فوجی شگوفے

شعبہ پاکستان

تحریر: ایس ۔ایم ۔بی

1۔ ایک فوجی کی نظر میں ہمارے غیر فوجی یا سویلین بھائی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو نیم فوجی سویلین اور ایک خالص سویلین۔ نیم فوجی سویلین وہ ہوتے ہیں جن کا کسی نہ کسی حوالے سے فوجیوں اور ان کی روزمرہ کی زندگیوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اسلئے وہ ان کی سوچ اور بات چیت کی اصطلاحات سے ایک حد تک واقف ہوتے ہیں۔ البتہ خالص سویلین، ہمارے وہ بھائی ہوتے ہیں جنہیں فوج اور اسکے طریقہ کار کا قطعا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اسی لیئے ہمارے خالص سویلین بھائیوں کا جب کبھی فوجیوں سے واسطہ پڑتا ہے تو بعض اوقات عجیب شگوفے یا المیے جنم لیتے ہیں اور یہ ہی میری اس تحریر کا موضوع ہے۔

2۔ 1974 میں میری رجمنٹ کھاریاں میں تھی اور میں بحیثیت لیفٹیننٹ رجمنٹ کے کواٹر ماسٹر کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا۔ ایک دن مجھے رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر نے حکم دیا کہ اپنی یونٹ کے فیملی کواٹرز کا چکر لگائوں اور صفائی ستھرائی کے لحاظ سے ان کا معائنہ کر کے رپورٹ پیش کروں۔ یہ حکم سن کر میں کوارٹر ماسٹر جے سی او اور دوسرے متعلقہ عملے کے ہمراہ کواٹروں کے معائنے کے لیئے پہنچ گیا۔ دوران معائنہ، ایک خاتون خاکروب میرے پاس آئیں اور کہا کہ صاحب، فلاں فلاں کواٹر والی بی بی آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں۔ کیونکہ وہ کواٹر ہماری ساتھ والی رجمنٹ کا تھا اسلیئے میں نے خاتون سے کہا کہ وہ کواٹر والی بی بی سے کہیں کہ وہ اپنی شکایت لکھوا دیں اور میں انشااللہ وہ شکایت ان کی رجمنٹ کے کوارٹر ماسٹر تک پہنچا دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد خاکروب خاتون واپس آئیں اور کہا کہ کواٹر والی بی بی آپ سے ہی ملنا چاہتی ہیں۔ اس اسرار نے مجھے عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ پہلے ہی میرا چال چلن رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کی نظروں میں انتہائی مشکوک تھا اور وہ ایک دو دفعہ مجھے آتے جاتے ہوئے دبے دبے لفظوں میں وارننگ دے چکے تھے کہ میں اپنے لچھن سیدھے کر لوں ورنہ وہ بہت سختی سے پیش آئیں گے۔ اسلیئے میں کوئی نئی مصیبت مول لینا نہیں چاہتا تھا۔ بہرحال کواٹر والی بی بی کے بے حد اصرار پر میں ہمت کر کے اپنے کواٹر ماسٹر جے سی او کے ہمراہ کواٹر والی بی بی سے ملنے پہنچ گیا۔ ہمیں دیکھ کر وہ خاتون کواٹر سے باہر آ گئیں اور ہماری حیرانگی اور پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا کیونکہ کواٹروں کی اکثر خواتین پردے کی بڑی پابند ہوتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کواٹر والی بی بی نہ صرف اچھی خاصی فیشن ایبل تھیں بلکہ چہرے بشرہ سے خاصی پڑھی لکھی اور سمجھدار بھی نظر آتی تھیں۔ ہمارے استفسار پر خاتون مجھے مخاطب ہو کر بولیں، بھائی صاحب میں فلاں فلاں فوجی کی بیوی ہوں اور میرے شوہر نے میرے گھر والوں اور میرے ساتھ بڑا دھوکہ کیا ہے۔ مزید استفسار پر خاتون نے بتایا کہ جب ان کے شوہر نامدار رشتہ مانگنے ان کے گھر گئے تھے تو انہوں نے بتایا تھا کہ وہ فوج میں ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہیں اور ثبوت کے طور پر انہوں نے کچھ کاغذات بھی دکھائے تھے۔ آرمرڈ کور (رسالے) میں ایس ڈی ایم یعنی سکواڈرن دفعدار میجر، عام یونٹوں کے کمپنی حوالدار میجر کے مساویانہ عہدہ ہوتا ہے۔ اب چونکہ خاتون کے والدین خالص سویلین تھے اسلیئے وہ سمجھے کہ غالبا ایس ڈی ایم سینیئر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ” سے ملتا جلتا فوج کا کوئی عہدہ ہو گا اس لیئے انہوں نے بخوشی رشتہ قبول کر لیا۔ شادی کے بعد جب خاتوں کراچی سے کھاریاں پہنچیں تو انہیں علم ہوا کہ ان کے شوہر نامدار تو فوج کے سیدھے سادے حوالدار ہیں اور مجسٹریٹی سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ اب چونکہ حوالدار صاحب نے خاتون خانہ کے اڑوس پڑوس میں ملنے جلنے پر سخت پابندی لگا رکھی تھی اسلیئے خاتون نے موقعہ غنیمت جان کر ہمارا سہارا لیا تاکہ اپنی فریاد افسران بالا اور اپنے والدین تک پہنچا سکیں۔ خاتون خانہ کی بپتا سن کر جہاں مجھے دکھ ہوا وہاں ہنسی بھی آئی کیونکہ خاتون بھی سچ کہ رہیں تھیں لیکن جھوٹ ہمارے ایس ڈی ایم صاحب نے بھی نہیں بولا تھا ۔ کواٹروں کے معائنے کے بعد میں نے ساری صورتحال اپنے کمانڈنگ آفیسر کی خدمت میں پیش کر دی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد میں کورس کرنے کےلئے انفنٹری سکول، کوئٹہ روانہ ہو گیا۔ کوررس سے واپسی پر میں نے متعلقہ یونٹ کے ایک دوست افسر سے پوچھا کہ یار وہ تمہاری یونٹ والے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کی زوجہ محترمہ کی شکایت کا کیا بنا تو اس نے مجھے ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ حوالدار صاحب پرموشن کے نزدیک تھے اس لیئے انہیں ترقی دے کر نائب رسالدار بنا دیا گیا اور ایک بڑا کواٹر بھی الاٹ کر دیا گیا۔ وہ خاتون اب مطمئن ہیں کہ چلو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی نہ سہی مگر اب وہ ایک جونئیر کمیشنڈ افسر کی بیوی ہیں۔

3۔ فوجی اصطلاحات سے ناواقفیت کا ایک اور واقعہ مجھے اس وقت پیش آیا جب میں ٹیکسلا کے ایک معروف دفاعی پیداوار کے ادارے میں سروس کر رہا تھا۔ ایک دن ہماری بیگم صاحبہ کے چچا محترم نے فون کر کے اطلاع دی کہ وہ بمع اہل خانہ لاہور سے راولپنڈی آئے ہوئے ہیں اور ہمیں ملنے کے لئے ٹیکسلا آنا چاہتے ہیں۔ چونکہ چچا جان پہلی بار ٹیکسلا تشریف لا رہے تھے اسلیئے میں نے اپنا پتہ سمجھاتے ہوئے انہیں بتایا کہ جیسے ہی آپ جی ٹی روڈ سے خانپور ڈیم والی سڑک پر مڑیں گے تو تقریبا ایک کلومیٹر کے بعد آپ کو سڑک کے دائیں ہاتھ ایک ٹینک نظر آئے گا جس کے ساتھ ہی ہمارے ادارے کا 4 نمبر گیٹ ہے۔ آپ گیٹ پر کھڑے فوجی سنتری سے میرے گھر کا پوچھ لیں، وہ آپ کو گائیڈ کر کے میرے گھر تک پہنچا دے گا کیونکہ میرا گھر گیٹ کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ کافی دیر کے بعد مجھے چچا جان کا موبائل فون پر پیغام ملا کہ برخوردار ہم بتلائی گئی سڑک پر سفر کرتے کرتے خانپور ڈیم تک پہنچ گئے ہیں لیکن ہمیں تو کوئی ٹینک وغیرہ نظر نہیں آیا ۔ خانپور ڈیم ٹیکسلا کینٹ سے تقریبا 15 یا 20 کلومیٹر ہری پور کی جانب واقع ہے۔ چچا جان کی بات سن کر میں بڑا حیران ہوا مگر بحث میں الجھنے کی بجائے میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ اسی سڑک پر واپس تشریف لے آئیں، میں سڑک پر کھڑا آپ کا انتظار کر رہا ہوں ۔ تھوڑی دیر کے بعد جب چچا جان واپس پہنچے تو میں نے گیٹ کے سامنے نصب الضرار ٹینک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ بھلا اتنا بڑا ٹینک کیسے انہیں نظر نہیں آیا ۔ اس پر چچا جان بڑی معصومیت سے بولے ” برخوردار ہم تو پانی والے کسی واٹر ٹینک کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمیں کیا خبر کہ ٹینک سے آپ کی مراد فوجی ٹینک تھا”۔ چچا جان کی بات سن کر مجھے احساس ہوا کہ واقعی ہماری فوج کی کچھ اصطلاحات ایسی ہوتی ہیں جو ہم فوجیوں کے لیئے تو معمول کی بات ہوتی ہیں لیکن جب ہمارے کسی خالص سویلین بھائی کو ان سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ بےچارہ الجھ کے رہ جاتا ہے۔

4۔ روزمرہ کی فوجی زبان، سول معاشرے کے ماحول میں کیا گل کھلاتی ہیں اس سے وابستہ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک فوجی حوالدار چھٹی پر اپنے گاوں گیا ۔ حوالدار بننے کے بعد یہ اس کی پہلی چھٹی تھی۔ رات اس کی ماں بڑے چاہ سے اپنے بیٹے کو سامنے بٹھا کر کھانا کھلانے لگی۔ وہ نیک بخت بڑی محبت سے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے سالن پلیٹ میں ڈال کر دے رہی تھی کہ کچھ دیر بعد حوالدار صاحب گرج دار آواز میں بولے ” اماں ہالٹ (Halt)”. ماں نے سمجھا کہ شائد بیٹا “ہور” سالن مانگ رہا ہے اور اس نے پلیٹ میں کچھ مزید سالن ڈال دیا۔ حوالدار صاحب پھر گرجے ” اماں ہالٹ” اور ماں نے پہلے کی طرح مزید سالن پلیٹ میں ڈال دیا۔ تنگ آ کر حوالدار صاحب بولے ” اماں، میرے ایک دفعہ ہالٹ کہنے سے 37 بندوں کی پلاٹون ایک دم رک جاتی ہے لیکن بار بار ہالٹ کہنے کے باوجود تمہاری ایک ڈوئی رکنے کا نام نہیں لیتی”. ان بیان کردہ حالات اور واقعات کے پس منظر میں چند فوجی اصطلاحات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ہم فوجیوں کے لیے تو شائد عام سی بات ہوں لیکن ہمارے خالص سیولین بھائی ان سے یقینا لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور ان کےعلم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

5۔ ایک مشہور فوجی اصطلاح “لنگر گپ” کے نام سے مشہور ہے۔ لنگر گپ سے مراد وہ افواہیں ہیں جو جو ہمارے فوجی لنگروں یعنی ڈائننگ ہال میں کھانے کے درمیان جنم لیتی ہیں اور پھر سینہ بسینہ پوری فوجی یونٹ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں۔ ان کم بخت افواہوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثر سچ ثابت ہو جاتی ہیں۔ ان افواہ ساز فیکٹریوں کے لیئے خام مال یونٹ کے کلرک صاحبان، آفس رنر یا پھر افسروں کے ساتھ کام کرنے والے ان کے بیٹ مین مہیا کرتے ہیں۔ اب چونکہ فوج میں بیٹ مین والا سسٹم ختم کر دیا گیا ہے اسلیئے جہاں ایک طرف فوجی افسران کی بیگمات کو “سیاپا” پڑ گیا ہے وہاں ان افواہ ساز فیکٹریوں کے لیئے خام مال کا ایک اہم ذریعہ بھی بند ہو گیا ہے کیونکہ جو کوئی جتنے سینئر افسر کا بیٹ مین ہوتا تھا وہ اتنا ہی عمدہ خام مال بھی مہیا کرتا تھا ۔ بہرحال، حالات چاہے جیسے بھی ہوں، فوج سے لنگر گپ کا سلسلہ نہ کبھی بند ہوا ہے اور شائد نہ کبھی ختم ہو گا۔

7۔ ایک اور مشہور فوجی اصطلاح “دربار ” کی ہے۔ ہمارے خالص سیولین بھائی صرف دو طرح کے درباروں سے ہی واقف ہوتے ہیں یعنی کسی پیر فقیر کا دربار یا پھر کسی بادشاہ کا دربار۔ اسلیئے جب وہ کسی فوجی دربار کا سنتے ہیں تو عجیب مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فوجی دربار سے مراد اس خطاب کی ہے جو مختلف عہدوں پر فائض فوجی افسران فوجیوں کے کسی اجتماع سے کرتے ہیں تاکہ مختلف حالات و واقعات کے متعلق انہیں اپنے خیالات سے آگاہ کر سکیں۔ افسر کے خطاب کے بعد سوالات و جوابات کا مختصر دور چلتا ہے جو سینئر افسران کے دربار کے دوران ساقط کر دیا جاتا ہے۔ ذیادہ تر دلچسپ سوالات اور جوابات کا سلسلہ یونٹ دربار تک ہی محدود ہوتا ہے ۔ سوال پوچھنے والا جوان کھڑے ہو کر پہلے سلیوٹ کرتا ہے پھر اپنا نمبر، رینک، نام اور کمپنی کا تعارف کرواتا ہے تاکہ جنہوں نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی ہے انہیں کسی قسم کا شک نہ رہے۔ یونٹ کے دربار میں کھڑے ہو کر کوئی شکایت کرنا یا کوئی سوال پوچھنا درحقیقت بڑے حوصلے کا کام ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے ہی کوئی جوان دربار میں کھڑا ہوتا ہے تو کمپنی کمانڈر سے لیکر پلاٹون حوالدار تک، سب اسے انتہائی خونخوار نظروں سے گھورنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان نظروں کی تاب نہ لا کر اکثر جوان یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور پھر آئیں بائیں شائیں کر کے فورا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب یہ دربار لینے والے کمانڈر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس آئیں بائیں شائیں سے کیا سمجھتا ہے اور اس کا کیا جواب دیتا ہے۔ اکثر شکایات چھٹی نہ ملنے اور یونٹ کا کھانا خراب ہونے سے متعلق ہوتی ہیں۔ فوجی درباروں کی اہمیت بہرحال انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ اس موقعہ پر ہی یونٹ کے تمام اہم امور اور مسائل کو زیر بحث لا کر ان کا مناسب حل تلاش کیا جاتا ہے۔

8۔ میں 1965 سے 1970 تک ملٹری کالج جہلم کا طالب علم رہا۔ ملٹری کالج کی زندگی بھی دراصل ایک مخصوص حد تک فوجی زندگی کا ہی عکس ہے۔ ہمارے کالج کی ایک مشہور اصطلاح “کمبل پریڈ” ہوا کرتی تھی۔ اس واردات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ چند طالب علم کسی ناپسندیدہ شخصیت کے حامل طالب علم پر رات کے وقت کسی تنہا جگہ کو دیکھ کر اس پر کمبل ڈال دیتے تھے اور پھر وارداتی گروہ کے طلباء حسب توفیق اس عتاب زدہ طالب علم کی لاتوں، گھونسوں اور مکوں سے خوب توازو فرما تے تھے ۔ یہ واردات اتنی سرعت اور مہارت سے کی جاتی تھی کہ بےچارہ مار کھانے والا آخر تک سمجھ نہ پاتا تھا کہ اسے کون کون مار رہا ہےاور کیوں مار رہا ہے۔ یہ پریڈ جتنی اچانک اور سرعت سے شروع کی جاتی تھی، اتنی ہی جلدی ختم بھی کر دی جاتی تھی کیونکہ مقصد کسی کو نقصان پہچانا نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف وارننگ دینا ہوتا تھا کہ تم سدھر جائو۔ اس مشہور اصطلاح کا ذکر میں نے فوج میں بھی سنا لیکن پوری سروس کے دوران نہ تو کبھی خود کسی ایسی واردات میں حصہ لیا اور نہ ہی کسی ایسے مظلوم سے واسطہ پڑا جو اسے جھیل چکا ہو۔ میرے خیال میں یہ اصطلاح فوج سے متروک ہو چکی ہے لیکن آجکل اپنے اردگرد پھیلے معاشرتی حالات کو جب دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ اس اصطلاح کو نہ صرف دوبارہ زندہ کیا جائے بلکہ ایک قومی ضرورت بھی قرار دیا جائے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

9۔ آرمی کی طرح نیوی اور ایئر فورس کی بھی اپنی مخصوص اور دلچسپ اصطلاحات ہیں جن پر کوئی نیوی یا ایئر فورس والا ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ ایک دفعہ میں اپنی بیگم صاحبہ کے چھوٹے بھائی جو نیوی میں تھے، ملنے گیا۔ مجھے دفتر میں بٹھا کر انہوں نے گھنٹی بجائی اور آفس بوائے کے حاضر ہونے پر اسے حکم دیا کہ دو سٹینڈ ایزی لے آئو اور ٹوپس کو کہو کہ فلاں فلاں جگہ کی صفائی ٹھیک نہیں ہوئی اسے دوبارہ صاف کرے۔ میرے استفسار پر انہوں نے وضاحت فرما تے ہوئے مجھے بتایا کہ چائے وغیرہ اور کچھ کھانے پینے کے لوازمات، جن کو ہم فوج میں ٹی بریک کہتے ہیں اسے نیوی میں سٹینڈ ایزی کہا جاتا ہے اور خاکروب کو نیوی میں ٹوپس کہا جاتا ہے۔ الغرض افواج کی زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے قائم ہے اور ان سے سہی معنوں میں لطف اٹھانے کے لیئے ضروری ہے کہ اس زندگی کو قریب سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس زندگی سے لطف اٹھا رہے ہیں یا اٹھا چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *