اردومذہب

درس القرآن

اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِ ۗ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔(سورۃ البقرۃ آیت: 6-7)

ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور یہی ہیں وہ جو فلاح پانے والے ہیں۔

(آیت نمبر7)یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (اس حال میں کہ) برابر ہے اُن پر خواہ تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر:

یہی لوگ (جن کا اُوپر ذکر ہوا) اپنے رب سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو مظفّرومنصور ہوں گے۔اس سے سابقہ آیات میں متّقی کی تعریف اور معنے بیان کرکے ا ب اللہ تعالیٰ نے بطور نتیجہ کے بتلادیا کہ متقیوں کے لئے اس کتاب سے ہدایت پر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ جب انسان ایمان بالغیب رکھ کر اور حقوقِ الٰہی اور حقوق العباد کو کماحقہٗ ادا کرکے اور خداتعالیٰ کے کلیم ہونے پر ایمان لاکر اپنے اعمال کے نتائج اور ثمرات پر کامل یقین رکھتا ہے تو ہر ایک حجاب دُور ہوکر اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور متقی کے ہدایت پر ہونے کی یہ ایک دلیل بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوجاویں تو پھر ان کی کامیابی ان کے راہِ راست پر ہونے کی دلیل ہے۔ دعوی کرکے دشمن پر ایک خاص غلبہ پانا ایک خاص نشان صداقت کا ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کی جماعت کو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ کس قدر احسان ہے اور کیسا شُکر کا مقام ہے کہ ہم لوگوں کو اب ان باتوں کو سماعی طور پر نہیں ماننا پڑتا بلکہ خدا کے کرم و فضل سے ایک عَلیٰ ھُدًی اور مفلح وجود ہمارے زمانہ میں موجود ہے اور عرصہ بائیس سال سے جو کامیابی وہ دشمنوں پر حاصل کررہا ہے وہ اس کے راہِ راست پر ہونے کی دلیل ہے اور یہی وہ منہاجِ نبوّت ہے جس کو دکھلاتا ہے اور کم بخت نادان دشمن نہیں دیکھتے۔ کامیابی یعنی امن، آرام اور سُکھ کی زندگی کے اسباب اور اس کے اصول اس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرما کر اب آگے مغضوب علیہم گروہ کے حالات بیان کئے ہیں۔

آیت نمبر 7 کی تفسیر:

یہ غضب کُفر سے پیدا ہوتا ہے۔ پس فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا جن لوگوں نے کُفر اختیار کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے بطور جُملہ مُعترضہ اِس کی وجہ بیان فرمائی۔ جملہ مُعترضہ مبتدا اور خبر کے درمیان میں کئی وجوہات سے آتا ہے۔ ایک وجہ بیان کرنے کے لئے ۔ چنانچہ یہاں اِسی لئے فرمایا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ کہ برابر ہو گیا ہے ان پر تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا یعنی وہ کافر تیرے اِنذار اور عدمِ اِنذار کو مساوی سمجھتے ہیں۔ جب کسی کی نصیحت کا عدم و وجود برابر سمجھ لیا گیا تو پھر کچھ پرواہ نہ رہی۔ اِس ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان نصیب نہیں ہوتا۔

تین مرضیں ہیں:

سب سے پہلے تو وہ جو بات کو سُنتا ہی نہیں۔ پہلے ہی سے انکار کر دیا۔ دوسرا وہ جس نے سُنا مگر اس کا سُننا نہ سُننے کے برابر ہے۔ تیسرا وہ جو نگاہ سے کام نہیں لیتا کہ نہ ماننے والوں کا کیا حَشر ہو رہا ہے۔ کوئی بات ہو اس کو غور سے سُن لینا پھر فِکر کرنا بہتر ہے کہ یہ میرے لئے برکت کا موجب ہے یا نقصان کا۔ پھر دیکھے کہ اس کے ماننے والے آرام میں ہیں یا نہیں اور اس کے نہ ماننے والوں کا انجام کیا ہو رہا ہے۔ بے شک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور تیرے اور تیرے اِنذار اور عدم اِنذار کو برابر جانا وہ مومن نہ بنیں گے۔ کَفَرُوْا یعنی اپنے اختیار سے کفر کیا۔ کفر کے معنی انکار، حق کو چُھپانا، ڈھانک دینا اور یہ سب باتیں انسانی اختیار میں ہیں۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 68)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *