۔ طبع فی المطبعۃ العربیۃ۔ لاہور)

*   اسی طرح بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ:

توہین کی غرض سے قبر اکھیڑنا حرام ہے۔

(البحرالرائق شرح کنزالدقائق۔ الشیخ زین الدین الشھیر بابن نجیم الجزء الثانی صفحہ۱۹۵ ۔ طبع فی المطبعۃ العربیۃ۔ لاہور)

احترام میت کے حوالے سے اس واضح تعلیم کی وجہ سے ابتدائے اسلام سے ہی میت کے معاملے میں کوئی لڑائی جھگڑا نظر نہیں آتا ۔ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کی اکٹھا قبرستان ہوتا تھا ۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کی تدفین اس قبرستان میں ہوئی جو مکہ کا پرانا حضورﷺ کا خاندانی قبرستان تھا اور اس میں مکہ کے وہ لوگ بھی دفن ہوا کرتے تھے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہی جگہ بعد میں جنت المعلی کہلائی۔

الرحلۃ الحجازیۃ کے مصنف محمد اللبیب ، مکہ کی تاریخ لکھتے ہوئے رقمطراز ہیں:

جنت المعلی مکی قبرستان ہے۔ اس میں حضرت خدیجہؓ کا مزار مبارک ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی قبر کے پاس ہی مکہ کے سولہ سرداروں کی قبریں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجہؓ کی قبر کے پاس حضورﷺ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کا مزار بھی ہے۔ قریب ہی ابوطالب کا مزار ہے۔(الرحلۃ الحجازیہ صفحہ۵۵،۵۶ )

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک یہودیہ فوت ہوئی تو حضرت عمرؓ کی اجازت سے اس کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں ہوئی۔ (السنن الکبریٰ، کتاب الجنائز باب النصرانیۃ تموت وفی بطہنا و نومسلم)

خلافت عباسیہ کے دور میں جب بغداد کی بنیاد رکھی گئی تو وہاں ایک پرانا مجوسیوں کا قبرستان تھا۔ اسی قبرستان میں مسلمانوں کی تدفین بھی ہوا کرتی تھی اور پہلی مسلمان خاتون جس کی اس قبرستان میں تدفین ہوئی وہ بانوقۃ تھی۔ نیز اس قبرستان میں بعد میں بڑے بڑے بزرگ مثلاً حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام محمد بن اسحاقؒ ، حسن بن زید، ہشام بن عروہ اور خیزدان دفن ہوئے۔ اس طرح بعد میں یہ مسلمانوں کا قبرستان بن گیا۔(تاریخ بغداد اَو مدینۃ السلام۔ حافظ ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی۔ الجزء الاول۔ صفحہ ۱۲۵۔ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

انگلستان اور یورپ میں جو مسلمان فوت ہوتے ہیں بالعموم ان کی تدفین ایسے ہی قبرستان میں ہوتی ہے جن میں عیسائی بھی دفن ہوتے ہیں۔ اس پر نہ کبھی عیسائیوں نے اعتراض کیا اور نہ مسلمانوں نے۔

مُردوں کی بے حرمتی کی تاریخ

اسلام اس اعلیٰ اور ارفع تعلیم کے باوجود ہمیں ایسی تاریخ مل جاتی ہے جہاں مسلمانوں اس پیاری تعلیم کو بالاطاق رکھ کر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے میتیوں کی بے حرمتی کو روا رکھا ۔وحشت اور بربریت کے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ انسانی عقل سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ کون سی اانسانیت ہے ۔قبروں ،مُردوں اور نعشوں کی بے حرمتی کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیںکہ کل کو ان کا وجود بھی مُردوں میں شامل ہوگا ۔اس وقت وہ خود اپنی حالت سے بے خبر ہونگے تو کہیں ایسا نہ کہ ان کے ساتھ بھی کوئی وہی سلوک نہ ہو جو آج وہ ان مُردوں سے روا رکھ رہے ہیں ۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش مبارک کی بے حرمتی

وحشت اور بربریت کا پہلا واقعہ جو تاریخ نے محفوظ کیا ہے وہ شہید مظلوم حضرت عثمانؓ کی نعش کی بے حرمتی کا ہے جو جاہل اور غصے سے بے قابو ہونے والے مصر اور دوسرے علاقوں کے جتھوں میں شامل نو مسلموں کی طرف سے وقوع پذیر ہوئی۔ روایات میں آتا ہے:

نبذ عثمان رضی اللہ عنہ     ثلاثۃ   أیام لا یدفن؛          ثم ان حکم بن حزام القرشی ثم أحد  بنی أسد بن عبدالعزی، و جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف،کلما علیاً فی دفنہ، وطلبا الیہ أن یأذن لأھلہ فی ذالک، ففعل، و أذن لھم علی، فلما سمع بذلک قعدوا لہ فی الطریق بالحجارۃ، و خرج بہ ناس یسیر من أھلہ؛ و ھم یریدون بہ حائطاً بالمدینۃ، یقال لہ: حش کوکب، کانت الیھود تدفن فیہ موتاھم؛ فلما خرج بہ علی الناس رجموا سریرہ، و ھموا بطرحہ، فبلغ ذالک علیا، فأرسل الیھم یعزم علیھم لیکفن عنہ، ففعلوا، فانطلق حتی دفن رضی اللہ عنہ فی حش کوکب؛ فلما ظھر معاویۃ بن أبی سفیان علی الناس أمر بہدم ذالک الحائط حتی أفضی بہ الی البقیع؛ فأمر الناس أن یدفنوا موتاھم حول قبرہ حتی اتصل ذالک بمقابر المسلمین۔

(تاریخ الامم والملوک للطبری،  الجزء الثانی صفحہ ۶۸۷،  دارالکتب العلمیہ   بیروت لبنان)

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو تین دن تک شرپسندوں نے دفن کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ آخر تین دن کے بعد مدینہ کے کچھ با اثر لوگوں نے جن میں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفنانے کے بارے میں بات چیت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی اس میں مدد کے لئے کہیں۔ جب شرپسندوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ راستہ میں پتھر لے کر بیٹھ گئے اور جنازہ گزرنے پر اس پر پتھراؤ کیا۔ مدینہ میں ایک احاطہ تھا جس کا نام حش کوکب تھا اور یہودی اس میں دفن ہوتے تھے۔ چونکہ جنت البقیع میں شرپسند حضرت عثمانؓ کے جسد مبارک کو دفن نہیں ہونے دیتے تھے اس لئے آپ کی نعش کو حش کوکب میں دفنانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اور رات کے وقت آپ کی تدفین کی گئی۔ یہ احاطہ جنت البقیع سے کچھ فاصلے پر تھا۔ جب امیر معاویہ خلیفہ بنے تو انہوں نے احاطہ کی دیوار گرانے کا حکم دیا اور لوگوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے مردوں کو اس خالی جگہ میں دفن کریں تاکہ یہ جگہ مسلمانوں کے قبرستان یعنی جنت البقیع میں شامل ہو جائے۔

نعشوں کی بے حرمتی کے دیگر واقعات

اس کے بعد شہید مظلوم حضرت امام حسینؓ کی نعش مبارک کی بے حرمتی کا واقعہ آتا ہے۔ ان کا سرِ مبارک کاٹ کر یزید کے دربار میں پیش کیا گیا اور باقی جسم مبارک کربلا میں ہی رہا۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی تدفین قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب ہوئی۔ عیسائیوں نے آپؓ کے مزار کی بے حرمتی کا ارادہ کیا تو بنو امیہ کے خلیفہ نے ان کو دھمکی دی کہ اگر تم نے ہمارے صحابیؓ کی قبر کی بے حرمتی کی تو ہم اس کا سختی سے انتقام لیں گے۔ اس ڈر سے وہ اس کام سے رک گئے۔

(أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ۔ ابن الأثیر۔ المجلد الخامس صفحہ۱۴۳۔ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان)

پھر جب عباسی دور آیا تو عباسیوں کے پہلے خلیفہ ابوالعباس سفاح نے اموی خلفاء کی قبروں کو اکھیڑا اور ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی۔ ہشام بن عبدالملک جس کی نعش صحیح و سالم تھی اس کو نکلوایا۔ پہلے اس کو کوڑے لگوائے پھر سولی پر لٹکایا پھر اس کو جلادیا۔

(الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، المجلد الخامس۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

سپین میں عیسائیوں نے غلبہ پانے کے بعد مسلمانوں کے قبرستانوں کی سخت بے حرمتی کی۔ اسی طرح یہودیوں کے قبرستانوں کو بھی نہ بخشا گیا۔

تاریخی واقعہ ہے کہ بعض عناصر نے سازش کرتے ہوئے یہ کوشش کی کہ حضور ﷺ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کی جائے لیکن اس زمانہ کے مشہور مسلمان بادشاہ نورالدین زنگی کو خواب میں بتایا گیا کہ کچھ بدبخت حضورﷺکے مزار مبارک کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس عادل بادشاہ نے مدینہ میں آکر خواب کی تعبیر کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ دو عیسائی روضۂ مبارک سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر ہیں اور وہ سرنگ لگاکر حضورﷺ کے جسد مبارک کی بے حرمتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان عیسائیوں کو حسب جرم سزا دی گئی اور پھر حضورﷺ کے مزار مبارک کے اردگرد تانبا اور سیسہ پگھلا کر ایسا پختہ انتظام کر دیا گیا کہ آئندہ کوئی بدبخت آپﷺ کے مزار مبارک تک نہ پہنچ سکے۔

(وفاء الوفا بأخبار دارالمصطفیﷺ۔ تالیف نورالدین علی الشافعی السمہودی۔ الجزء الاول صفحہ۴۶۶۔ بمطبعۃ الآداب والمؤید بمصر)

مشہور سکھ لیڈر بندہ بیراگی نے سرہند شریف کے قبرستانوں کی بے حرمتی کی ، قبریں کھول کر نعشیں نکالیں ان سے وحشیانہ سلوک کیا اور ہڈیوں کو نذر آتش کردیا۔ (سکھ مسلم تاریخ حقیقت کے آئینے میں صفحہ۱۵۷۔ از ابوالامان امرتسری)

انگریزوں کا جب سوڈان پر تسلط ہوا تو انہوں نے مہدی سوڈانی کی نعش کو قبر سے نکالا، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور دریا میں بہا دیا اس طرح دوسرے مسلمانوں کی نعشوں کی بھی بے حرمتی کی۔

(آئمہ تلبیس یا غارتگرانِ ایمان مؤلفہ ابوالقاسم رفیق ذلاوری صفحہ۴۵۳۔ مطبعہ گیلانی الیکٹرک پریس لاہور۔ جنوری۱۹۳۷ ء )

انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو لاہور میں مسلمانوں کے کئی مقبروں کو نیلام کرادیا جنہیں گرا کر لوگوں نے مکانوں اور کوٹھیوں میں تبدیل کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ جو علاقے آج کل گوالمنڈی ، ہال روڈ اور انارکلی کہلاتے ہیں یہ کسی زمانہ میں قبرستان تھے اور پھر ان کو ہموار کرکے یہاں آبادی بسائی گئی۔

غرض اسلام ہمارے سامنے احترام آدمیت کی جو تعلیم دیتا ہے اگر اس پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے میں موجود کئی قسم کی بے چینیوں سے بچا جاسکتا ہے ۔تاریخ واقعات کو محفوظ رکھتی ہے آئندہ آنے والی نسلوں تاریخ میں موجود ان واقعات کو پڑھ کر ایک طرف بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور دوسری طرف شرمندگی اور ندامت محسوس کرتی ہے ۔اس لیے مُردوں کا احترام قائم رکھا جائے کیونکہ ہر ایک نے مُردہ ہونا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں انسانیت کی اعلیٰ اقدار کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *