قومی المیہ تعلیم حاصل کرنا یا جانور چرانا

تحریر: ابن قدسی
مایوسی اور پریشانی تعلیم کی اہمیت کھو دیتی ہے ۔کہتی ہیں کہ “میں مجبور ہوں مایوس اور پریشان بھی کہ اپنی تعلیمی اسناد ایک ایک کرکے عزت مآب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے نذر آتش کر دوں یا پھر احتجاجاً سپریم کورٹ کے سامنے تاکہ 23کروڑ عوام میں خواتین کو اتنا حوصلہ ملے کہ وہ اآئیں اپنے جوش اور ایمان کے ساتھ کسی کی بہن ،بیٹی یا بیوی یا ماں بن کر اپنے وقار اور تکریم کے ساتھ اس عظیم قوم کی خدمت اس پیشے میں رہتے ہوئے کر سکیں جس کی اب قدر نہیں رہی ۔”
جس ملک میں انصاف مہیا کرنے والے ادارہ کا یہ حال ہے تو باقی شعبہ جات کا اللہ ہی حافظ ہے ۔اگر وہاں منبر رسول پر بیٹھ کر دین کے علمبردار گالیاں نکالتے ہیں تو صرف ان کو کیسے قصور وار کہا جاسکتا ہے ۔جہاں بدزبانی کو علمیت اور بدعنوانی کو تہذیب سمجھا جائے تو وہاں کسی اچھائی کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے ۔صرف نعرہ لگانا ہے پھر جنازے اٹھانے کے لیے تیار ہوجائیں ۔جہاں اپنی کم علمی کی وجہ سے گارڈ بننے والا شخص اپنے بنک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مینجر کو نعرہ لگا کر مار دیتا ہے اور ہیرہ بن جاتا ہے وہاں علم اپنی اہمیت کھو دیتا ہے ۔شعور زمین کی اتاہ گہرائیوں میں دفن ہوجاتا ہے ۔ ہزاروں افراد ایک ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے کے لیے اکٹھے ہوجاتے ہیں جو نعرہ تو ناموس رسالت کا لگاتا رہا لیکن کسی کی ناموس کا اسے خیال نہیں تھا ۔اس کا رویہ اس طرح کا تھا کہ دنیا میں صرف اسے ناموس رسالت عزیز ہے باقی دنیا میں سارے گستاخ رسول پائے جاتے ہیں ۔جس نے منبر رسول کی توہین کی۔
داڑھی اور پگڑی کی ناموس کو خاک میں ملا دیا لیکن نعرہ ناموس رسالت کا تھا اور نعرہ معتبر تھا اس لیے کسی اور چیز پر غور نہیں کیا گیا ۔جس طرح کا معاشرہ بن گیا ہے اس سے اسی رویہ کی توقع تھی ۔ہزاروں کے مجمع نے معاشرے کی مجموعی سوچ کی عکاسی کر دی ۔اس معاشرہ کو علم وحکمت اور دانش مندی سے کوئی سروکار نہیں ۔ کھوکھلے نعرہ لگاؤ اور مال کماؤ۔خواہ ڈاکٹر مارو یا جج بس نعرے لگنے چاہیے ۔ انسانیت کی اس قدر تذلیل کی گئی کہ کسی کی جان لینا معمولی کام بن گیا ہے ۔کسی کے دروازے پر دستک دو۔اندر سے جو بھی نکلے اس پر گولی چلا دو ۔چلانے والا پندرہ سولہ کا نوجوان۔جسے علم وشعور کی مکمل آگاہی بھی نہیں لیکن جس پر گولی چلائی اس نے محنت کرکے روپیہ پیسا لگا کر انسانیت کی خدمت کرنے والاڈاکٹر جیسا معزز پیشہ اپنایا ہوا تھا ۔اس گولی نے ثابت کر دیاکہ ہمیں جسمانی علاج کی نہیں بلکہ ذہنی علاج کی ضرورت ہے ۔ ہمیں علم حاصل کرنے والے نہیں چاہیے بلکہ جانور چرانے والے چاہے۔

