شاعری

خورشید بسملؔ   کشمیر۔انڈیا۔

Share your Love

 

 

غزل

 

وہ بشر بے نظیر ہوتا ہے

جسکا زندہ ضمیر ہوتا ہے

اُسکا جینا بھی یار کیا جینا

نفس کا جو اسیر ہوتا ہے۔

نام بدنام پھر تو ہوگا ہی

کام ہی جب حقیر ہوتا ہے

حُسنِ اخلاق کا جو ہو پیکر

وہ تو خیرِ کثیر ہوتا ہے۔

جاہ وحشمت کا اعتبار کہاں

شاہ بھی تو فقیر ہوتا ہے۔

مال و دولت پہ انحصار نہیں

دل سے انساں امیر ہوتا ہے۔

لفظ پر ہوش کا رکھو پہرہ

یہ تو ترکش میں تیر ہوتا ہے۔

شاعری کو جو خون دے بسملؔ

وہ ہی غالبؔ یا میرؔ ہوتا ہے۔

♦♦♦

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *