تحریر:  امجد خلیل عابد

زہر کا اثر تیز تھا جس نے آٹھ کے قریب لوگوں کو باآسانی زندگی کی سرحدپار کرادی- اس بہادر بہو کو شاباش دینی چاہیے- کتنے گھرانے ہیں جہاں رضامندی نہ ہونے کا زہر قطرہ قطرہ ڈس کر لوگوں کو روزمارتا اور زندہ کرتا ہے- یہ تو اچھا ہواکہ یکلخت موت نے آلیا-کتنے گھرانے ہیں جن میں شادی جیسے معاملہ کے لئے مذہب سے روشنی لی جاتی ہے- اول تو، لی ہی نہیں جاتی اور اگر لی بھی جاتی ہے تو من مرضی کی مفروضہ تشریح پہ عمل کیا جاتا ہے-اب من مرضی تشریح یہی ہوتی ہے کہ ہماری برادری ،قبیلہ، خاندان اور ذات۔۔ باقی تمام ذات برادریوں سے تقویٰ کے لحاظ سے افضل و برتر ہے ، اور تقویٰ کی بناء پہ افضلیت ہمارے مذہب نے بھی سکھائی ہے اس لیے کمتر افراد میں بیاہے جانا ناقابلِ قبول بلکہ گناہِ عظیم ٹھہرتا ہے- زیادہ تر معاملات میں قبیلہ برادری اور نسل و قومیت کے رواج اور رسوم کو مقدم رکھاجاتا ہے-میں چونکہ رانگڑ ہوں تو بہتر ہے اپنی مثال دوں بجائے دوسروں کے گھر میں جھانکنےکے- کھوج لگانا مشکل ہے کہ رانگڑ ہندو مذہب سے اسلام کی طرف کب آئے- البتہ آج بھی بیشتر گھرانوں میں وہی ہندوانہ رسوم کو ہی سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے- پھوپھی زاد، چچازاد بہن بھائیوں کی باہم شادی ایک لمبے عرصہ تک ایک خاموش پابندی کے سائے میں رہی ہے- کیونکہ ہندو مذہب میں پھوپھی اور چچازاد بہنیں سگی بہن ہی ہیں اور ان کےساتھ شادی نہیں ہوسکتی-کزن میرج پہ میڈیکل سائنسز کے اندیشے ایک بالکل الگ چیز ہے-شادی بیاہ کے معاملے میں ویسے بھی کسی طرح کی جدید سائنس کی تحقیقات کو نظامِ کائنات میں کسی خلل سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔

ایک انتہائی منفی سوچ اور رواج یہ بھی ہے کہ ایک رانگڑ کبھی غیر رانگڑ سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا- گنتی کی چند مثالیں استثنائی ہیں، عمومی رجحان کی نفی نہیں کرتیں- اس لیے بھی نہیں کرتیں کیونکہ رانگڑ ذات سے باہر شادی کرلینےوالوں کو رانگڑوں کی اکثریت اچھا نہیں سمجھتی- اب ایک رانگڑ مرد جب غیر رانگڑ میں شادی کرے گا اور جو بچے پیدا ہونگےوہ بچے گولےکہلائیں گے اور ان کےساتھ تقریباَ چھوت چھات والا رویہ رکھا جائے گا-اسی طرح کتنی ہی ذات برادریاں ہیں جن کو ہم جانتے ہیں جو اپنی برادری سے باہر نہیں جاتیں-ہماری والدہ کے ایک ماموں سے یہ جرم سرزد ہوا کہ پشاور میں ملازمت کے دوران ان کو پٹھان خاتون بھا گئیں اور انہوں نے زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد کرلیا- بہن بھائیوں نے ماموں کو صرف اتنی سی سزا دی کہ ان کو ان کے زمین کے حق سےنہ صرف محروم کردیا بلکہ عمر بھر کے لیےقطع تعلق بھی کرلیا- شنید ہے کہ انہوں نے زندگی کی آخری سانسیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو یادکرکے روتے ہوئے گزاریں- یہ ہے وہ رواج کا زہریلا دودھ جو انسان کی زندگی کو زہریلی لسی پلا کر ہی دم لیتا ہے،اور یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے، اور کونسا اسلام ہے یہ !!!!!!!-یہ حال تو برسرِروزگار خودمختار مرد کا کیا ہم نے، عورت ہوتی تو کیا ہوتا، یہ آپ کے سوچنے کا کام ٹھہرا- اسلام ہرگز ایسا نہیں سکھاتا- یہ ہربرداری،قبیلے قوم کا کوئی انوکھا خود ساختہ مذہب ہے-مذہب کے نام پہ مسلمانوں کے لیے یہ خطہِ ارضی حاصل کیا گیا مگر یہ سوچنا بھی گناہ ہوجاتا ہے کہ میں پنجابی یا رانگڑ ہوتے ہوئے اپنی بہن یابیٹی کا جب رشتہ تلاش کرنے نکلوں تو متوقع اچھے رشتوں کی فہرست میں کسی دوسرے قبیلے یا ذات برادری کو بھی شامل کرلوں- اسی بناء پہ مجھے یہ گمان بھی گزرتا ہے کہ ہم پاکستانیوں میں جو صوبائی اور نسلی تفریق عصبیت پائی جاتی ہے وہ بھی اسی رویے کا نتیجہ ہے- ایک صوبے کی رہنےوالی خاص برادری جب دوسرے صوبے کی خاص برادری سے شادی جیسا رشتے جوڑ لے گی تو پابند ہوجائےگی ان کے حقوق کا پہرا دینے اور احترام پہ کاربند ہونے کے لیے-تصور کیجئے کہ ایک خالص رانگڑ راجپوتنی اپنے ہی جیسے رانگڑ کیساتھ بیاہی جانا پسند نہیں کررہی، باہر جانا چاہتی ہے ،مگر گھر کے بڑےاس کی رضامندی کو ٹھوکر پہ رکھتے ہیں۔ برادری میں اپنی ناک بچالیتے ہیں اور زبردستی شادی وہاں کی جاتی ہےجہاں لڑکی نہیں چاہتی تو پھر نتائج ایسے ہی ہونگے جیسے مظفرگڑھ کی آسیہ کی زہریلی لسی کے نکلے- گھر والے اگر سمجھتے ہیں کہ جہاں لڑکی یا لڑکا شادی کرنا چاہتے ہیں وہ رشتہ بے جوڑ ہے یا اس کے لیے نقصان کا باعث بنے گا تو ایک حد تک تو سمجھانا چاہیے      مگر زبردستی کر کے خاتون کی رضامندی کو کچلنا سارے گھرانے کی میٹھی لسی کو زہریلا کرنا ہی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *