اسلام کا حقیقی تصور جہاد
تحریر: ابن قدسی
موجود زمانے میں جب بھی کسی کے سامنے ’’جہاد ـ‘‘لفظ بولا یا پڑھا جاتا ہے تو عموماً ذہن میں ایک خاص حلیہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی دہشت اور خوف کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ لفظ اپنے ساتھ جہالت اور بے علمی لیے ہوئے ہے ۔اس لفظ کے استعمال سے خود کش حملہ آور نکل کر باہرآجائے گا نہ ہوا تو گولیوں کی آواز تو لازمی آئے گی ۔پھر جلی کٹی لاشیں ہونگی ، خون ہی خون ہو گااور اس کے ساتھ نعرہ تکبیر کی صدا بلند ہوگی ۔ـ’’جہاد‘‘کا یہ تصور فلموں اور ٹی وی سکرینوں پربھی نظر آتا تھا لیکن اب حقیقت میں اتنا دیکھا جا چکا ہے کہ فلمیں شاید پیچھے رہ گئیں ہیں ۔
’’جہاد‘‘کے اس تصور کا مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس تصویر میں رنگ بھرنے کے لیے دشمنوں اور دوستوں دونوں کا برابر کا حصہ ہے ۔دشمنوں نے اس تصویر کو بنا کر پیش کیا تو اس کے اپنوں نے اسی’’ جہاد‘‘ کا نام لے کر اس تصویر کے نقش ونگار کو واضح کیا جس سے’’جہاد‘‘کی وہ بھیانک تصویر مکمل ہوئی اور اسی سے اسلامی حقیقی تصور جہاد نفرت اور خوف کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کھو گیا ۔ جہاد کے متعلق بنائی گئی تصویر اور اپنوں کے رنگوں نے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کیا ۔اسلام کی ساری اچھائیاں دشمنوں کی نفرت اور اپنوں کی غلط محبت کے نیچے چھپ گئیں ۔اسلام کو ایسا نقصان پہنچا جو شاید پہلے کبھی نہیں پہنچا ۔کس کا قصور ہے ؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکلیں تو شاید کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔دشمن تو ہوتا ہی دشمنی اور سازشیں کرنے کے لیے لیکن اسلام کا نام لینے والوں نے جہاد کا نام لے کر غیروں کی گردنیں بھی کاٹیں اور اپنوں کا بھی خون بہایا ہے اور یہ سب کچھ نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ہوا ۔ اسلام کی سربلندی کا نام لے کر نیا م سے تلوار نکالی اور اسے استعمال کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ اسلام دشمن کی گردن ہے یا اسلام کا نام لینے والی کی بس تلوار گردنیں کاٹی چلی گئی ۔تلوارکبھی استعمال کرنے والے کی نیت نہیں دیکھتی ۔وہ نکلتی ہے کاٹنے کے لیے ۔بس جس میں مہارت اور طاقت ہوئی تلوار نے گردن کاٹ دینی ہے ۔بھیانک پہلو یہ ہے کہ جو تلوار نعرہ تکبیر سے بلند ہوکر کسی کلمہ گو کی گردن کاٹ دے تو پھر نہ نعرہ تکبیر معتبر رہتا ہے اور نہ کلمہ جائے امن ۔پھر ایسا خون بہتا ہے جسے دیکھ کر دشمن کی خوشی نادیدنی ہوتی ہے ۔ وہ اپنی فتح کے شادیانے بجاتے ہیں جو کام ان کی تلوار نے کرنا تھا وہ کام نعرہ تکبیر کی تلوار نے کر دیا ۔اسلام کی پندرہ صدیوں پر محیط تاریخ میں کئی ایسے مواقع موجود ہیں جہاں اسلام دشمن قوتوں نے خوشیوں کے شادیانے بجائے ۔افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ پندرہ صدیوں میں مسلمان دشمنوں نے مسلمانوں کا اتنا خون نہیں بہایا جتنا اسلام کا نام لے کر کلمہ پڑھنے والوں نے کلمہ پڑھنے والوں کا بہایا ۔
جہاد کے متعلق اسلامی تصور انتہائی معتبر اور متبرک تصور ہے جس پر حاشیہ برادروں نے اتنے حاشیہ چڑھا دیئے ہیں کہ حقیقی تصور نظر ہی نہیں آتا ۔سب سے پہلے جہاد کے لفظ کو ہی نہیں سمجھا گیا ۔
جہاد کے لغوی معنی:
جہاد۔ جہد سے مشتق ہے اور جہد کے معانی ہیں مشقت برداشت کرنا اور جہاد کے معنی ہیں کسی کام کے کرنے میں پوری طرح کوشش کرنا اور کسی قسم کی کمی نہ کرنا۔(تاج العروس)
مولاناسید سلیمان ندوی صاحب لکھتے ہیں:۔
’’جہاد کے معنی عموماً قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں۔ مگر مفہوم کی یہ تنگی قطعاً غلط ہے لغت میں اس کے معنی محنت اور کوشش کے ہیں‘‘
(سیرۃ النبی جلد۵ صفحہ ۲۱۰ طبع اول۔ دارالاشاعت کراچی نمبر۱)
کسی بھی کام کو اچھے طریق سے کرنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ۔بیٹھے بیٹھائے تو کامیابیاں نصیب نہیں ہوتیں ۔اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے ۔
جہاد فی سبیل اللہ :
اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا یعنی کوشش کرنا ۔یہ کوشش حقوق اللہ سے شروع ہوتی ہے اور حقوق العباد تک پھیل جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کی عبادت مکمل اور پورے تقاضوں کے ساتھ بجا لانے کوشش بہت وسیع ہے ۔پنج وقتا نماز کا التزام ہی اپنی ذات میں جہاد چاہتا ہے ۔پھر نفلی عبادات کی ادائیگی ،تہجد نفس کو زیر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کی طرف سفر میں سب سے بڑی روک انسانی نفس ہے ۔ہزارہا نفسانی خواہشات اللہ تعالیٰ کے قرب سے دور کرنے کے لیے سر اٹھاتی ہیں ۔ان کو دبانا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے زیر نگیں کرنا سب سے بڑا جہاد ہے ۔قدم قدم پر ایک امتحان ہوتا ہے ۔نفسانی خواہشات عارضی خوشی کو حقیقی خوشی کی صورت میں پیش کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔اس موقع پر سیدھے راستے پر رہنا ایک مجاہدہ چاہتا ہے کیونکہ نفس بار بار اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل پر اکساتا ہے ۔حقیقی مومن اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے ان تمام مراحل سے گزر کر اللہ کے حضور حاضر ہوجاتا ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی ہے یہ اپنی ذات میں بہت بڑا مجاہدہ ہے ۔
جہاد کے تصور کو حقیقی رنگ میں سمجھنے کے لیے حقیقی علماء اس کی چار اقسام بیان کرتے ہیں ۔
جہاد کی اقسام
قرآن اور حدیث سے جہاد کی چار بڑی اقسام ثابت ہوتی ہیں۔
۱۔ نفس اور شیطان کے خلاف جہاد
۲۔ جہاد بالقرآن یعنی دعوت و تبلیغ
۳۔جہاد بالمال
۴۔ جہاد بالسیف (دفاعی جنگ)
نفس اور شیطان کے خلاف جہاد
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔
وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:70)
ترجمہ: اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک غزوہ سے واپسی کے موقع پر فرمایا۔
’’تم جہاد اصغر یعنی چھوٹے جہاد سے لوٹ کر جہاد اکبر یعنی بڑے جہاد کی طرف آئے ہو (اور جہاد اکبر) بندہ کا اپنی خواہشات کے خلاف جہاد ہے‘‘۔
(کنز العمال۔ کتاب الجہاد فی الجہاد الاکبر من الاعمال جلد۴حدیث۱۱۲۶۰۔ مطبوعہ مکتبہ التراث الاسلامي حلب)
جہاد بالقرآن
اس جہاد سے مراد یہ ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی فکر کی جائے نیز توحید کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کی جائے اور قرآنی تعلیم کی نشر و اشاعت کی جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَلاَ تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَ جَاہِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا (الفرقان:۵۳)
ترجمہ:۔ پس تو کافروں کی بات نہ مان اور اس (یعنی قرآن کریم) کے ذریعہ سے ان سے جہاد کر۔
جہاد بالمال
اللہ تعالیٰ کی راہ میں دین کی اشاعت کے لئے مال خرچ کرنے کو بھی جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس جہاد کا حکم ان الفاظ میں آیا ہے
وَ جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (التوبہ:۴۱)
ترجمہ:۔ اور اپنے اموال اور جانوں کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔
جہاد بالسیف یا دفاعی جنگ
جہاد کی چوتھی قسم دفاعی جنگ یا جہاد بالسیف ہے یعنی جب دشمن دینی اقدار کو ختم کرنے اور دین کو تباہ و برباد کرنے کے لئے دین پر حملہ آور ہو تو اس وقت دفاعی جنگ کرنے کو جہاد بالسیف کہتے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے جہاد اصغر قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰـتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُ ـ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلاَّ ٓاَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ (الحج:۴۰۔۴۱)
ترجمہ: یعنی وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے (یہ وہ لوگ ہیں) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔
علماء نے دفاعی جنگ کی بعض شرائط بیان کی ہیں جن کی موجودگی کے بغیر یہ جہاد جائز نہیں۔ چنانچہ سید نذیر حسین صاحب دہلوی لکھتے ہیں:۔
’’جہاد کی کئی شرطیں ہیں جب تک وہ نہ پائی جائیں جہاد نہ ہوگا‘‘
(فتاویٰ نذیریہ جلد۳کتاب الامارۃ والجہاد صفحہ۲۸۲۔ناشر اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)
مولانا ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر اخبار زمیندار لاہور نے درج ذیل شرائط کا ذکر کیا ہے:۔
’’۱۔ امارت
۲۔ اسلامی نظام حکومت
۳۔ دشمنوں کی پیش قدمی و ابتدا‘‘(اخبار زمیندار ۱۴جون ۱۹۳۴ء)
خواجہ حسن نظامی نے جہاد کے لئے
۱۔ کفار کی مذہب میں مداخلت
۲۔امام عادل
۳۔ حرب و ضرب کے سامان کے ہونے کا ذکر کیا ہے۔رسالہ شیخ سنوسی)
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ :۔
۱۔مسلمانوں میں امام و خلیفہ وقت موجود ہو ۲۔ مسلمانوں میں ایسی جمیعت حاصل جماعت موجود ہو جس میں ان کو کسر شوکت اسلام کا خوف نہ ہو۔
(الاقتصاد فی مسائل الجہاد از مولوی محمد حسین بٹالوی صفحہ۵۱۔۵۲۔مطبع وکٹوریہ پریس)
خلاصہ یہ کہ علماء کے نزدیک جہاد بالسیف کے لئے پانچ شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے اور ان میں سے کسی ایک کے بھی نہ ہونے سے دینی قتال نہیں ہوسکتا اور وہ شرائط یہ ہیں کہ ۱۔امام وقت کا ہونا ۲۔اسلامی نظام حکومت ۳۔ ہتھیار و نفری جو مقابلہ کے لئے ضروری ہو ۴۔ کوئی ملک یا قطعہ ہو ۵۔دشمن کی پیش قدمی اور ابتداء۔
اب موجودہ زمانے میں جہاد کی باقی تینوں اقسام پر اتنا زور نہیں دیا جاتا جتنا جہاد بالسیف پر زور ہے ۔حالانکہ پہلی تینوں اقسام کا تعلق ہر ایک کے اپنے نفس کے ساتھ ہے اور یہ محنت اور کوشش کو چاہتا ہے اور ساری زندگی پر محیط ہے ۔نفسانی خواہشات کی تکمیل تو چاہتا ہے لیکن اسے خدا تعالیٰ کے احکامات کے تابع کرنے کی کوشش نہیں کرتا ۔مال تو انسان کو ویسے ہی بہت پیارا ہوتا ہے اسے اللہ کے راستے میں قربان کرنا بھی مشکل امر ہے ۔قرآن تعلیمات کی روشنی میں کوششیں بھی محنت کو چاہتی ہیں ۔تلوار سے تو دوسرے کی گردن کاٹنی ہے ۔ یہ کام نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے ۔نعرہ لگاؤ محبت رسول ﷺکا اور گردن دوسرے کی کاٹ دو ۔محبت رسولﷺ کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنی گردن نہیں جھکانی ۔بس اب یہی تصور ’’جہاد‘‘ باقی رہ گیا ہے ۔
کیا اب اس زمانے میں اسلام کے لیے تلوار اٹھانی چاہیے ؟
یہ بہت اہم سوال ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تلوار اٹھائی گئی ۔کیا اب وہ وجہ قائم ہے ؟کیا اب بھی جہاد بالسیف کا زمانہ ہے ؟جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانے میں اسلام کے لیے تلوار اٹھانی پڑی موجودہ زمانے میں اس طرح تلوار اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔یہ جملہ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ نہ کرنے والوں کے لیے ناقابل قبول ہو لیکن حقیقت تک پہنچنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے ورنہ جذبات اصل تعلیم تک پہنچنے نہیں دیں گے ۔
ابتدائی زمانے میں اسلام کے نام پر تلوار کیوں اٹھائی گئی ؟کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا ۔جس زمانے میں اسلام عرب میں آیا ۔وہاں قبائلی نظام تھا ۔اس زمانے کی جمہوریت یہی تھی کہ قبائل اپنی طاقت کے بل بوتے پر زندہ تھے ۔اپنی حفاظت بھی خودد ہی کرنی،۔انصاف لینا ہے تو خود ہی لینا ،ظلم کا بدلہ بھی لوگوں کے اپنے ذمہ تھا ۔یہی اس زمانے کا نظام تھا ۔کہہ سکتے ہیں اس زمانے کی جمہوری روایات ہی ایسی تھیں ۔اس کو کوئی نظام کے خلاف نہیں سمجھتا تھا بلکہ کمزور کے متعلق یہ خیال تھا کہ اسے جینے کا حق نہیں ۔اس پر جو مرضی ظلم کر لو وہ جائز ہے ۔اس زمانے کا نظام یا جمہوری روایات اسی طرح جاری تھیں ۔اگر اس زمانے میں اسلام تلوار ہاتھ میں لیتا تو اس کا زندہ رہنا ناممکن تھا ۔اس زمانے کا نظام اسلام کو تلوار اٹھانے کی پوری اجازت دیتا تھا حالانکہ تلوار اسلام کے مزاج میں داخل نہیں ۔اسلام تو ہے ہی امن وسلامتی کا نام لیکن اس زمانے میں مجبوراً تلوار اٹھانی پڑی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس زمانے کے جمہوری نظام نے اسلام کو تلوارکے استعمال پر مجبور کیا ۔اُس زمانے میں تلوار اٹھانے کو کوئی خلاف نظام تصور نہیں کرتا تھاکیونکہ اُس زمانے کی جمہوریت ہی ایسی تھی ۔
آج کے زمانے میں یہ سب ذمہ داریاں ہر ملک کی حکومت نے اٹھائی ہوئی ہیں۔انصاف کے لیے عدالتیں موجود ہیں ۔ظلم روکنے کے لیے پولیس یا دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں ۔موجودہ زمانے میں جمہوری روایات یہی ہیں کہ یہ سب کام حکومت کے ہیں ۔اب ہر شخص کو اپنے اوپرہونے والے ظلم کا خود بدلہ لینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ قانون کے دائرے میں رہ کر نظام عدل انصاف مہیا کرتا ہے ۔آج خود بدلہ لینا خلاف قانون ہے ۔
اب جہاد بالسیف اور تلوار کو جزوء ایمان کا تصور پیش کرنے والے مثال گزشتہ زمانے کی دیتے ہیں لیکن کبھی اس زمانے کے نظام پر بحث نہیں کرتے ۔رسو ل کریم ﷺ کے زمانے میں اپنے دفاع یا قیام امن کے لیے تلوار اٹھانا خلاف قانون نہیں تھا لیکن موجودہ زمانے میں کسی نظام حکومت سے ہٹ کر اپنے طور پر تلوار اٹھانا خلاف قانون ہے ۔اسلام قانون پر عمل درآمد کی تعلیم دیتا ہے ۔
